وندے بھارت ٹرین کے اننت ناگ میں اسٹاپ کا مطالبہ

وندے بھارت ٹرین کے اننت ناگ میں اسٹاپ کا مطالبہ

جنوبی کشمیر کے عوام، تاجر،سابق بیروکریٹ اورسیاسی لیڈراںیک آواز

سرینگر// یو این ایس//جموں،سری نگر وندے بھارت ایکسپریس کے اننت ناگ میں اسٹاپ نہ دینے پر ساؤتھ کشمیر میں شدید ردِعمل سامنے آیا ہے، جہاں سول سوسائٹی، تاجر برادری اور سیاسی رہنماؤں نے اس فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔رپورٹس کے مطابق حکام کی جانب سے اسٹاپس کو حتمی شکل دیتے وقت اننت ناگ اسٹیشن کو شامل نہیں کیا گیا، جس کے بعد اس اہم ضلع میں ٹرین کے قیام کے لیے آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ ریلوے وزیر اشونی ویشنوئی نے ادھم پور کو اسٹاپ کے طور پر شامل کرنے کا اعلان کیا، تاہم اننت ناگ کے مطالبے کو نظرانداز کیا گیا۔گروپ آف کنسرنڈ سٹیزنز (جی سی سی) جموں و کشمیر نے وندے بھارت سروس کے آغاز کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اننت ناگ کو شامل نہ کرنے سے جنوبی کشمیر کے اضلاع اننت ناگ، کولگام، شوپیان اور پلوامہ کے لوگوں کو غیر ضروری طور پر سری نگر تک سفر کرنا پڑ رہا ہے۔یو این ایس کے مطابق جی سی سی کے رکن اور سابق بیوروکریٹ خورشید احمد گنائی نے کہا کہ وہ اس معاملے کو مسلسل اٹھائیں گے اور ضرورت پڑنے پر مرکزی وزارتِ ریلوے سے بھی رجوع کیا جائے گا۔ ایک اور رکن لطیف الزمان دیوا نے بتایا کہ اس حوالے سے چیف سیکریٹری اور ریلوے حکام سے بھی بات کی جا چکی ہے۔تاجر برادری نے بھی اس مطالبے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی کشمیر میں ایک مضبوط اور متحد آواز ابھر کر سامنے آئی ہے۔ اننت ناگ ٹریڈرز اینڈ مینوفیکچررز فیڈریشن کے چیئرمین حکیم سجاد احمد شاہ نے کہا کہ اننت ناگ میں اسٹاپ دینے سے نہ صرف رابطہ بہتر ہوگا بلکہ سیاحت کو فروغ ملے گا اور مریضوں، طلبہ اور تاجروں کو بھی سہولت ملے گی۔انہوں نے کہا کہ اننت ناگ ایک بڑا تجارتی مرکز ہے اور اسے اس اہم سروس میں نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔اننت ناگ،راجوری کے رکن پارلیمان میاں الطاف نے بھی اس حوالے سے پہلے اور بعد میں ریلوے حکام کو خطوط لکھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اننت ناگ میں اسٹاپ دینے سے جنوبی کشمیر کے وسیع آبادی والے علاقے کو مساوی سہولیات فراہم ہوں گی۔ادھر سینئر کانگریس رہنما اور دورو کے رکن اسمبلی غلام احمد میر نے بھی ریلوے وزیر کو لکھے گئے خط میں اس مطالبے کو دہرایا۔ انہوں نے کہا کہ اسٹاپ نہ ہونے سے طلبہ، تاجر، ملازمین، سیاح اور مریض متاثر ہو رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اننت ناگ ایک اہم تجارتی اور سیاحتی مرکز ہے اور پہلگام، ویر ناگ، ڈکسم اور کوکرناگ جیسے سیاحتی مقامات کا دروازہ بھی ہے، اس لیے یہاں اسٹاپ دینا ناگزیر ہے۔ریلوے حکام کے مطابق فی الحال یہ ٹرین جموں تاوی سے سری نگر تک چلتی ہے اور راستے میں ادھم پور، کٹرا، ریاسی اور بانہال میں رْکنے کے بعد سری نگر پہنچتی ہے۔ جموں،سری نگر ریلوے لائن تقریباً 267 کلومیٹر طویل ہے جس میں 27 اسٹیشن شامل ہیں، تاہم بانہال سے سری نگر کے درمیان تقریباً 78 کلومیٹر کا فاصلہ بغیر کسی اسٹاپ کے طے کیا جاتا ہے۔اننت ناگ، جو بانہال اور سری نگر کے درمیان سب سے بڑا اسٹیشن ہے، جنوبی کشمیر کے اضلاع کیلئے ایک مرکزی حیثیت رکھتا ہے اور امرناتھ یاترا کے راستے پر بھی واقع ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہاں اسٹاپ دینے سے نہ صرف علاقائی توازن برقرار ہوگا بلکہ ریلوے سروس سے زیادہ سے زیادہ عوام مستفید ہو سکیں گے۔