چیف سیکرٹری کا زہان پورہ آثارِقدیمہ کے مقام کا دورہ

چیف سیکرٹری کا زہان پورہ آثارِقدیمہ کے مقام کا دورہ

بارہمولہ// چیف سیکرٹری اَتل ڈولو نے بارہمولہ کے زہان پورہ میں جاری آثار قدیمہ کی کھدائی کے مقام کا دورہ کیا تاکہ کھدائی کے کام کی پیش رفت کا جائزہ لیا جا سکے، اس مقام کی تاریخی اور آثار قدیمہ کی اہمیت کا جائزہ لیا جا سکے اور کھدائی کے مرحلہ دوم کا آغاز کیا جا سکے۔اس دورے میں وائس چانسلر کشمیر یونیورسٹی ، پرنسپل سیکرٹری محکمہ ثقافت ،ضلع ترقیاتی کمشنر بارہمولہ، ڈائریکٹر آرکائیوز، آرکیالوجی اینڈ میوزیمز، ایس ایس پی بارہمولہ، ایس ڈِی ایم اوڑی، کشمیر یونیورسٹی اور گورنمنٹ ڈگری کالج بارہمولہ کے فیکلٹی ممبران کے علاوہ دیگر متعلقہ افسران اور ملازمین بھی موجود تھے۔زہان پورہ بارہمولہ کے علاقے میں ایک اہم آثارِ قدیمہ مقام ہے اور اس میں گزشتہ ادوار میں اس علاقے میں آباد کمیونٹیوںکے رہائشی نمونوں، مادی ثقافت، ٹیکنالوجی اور طرز زندگی کے بارے میں قیمتی معلومات فراہم کرنے کی کافی صلاحیت موجود ہے۔ایسے مقامات پر آثارِ قدیمہ کی کھدائی کے ذریعے محققین مادی باقیات کی مدد سے ماضی کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان باقیات میں تعمیراتی ڈھانچے، برتن، اوزار، دھاتی اشیا، اِنسانی ڈھانچے اور دیگر آثارِ قدیمہ کے ذخائر شامل ہوتے ہیں جو خطے کی تاریخ اور ثقافتی ارتقا کو ازسرِنو مرتب کرنے میں مدد دیتے ہیں۔زہان پورہ میں کھدائی کے پہلے مرحلے میں کئی اہم دریافتیں ہوئیں جس سے سائٹ کی نوعیت اور یہاں رہنے والے لوگوں کی سرگرمیوں کے بارے میں اہم اشارے ملے ہیں۔قابل ذِکر نمایاں دریافتوں میں سے ایک پتھر کی دیوار تھی جو قدرتی طور پر دستیاب پتھروں او رکنکر سے تعمیر کی گئی تھی ۔ یہ باقیات اس مقام پر تعمیراتی سرگرمیوں کا ثبوت فراہم کرتی ہیں اور ماہرین آثار قدیمہ کو بستی کی ترتیب اور عمارت سازی کے طریقوں کو سمجھنے میں مدد دے سکتی ہیں۔کھدائی کے دوران لوہے کی متعدد کیلیں بھی برآمد ہوئیںجو اس دور میں لوہے سے بنی اشیا کے اِستعمال کی نشاندہی کرتی ہیں اور اس زمانے کی تکنیکی مہارت اور مادی ثقافت کے بارے میں معلومات فراہم کرتی ہیں۔ آثارِ قدیمہ کے ذخائر سے مٹی کے برتنوں کے کئی ٹکڑے بھی برآمد ہوئے جو مقام کی زمانی ترتیب، ثقافتی روایات اور یہاں آباد کمیونٹیوں کی روزمرہ زِندگی کو سمجھنے کے لئے اہم شواہد تصور کئے جاتے ہیں۔
مرحلہ اوّل کے دوران سب سے اہم دریافتوں میں سے ایک کھدائی کے علاقے سے برآمد ہونے والا اِنسانی ڈھانچہ تھا۔ یہ دریافت آثار قدیمہ میں کافی اہمیت کی حامل ہے کیوں کہ اِنسانی ڈھانچے تدفین کے طریقوں ،صحت طرز زِندگی اور ماضی کی آبادیوں کی حیاتیاتی خصوصیات کے بارے میں قیمتی معلومات فراہم کر سکتے ہیں۔ باقیات کی مزید سائنسی جانچ سے اس فرد اور اس سیاق و سباق کے بارے میں اِضافی معلومات ملنے کی توقع ہے جس میں یہ ڈھانچہ پایا گیا تھا۔پہلے مرحلے میں حاصل ہونے والی دریافتوں کی بنیاد پر اَب کھدائی کے دوسرے مرحلے کا آغاز کیا گیا ہے۔ اِس مرحلے کا مقصد آثارِ قدیمہ کے ذخائر کا مزید تفصیلی مطالعہ کرنا اور اس مقام کی تاریخی اہمیت کو زیادہ گہرائی سے سمجھنا ہے۔ کھدائی میںآثارِ قدیمہ کی باقیات اور ثقافتی تہوں کا منظم تحقیق، سائنسی دستاویزات اورثقافتی تہوں کا تجزیہ کیا جائے گا۔کھدائی کے عمل کو جاری رکھنے سے آبادی کی نوعیت اور وسعت کے بارے میں مزید شواہد ملنے کی توقع ہے۔ اس کے علاوہ محققین کو اس مقام کی زمانی ترتیب، فنِ تعمیر، مادی ثقافت اور اِنسانی پیشے کے نمونوں کی واضح تفہیم قائم کرنے میں مدد ملے گی۔چیف سیکرٹری نے اِجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کشمیر کی شاندار ثقافتی ورثے کو سمجھنے میں آثار قدیمہ کی تحقیق کی اہمیت پر زور دیا اور فیلڈ پر مبنی تحقیق کو فروغ دینے اور طلبأ اور سکالروں کو آثار قدیمہ کے کام سے عملی طور پرروشناس کرنے میں یونیورسٹیوں کے کردار کو اُجاگر کیا۔ اُنہوں نے مسلسل تحقیق، تحفظ اور بیداری کے اقدامات کے ذریعے اس علاقے کی تاریخی اور ثقافتی ورثے کو وسیع تر عوامی توجہ کی طرف لانے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
ڈائریکٹر سینٹر فار آرکیالوجیکل سٹیڈیزنے مقام کی منظم اور سائنسی بنیادوں پر کھدائی، دریافتوں کی مناسب دستاویز ات اور آثارِ قدیمہ کی باقیات کے تحفظ و حفاظت کے لئے مناسب اقدامات اِختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ڈائریکٹر ایس پی ایس میوزیم نے بھی آثارِ قدیمہ کی دریافتوں کی مناسب دستاویز ات، حفاظت اور تحفظ کی اہمیت کو اُجاگر کیا تاکہ برآمد ہونے والے مواد کا سائنسی طور پر مطالعہ کیا جا سکے اور اسے آنے والی نسلوں کے لئے محفوظ رکھا جا سکے۔ضلعی اِنتظامیہ نے کھدائی کے عمل کو خوش اسلوبی سے جاری رکھنے اور آثارِ قدیمہ کے مقام کے تحفظ کے لئے ہر ممکن تعاون اور معاونت فراہم کرنے کا یقین دِلایا۔محکمہ ثقافت، کشمیر یونیورسٹی، آرکائیوز، آرکیالوجی اینڈ میوزیمز اور ضلعی اِنتظامیہ کے سینئراَفسران کی موجودگی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ آثارِ قدیمہ کی تحقیق اور خطے کے امیر ثقافتی ورثے کے تحفظ و فروغ کو کتنی اہمیت دِی جا رہی ہے۔