لیفٹیننٹ گورنر نے بڈگام میں’ میگا پدیاترا ‘میں شرکت کی اور منشیات کے سمگلروں کے خلاف سخت کارروائی کا عہد کیا

ضلع بڈگام کے تمام لوگوں کو منشیات کے اس زہر کے خلاف متحد ہو کر کھڑا ہونا چاہیے جو ہمارے نوجوانوں کو تباہ کر رہا ہے

سری نگر// لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہانے بڈگام میں منشیات سے پاک جموں و کشمیر مہم کے سلسلے میں ایک بڑی عوامی تحریک میں شامل ہوئے اور شہریوں کو یقین دِلایا کہ اِنتظامیہ کا ہر شعبہ اس مسئلے سے نمٹنے اور اس خطرے کو مؤثر طریقے سے ختم کرنے کے لئے عزم اور یکجہتی کے ساتھ کام کرے گا۔اُنہوں نے بڈگام کے ہرکنبے، سماجی تنظیم، روحانی اور سیاسی رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ ضلع بھر میں منشیات سے پاک جموں و کشمیر مہم کو مزید تیز کریں اور انہیں یقین دِلایا کہ اِنتظامیہ اپنی پوری طاقت کے ساتھ منشیات کے خاتمے کے لئے پُرعزم ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے ہر گاؤں اور شہر میں جہاں ممکن ہو ایک غیر رسمی’’ پیرنٹس بریگیڈ’ کے قیام کا بھی اعلان کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ اس کا مقصد والدین، خواتین اور نوجوانوں کا ایک رضاکارانہ نیٹ ورک بنانا ہے جنہیں گائوں یا وارڈوں میں منشیات کے اِستعمال کی اِبتدائی علامات کی نشاندہی کرنے اور فوری طور پرکنبوںکو وسائل سے جوڑنے کیلئے تربیت اور بااِختیار بنایا جائے گا۔

منوج سِنہا نے کہا کہ ضلع بڈگام کے تمام لوگوں کو منشیات کے اس زہر کے خلاف متحد ہو کر کھڑا ہونا چاہیے جو ہمارے نوجوانوں کو تباہ کر رہا ہے۔اُنہوں نے کہا،’’میرا یقین ہے کہ نشے کی لت کا شکار ہر نوجوان ہمارے مستقبل کی اَفرادی قوت کی طاقت میں کمی اور ہماری پولیس و فوج کے لئے ایک سپاہی کا نقصان ہے۔ نشے کی وجہ سے ٹوٹنے والا ہر کنبہ ہمارے معاشرے کی بنیاد میں دراڑ ہے۔‘‘

لیفٹیننٹ گورنر نے کہاکہ منشیات کے خلاف اس جنگ میں معاشرے کو اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگاکہ بہت سے لڑکے اور لڑکیاں نشہ آور اشیائٔ کی گرفت میں ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اس حقیقت کو تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کیوں کہ وہ ہمارے اَپنے بچے ہیں۔ وہ مجرم نہیں بلکہ متاثرین ہیں اور انہیں ہماری محبت، ہمدردی اور نگہداشت کی ضرورت ہے۔اُنہوں نے مزید کہا، ’’عوام کو اِس بدنامی کا خاتمہ کرنا ہوگا تاکہ اگر کوئی کنبہ اس مسئلے سے دوچار ہو تو وہ خاموشی میں تکلیف نہ سہے۔ یہ روایت بدلنی ہوگی کیوں کہ موجودہ حالات میں خاموشی سے اس مسئلے پر قابو نہیں پایا جا سکتا،عوام کو اپنی آواز بلند کرنی ہوگی۔‘‘

منوج سِنہا نے مزید کہا کہ منشیات کی لت صرف ایک صحت کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ قومی سلامتی کا بحران بھی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں داخل ہونے والی منشیات نہ صرف نوجوانوں کے خوابوں کو کھوکھلا کرتی ہیں اور ان کے خوداعتماد کو نقصان پہنچاتی ہیں بلکہ منشیات کی کاروباری دہشت گردی اور انتہاپسندی کو بھی فنڈ فراہم کر رہی ہے۔اُنہوں نے کہا،’’پوری دُنیا جانتی ہے کہ ہمارا پڑوسی جو دہشت گردی کا بڑا سرپرست ہے، جموں و کشمیر میں منشیات کی سمگلنگ کر رہا ہے۔ منشیات کی سمگلنگ اور دہشت گردی کی فنڈنگ اَب الگ الگ مسائل نہیں ہیں بلکہ یہ ایک ہی دشمن کے دو ہاتھ ہیں۔ ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ جب ہم منشیات کے خلاف لڑتے ہیں تو ہم دہشت گردی کے خلاف بھی لڑرہے ہیں۔ جب ہم اَپنے نوجوانوں کی حفاظت کرتے ہیں تو اَپنی قوم کی حفاظت کرتے ہیں۔‘‘

لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ انہوں نے 24 دن پہلے 11 ؍اپریل کو جموں میں اس یقین کے ساتھ منشیات سے پاک جموں و کشمیر مہم کا آغاز کیا کہ کوئی بھی دشمن ،چاہے کتنا ہی سازشی کیوں نہ ہو،متحد معاشرے کے سامنے نہیں ٹھہر سکتا۔اُنہوں نے کہا،’’صرف قانون عملانے وا لی ایجنسیاں یہ جنگ نہیں جیت سکتیں، تنہا اِنتظامیہ بھی نہیں جیت سکتی۔لیکن ہر اُستاد، والدین، روحانی پیشوا، بزرگ، ڈاکٹر، نوجوان اور عورت مل کر ایک ناقابل تسخیر قوت بنتے ہیں اور مجھے پورا یقین ہے کہ بڈگام اس مہم کو اسی جذبے کے ساتھ آگے لے جائے گا۔‘‘ اُنہوں نے کہا کہ اس 100 روزہ مہم میں لوگوں کے پاس 76 دِن باقی ہیں اور ان 76 دِنوں میں ہمیں یہ ثابت کرنا ہوگا کہ جب معاشرہ کسی سماجی برائی کے خلاف لڑنے کا فیصلہ کرتا ہے تو ہر شہری کی جیت ہوتی ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’میں نے وادیٔ کشمیر کے ہر تھانے کو ہدایت دی ہے کہ وہ اَپنے دائرہ اِختیار میں سرگرم منشیات فروشوں اور سمگلروں کی مکمل معلومات اکٹھی کریں اور 30 دِنوں کے اندر فیصلہ کن کارروائی کریں۔ ہم منشیات کے کارٹیلوں کے ہر مالی لین دین پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور کارروائی صرف چھوٹے پیمانے کے فروشوں کے خلاف نہیں بلکہ بڑے سمگلروں کے خلاف بھی یقینی بنائی جائے گی۔ منشیات کے پیسے سے بنائے گئے محلات کو زمین بوس کیا جائے گا۔‘‘اُنہوں نے ہر شہری پر زور دیاکہ وہ بیداری مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور پولیس و اِنتظامیہ کی آنکھیں اور کان بنیں۔

لیفٹیننٹ گورنر نے کہا، ’’اگر آپ کو بڈگام کے کسی بھی کونے میں کوئی مشکوک سرگرمی نظر آئے تو فوراً اطلاع دیں۔ آپ کے تعاون سے یہ یقینی بنایا جائے گا کہ بڈگام کے کسی بھی گاؤں، محلے یا کالج کے آس پاس کوئی منشیات فروش باقی نہ رہے۔ میں بڈگام میں سرگرم منشیات سمگلروں، نشہ آور دہشت گردی کے نیٹ ورک سے جُڑے عناصر اور منشیات فروشوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ بڈگام کی سرزمین پر آپ کا وقت ختم ہو چکا ہے۔ ہماری ایجنسیوں کو معلوم ہیں کہ آپ کون ہیں۔ ہماری اِنتظامیہ آپ کے خلاف کارروائی کے لئے آ رہی ہے اور آج میں بڈگام کے ہر شہری سے وعدہ کرتا ہوں کہ کوئی بھی منشیات سمگلر جوابدہی سے نہیں بچ سکے گا۔‘‘