چیف سیکرٹری نے جموںوکشمیرمیں پی ایم سوریہ گھر یو جنا اور سولرائزیشن مشن کیلئے ماہانہ اہداف طے کئے

چیف سیکرٹری نے جموںوکشمیرمیں پی ایم سوریہ گھر یو جنا اور سولرائزیشن مشن کیلئے ماہانہ اہداف طے کئے

سری نگر//چیف سیکرٹری اَتل ڈولو نے ایک جامع جائزہ میٹنگ کی صدارت کی جس میں پی ایم سوریہ گھر: مفت بجلی یوجنا اور جموں و کشمیر میں جاری سرکاری عمارتوں کی سولرائزیشن پروگرام کے تحت حاصل شدہ پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔میٹنگ میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ بجلی، ایڈیشنل چیف سیکرٹری خزانہ، صوبائی کمشنران ،جموں و کشمیرجے پی ڈِی سی ایل اور کے پی ڈِی سی ایل کے منیجنگ ڈائریکٹروں، چیف ایگزیکٹیو آفیسر جے اے کے اِی ڈِی اے کے علاوہ دیگر متعلقہ محکموں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔دورانِ میٹنگ چیف سیکرٹری نے دونوں پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈِی آئی ایس سی او ایم ایس) کو مقرر کردہ اہداف مقررہ مدت کے اندر حاصل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اُنہوں نے متعلقہ ایجنسیوں کو ہدایت دی کہ تقریباً 57 ہزار ایسے مستفیدین کے گھروں پر روف ٹاپ سولر نظام جلد از جلد نصب کئے جائیں جن کے لئے وینڈر معاہدے پہلے ہی عمل میں آ چکے ہیں تاکہ یہ صارفین بغیر کسی تاخیر کے سکیم کے فوائد حاصل کر سکیں۔اُنہوں نے کہا کہ متعلقہ محکمے پی ایم سوریہ گھر: مفت بجلی یوجنا کی اِختتامی تاریخ سے کافی پہلے تمام اہداف مکمل کرنے کے لئے واضح ٹائم لائن تیار کریں تاکہ جموں و کشمیر مرکزی حکومت کے اس فلیگ شپ پروگرام سے بھرپور اِستفادہ کر سکے۔چیف سیکرٹری نے سرکاری عمارتوں کی سولرائزیشن کا جائزہ لیتے ہوئے محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی اور جے اے کے ای ڈی اے کو ہدایت دی کہ منصوبے پر عمل درآمد میں تیزی لائی جائے اور تمام شناخت شدہ سرکاری عمارتوں کو مشن موڈ میں روف ٹاپ سولر کوریج کے تحت لایا جائے۔ اُنہوں نے ہدایت دی کیپکس ماڈل کے تحت مزید 1,400 سے زائد اور ریسکو (آر اِی ایس سی او) ماڈل کے تحت تقریباً 1,300 سرکاری عمارتوں میں جولائی 2026 کے اختتام تک کام مکمل کیا جائے۔اُنہوں نے تمام کمیشن شدہ عمارتوں میں سمارٹ میٹرنگ کی بیک وقت تکمیل پر زور دیا تاکہ مؤثر نیٹ میٹرنگ کو یقینی بنایا جا سکے۔دورانِ میٹنگ ایڈیشنل چیف سیکرٹری بجلی اشونی کمار نے بات کرتے ہوئے عمل درآمد میں موجودکمیوں کو دور کرنے کے لئے روڈ میپ پیش کیا اور بتایا کہ مختلف ایجنسیوں کے درمیان بہتر تال میل، آپریشنل طریقہ کار کو آسان بنانے اور منصوبوں کی رفتار تیز کرنے کے لئے متعدد اقدامات کئے جا رہے ہیں تاکہ دونوں پروگراموں کے اہداف مقررہ مدت میں حاصل کئے جا سکیں۔ایڈیشنل چیف سیکریٹری خزانہ شیلندر کمار نے سکیم کے تحت ہونے والی پیش رفت کو سراہتے ہوئے تجویز دی کہ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اضلاع کو مناسب طور پر تسلیم کیا جانا چاہئے تاکہ عمل آوری کرنے والی ایجنسیوں کے درمیان صحت مند مسابقت کی حوصلہ افزائی کی جاسکے۔انہوں نے یوجنا کی عمل آور ی میں بالخصوص کپواڑہ اور شوپیاں اضلاع میںکئے گئے مثالی کام کی ستائش کی اور سفارش کی کہ ان کامیابیوں میں کردار ادا کرنے والے افسران اور فیلڈ عملے کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ پورے جموں و کشمیر میں اسی طرز کی کارکردگی کو فروغ ملے۔میٹنگ کو منیجنگ ڈائریکٹر کے پی ڈی سی ایل محمود احمد شاہ نے بتایا کہ پی ایم سوریہ گھر: مفت بجلی یوجنا کے تحت مرکزی حکومت نے 31 ؍مارچ 2027 تک ملک بھر میں ایک کروڑ رہائشی روف ٹاپ سولر تنصیبات کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس کے مطابق جموں و کشمیر کے لئے 83,500 رہائشی صارفین کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جن میں 39,500 صارفین جے پی ڈی سی ایل اور 44,000 صارفین کے پی ڈی سی ایل کے دائرہ کار میں شامل ہیں۔چیف سیکرٹری کو مزید بتایا گیا کہ 7 ؍جولائی 2026 تک جموں و کشمیر میں 37,138 رہائشی صارفین کے گھروں پر روف ٹاپ سولر نظام نصب کئے جا چکے ہیں،جن کی مجموعی پیداواری صلاحیت 133.40 میگاواٹ ہے۔ ان تنصیبات کے نتیجے میں مستفیدین کو 291.38 کروڑ روپے کی مرکزی مالی امداد فراہم کی گئی جبکہ جموں و کشمیر حکومت نے اضافی طور پر 10.50 کروڑ روپے کی سبسڈی بھی فراہم کی جس سے صارفین پر مالی بوجھ میں نمایاں کمی آئی اور روف ٹاپ سولر نظام کو اپنانے کی حوصلہ افزائی ہوئی۔چیف سیکرٹری نے جے اے کے ای ڈی اے کے ذریعے کیپکس اور ریسکو( آر اِی ایس سی او) ماڈلز کے تحت جاری سرکاری عمارتوں کی سولرائزیشن پروگرام کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا۔میٹنگ کو سی ای او جے اے کے ای ڈی اے پی این دھر نے بتایا کہ اس شعبے میں جموں و کشمیر ملک کی نمایاں کارکردگی دکھانے والی ریاستوں اور یوٹیز میں شامل ہو چکا ہے۔ اس وقت جموں و کشمیر تیسرے نمبر پر ہے اور یہاں 22,494 شناخت شدہ سرکاری عمارتوں میں سے 8,131 عمارتوں پر روف ٹاپ سولر نظام نصب کیا جا چکا ہے جو مجموعی ہدف کا 36.14 فیصد بنتا ہے۔ چیف سیکرٹری نے تمام عمل آوری ایجنسیوں کو ہدایت دی کہ مختلف محکموں کے درمیان قریبی رابطہ برقرار رکھا جائے، منصوبوں کی تکمیل کی مقررہ مدت پر سختی سے عمل کیا جائے اور اضلاع کی سطح پر کارکردگی کی مسلسل نگرانی کی جائے۔ اُنہوں نے مزید ہدایت دی کہ رہائشی روف ٹاپ سولر پروگرام اور سرکاری عمارتوں کی سولرائزیشن دونوں کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے تاکہ جموں و کشمیر مقررہ مدت کے اندر اپنے سولرائزیشن مشن کو کامیابی سے مکمل کر سکے۔