سرحد پاردہشت گردی کیخلاف سخت موقف پر بھارت قائم
سرینگر//یواین ایس / سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے معاملے پر پاکستان نے ایک بار پھر عالمی برادری سے مداخلت اور حمایت کی اپیل کی ہے، جبکہ بھارت نے واضح کیا ہے کہ سرحد پار دہشت گردی کے خاتمے تک معاہدے کی کارروائیاں بحال نہیں کی جائیں گی۔ پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے امریکہ میں پاکستانی سفارتخانے کی جانب سے منعقدہ ایک آن لائن سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سندھ طاس معاہدے کو زیرِ التوا رکھنے کے بھارتی فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اپریل 2025 میں بھارت کی جانب سے معاہدے کو یکطرفہ طور پر ’’التوا‘‘ میں رکھنے کی کارروائی کی معاہدے میں کوئی بنیاد موجود نہیں۔اسحاق ڈار نے کہا کہ سندھ طاس خطہ پاکستان کے 25 کروڑ سے زائد عوام کے لیے زندگی کی بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی زراعت، غذائی تحفظ، توانائی کی پیداوار، روزگار اور معاشی ترقی کا انحصار دریائے سندھ کے نظام کے پانی پر ہے، اس لیے آبی تحفظ پاکستان کے معاشی، غذائی اور قومی تحفظ سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستان کو سندھ طاس معاہدے کے تحت مختص پانی سے محروم کرنے کی کوئی کوشش کی گئی تو اس کے خطے کے امن و سلامتی پر سنگین اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مشترکہ آبی وسائل کو تنازع یا محاذ آرائی کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔پاکستانی وزیر خارجہ نے موسمیاتی تبدیلی کو بھی پاکستان کے آبی مسائل میں اضافے کی ایک بڑی وجہ قرار دیا۔ ان کے مطابق بارشوں کے بدلتے ہوئے انداز، گلیشیئرز کا پگھلاؤ، تباہ کن سیلاب، طویل خشک سالی اور پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتحال پہلے سے دباؤ کا شکار آبی نظام کے لیے مزید مشکلات پیدا کررہی ہیں۔اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان پْرامن حل کے لیے پرعزم ہے اور اس کا مؤقف ہے کہ پائیدار امن خودمختاری، باہمی احترام اور بین الاقوامی ذمہ داریوں پر عمل درآمد سے ہی ممکن ہے۔ پاکستان نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ سندھ طاس معاہدے اور بین الاقوامی قانون کے تحت اپنے جائز حقوق اور مفادات کا تحفظ جاری رکھے گا۔ دوسری جانب بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھنے کے اپنے فیصلے پر مضبوطی سے قائم رہتے ہوئے اس کا تعلق سرحد پار دہشت گردی سے جوڑا ہے۔ نئی دہلی کا کہنا ہے کہ معاہدے کی بحالی اس وقت تک نہیں ہوگی جب تک پاکستان اپنی سرزمین سے سرگرم سرحد پار دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف قابلِ تصدیق اور ناقابلِ واپسی کارروائی نہیں کرتا۔بھارت نے اپریل 2025 میں پہلگام دہشت گرد حملے کے بعد سندھ طاس معاہدے کو ’’التوا‘‘ میں رکھنے کا اعلان کیا تھا۔ اس حملے میں 26 شہری ہلاک ہوئے تھے۔ بھارت نے اس فیصلے کو دہشت گردی کے خلاف اپنی وسیع تر پالیسی کا حصہ قرار دیا ہے اور یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ دہشت گردی اور معمول کے دوطرفہ تعاون کو بیک وقت جاری نہیں رکھا جاسکتا۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ 1960 سے دونوں ملکوں کے درمیان دریاؤں کے پانی کی تقسیم کا بنیادی فریم ورک ہے اور اسے یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستان کے امریکہ میں سفیر رضوان سعید شیخ نے بھی حالیہ بیان میں کہا کہ معاہدے میں کسی ایک فریق کو یکطرفہ طور پر اسے معطل یا ’’التوا‘‘ میں رکھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ یوں سندھ طاس معاہدے کا معاملہ بھارت اور پاکستان کے درمیان جاری سفارتی کشیدگی کا ایک اہم پہلو بن گیا ہے۔ پاکستان عالمی سطح پر اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے حمایت حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے، جبکہ بھارت دہشت گردی کے خاتمے کو آبی تعاون کی بحالی سے جوڑتے ہوئے اپنے مؤقف پر قائم ہے۔










