narvani

پاکستان کے حوالے سے بھارت کی حکمتِ عملی

آپریشن سندور نے اہم تبدیلی کی عکاسی کی/ سابق آرمی چیف نروانے

سرینگر/یو این ایس / سابق بھارتی آرمی چیف جنرل ایم ایم نروانے نے کہا ہے کہ آپریشن سندور نے پاکستان کے حوالے سے بھارت کی حکمتِ عملی میں ایک ’’بڑی اور اہم تبدیلی‘‘ کی عکاسی کی ہے۔ ان کے مطابق اس کارروائی میں صرف سرحد کے قریب موجود دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ نہیں بنایا گیا بلکہ پاکستان کے اندر دور تک ان عناصر اور ان کے معاونین کو بھی ہدف بنایا گیا جو دہشت گردی کی پشت پناہی کرتے ہیں۔وڈودرا میں ایک نجی تقریب میں شرکت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جنرل نروانے نے کہا کہ پہلگام دہشت گرد حملے کے بعد کیا گیا آپریشن سندور ایک ضروری کارروائی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس کارروائی سے یہ واضح ہوا کہ دہشت گردوں کو مدد اور حمایت فراہم کرنے والے افراد چاہے کہیں بھی موجود ہوں، بھارتی کارروائی سے بچ نہیں سکتے۔سابق آرمی چیف نے کہا کہ اس سے قبل بھارت کا فوجی ردعمل زیادہ تر سرحد کے قریب موجود دہشت گردوں کے ٹھکانوں تک محدود رہا ہے۔ انہوں نے اْڑی حملے کے بعد کی کارروائی اور پلوامہ حملے کے بعد بالاکوٹ میں کیے گئے فضائی حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت بنیادی طور پر سرحد کے نزدیک موجود دہشت گردی کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا تھا۔جنرل نروانے نے کہا کہ آپریشن سندور کے دوران ان عناصر کو بھی نشانہ بنایا گیا جو دہشت گردوں کو مدد اور پشت پناہی فراہم کرتے ہیں۔ ان کے مطابق کارروائی صرف لائن آف کنٹرول کے قریب تک محدود نہیں رہی بلکہ پاکستان کے اندر مریدکے اور بہاولپور جیسے مقامات تک بھی کی گئی، جہاں سے دہشت گردوں کو مبینہ طور پر مدد فراہم کی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے یہ پیغام دیا ہے کہ دہشت گردی کی حمایت کرنے والے عناصر ’’کہیں بھی‘‘ محفوظ نہیں رہ سکتے۔ ان کے مطابق وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے بھی واضح کیا تھا کہ ضرورت پڑنے پر بھارت دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے لیے ان کے علاقے میں داخل ہوگا۔پاکستان کی جانب سے سیر کریک کے علاقے میں سرگرمیاں بڑھانے اور ’’آپریشن ابابیل‘‘ شروع کیے جانے سے متعلق سوال پر جنرل نروانے نے کہا کہ اس نوعیت کی سرگرمیاں ہوتی رہتی ہیں، تاہم ریٹائرمنٹ کے بعد ان کے پاس مذکورہ آپریشن کے بارے میں مکمل معلومات موجود نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارتی مسلح افواج صورتحال پر مسلسل نظر رکھتی ہیں اور ضرورت پڑنے پر مناسب کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور جو بھی کارروائی ضروری ہوگی، اسے مناسب وقت پر انجام دیا جائے گا۔یہ پوچھے جانے پر کہ آیا پاکستان بھارت کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، سابق آرمی چیف نے جواب دیا، ’’میری رائے میں نہیں۔‘‘بھارت اور چین کے تعلقات کے حوالے سے جنرل نروانے نے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول اور چینی وزیر خارجہ وانگ یی کے درمیان حالیہ مذاکرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان مذاکرات کو دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری سرحدی تنازع کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ یہ اجیت ڈوول اور وانگ یی کے درمیان خصوصی نمائندوں کی سطح پر مذاکرات کا 25واں دور تھا اور اس نوعیت کی بات چیت پہلی مرتبہ نہیں ہوئی۔سابق آرمی چیف نے کہا کہ بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ بھارت اور چین کے درمیان سرحدی تنازع موجود ہے اور دونوں ممالک کے درمیان سرحد کی درست حد بندی نہ تو نقشوں پر مکمل طور پر ہوئی ہے اور نہ ہی زمینی سطح پر۔ ان کے مطابق اسی حد بندی کے فقدان کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان وقتاً فوقتاً تنازعات پیدا ہوتے رہتے ہیں۔مسلح افواج میں تھیٹر کمانڈز کے قیام سے متعلق جنرل نروانے نے کہا کہ فوج کی تھیٹرائزیشن پر بحث کارگل جنگ کے بعد شروع ہوئی تھی اور یہ کوئی نیا تصور نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر گزشتہ 25 سے 26 برسوں سے غور جاری ہے اور تھیٹرائزیشن ایک مسلسل عمل اور ارتقائی مرحلہ ہے۔سابق آرمی چیف نے کہا کہ جدید جنگی حالات میں تیزی سے تبدیلی اور فیصلہ سازی کے لیے دستیاب وقت کم ہونے کے پیش نظر بھارت میں تھیٹر کمانڈز کا قیام ضروری ہے۔ ان کے مطابق اس معاملے پر وسیع پیمانے پر اتفاق پایا جاتا ہے اور مسلح افواج کو جلد از جلد تھیٹرائزیشن کی جانب بڑھنا چاہیے۔