جموں و کشمیر میں بادل پھٹنے کے بڑھتے واقعات پر ماہرین کا انتباہ

جموں و کشمیر میں بادل پھٹنے کے بڑھتے واقعات پر ماہرین کا انتباہ

قدرتی آفات کے خطرات میں اضافہ،چناب اور پیر پنجال سب سے زیادہ حساس

سرینگر// جموں و کشمیر میں حالیہ دنوں بادل پھٹنے، اچانک سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ، مٹی کے تودے گرنے اور پتھراؤ کے بڑھتے ہوئے واقعات پر ماہرین نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی، غیر منصوبہ بند ترقی، جنگلات کی مسلسل کٹائی اور ہمالیائی خطے کی نازک ارضیاتی ساخت نے قدرتی آفات کے خطرات میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔یو این ایس کے مطابق گزشتہ ہفتے محض تقریباً 12 گھنٹوں کے دوران جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں کم از کم 12 مقامات پر بادل پھٹنے کے واقعات پیش آئے، جن کے نتیجے میں چناب وادی، پیر پنجال اور دیگر علاقوں میں فلیش فلڈ، لینڈ سلائیڈنگ، مٹی کے تودے گرنے اور پتھراؤ کے واقعات رونما ہوئے۔رپورٹ کے مطابق حالیہ موسمی صورتحال جنوب مغربی مانسون اور مغربی ہواؤں کے امتزاج کے بعد پیدا ہوئی، جس سے چناب وادی سب سے زیادہ متاثر ہوئی۔ ڈوڈہ کے بھلیسہ علاقے، رام بن، راجوری، پونچھ اور شمالی و جنوبی کشمیر کے بعض بالائی علاقوں میں بھی بادل پھٹنے اور شدید بارشوں کے واقعات ریکارڈ کیے گئے۔قومی ادارہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہائیڈرولوجی جموں کے ماہر ارضیات ڈاکٹر ریاض احمد میر نے کہا کہ بڑھتا ہوا عالمی درجہ حرارت آبی چکر کو مزید شدید بنا رہا ہے، جس کے نتیجے میں مقامی سطح پر موسلادھار بارشیں، ڑالہ باری، تیز ہوائیں، آسمانی بجلی، بادل پھٹنے اور اچانک سیلاب کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ چناب وادی اور پیر پنجال کے پہاڑ ارضیاتی اعتبار سے نسبتاً نئے، ٹوٹ پھوٹ کا شکار اور غیر مستحکم ہیں، جبکہ سڑکوں اور سرنگوں کی تعمیر کے دوران غیر سائنسی طریقوں سے پہاڑ کاٹنے، دھماکے کرنے اور ملبہ پھینکنے سے صورتحال مزید خطرناک ہو گئی ہے۔ڈاکٹر میر کے مطابق جنگلات کی کٹائی نے بھی پہاڑی ڈھلوانوں کو کمزور کیا ہے۔ انہوں نے سابقہ مطالعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جنگلات میں کمی سے سیلاب کی شرح میں تقریباً 28 فیصد اور سیلابی ریلوں کی شدت میں 25 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔یو این ایس کے مطابق گلوبل فاریسٹ واچ کے اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں 2001 سے 2023 کے دوران تقریباً 212 مربع کلومیٹر درختوں کا احاطہ ختم ہوا، جبکہ صرف 2023 میں 112 ہیکٹر قدرتی جنگلات ضائع ہوئے۔یو این ایس کے مطابق محکمہ موسمیات سرینگر کے ڈائریکٹر مختار احمد نے کہا کہ ہر ایک ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت بڑھنے سے فضا میں نمی جذب کرنے کی صلاحیت تقریباً 7 فیصد بڑھ جاتی ہے، جس سے انتہائی شدید بارشوں کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ڈوپلر ریڈار، سیٹلائٹ مشاہدات اور خودکار موسمی اسٹیشنوں کے ذریعے پیش گوئی کے نظام میں نمایاں بہتری آئی ہے، تاہم مقامی سطح پر پیش آنے والے انتہائی شدید موسمی واقعات کی درست پیش گوئی اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ماہر موسمیات سونم لوٹس نے کہا کہ ہمالیائی خطے میں بڑھتی ہوئی ماحولیاتی حساسیت کی وجہ صرف موسمیاتی تبدیلی نہیں بلکہ غیر منصوبہ بند شہری توسیع، قدرتی وسائل کا بے دریغ استعمال اور انسانی دباؤ بھی ہے، جبکہ موسمیاتی تبدیلی ان خطرات کو مزید بڑھا رہی ہے۔آزاد موسمی مبصر فیضان عارف نے کہا کہ ہمالیائی ماحولیاتی نظام انتہائی نازک ہے اور مستقبل میں نقصانات کم کرنے کے لیے جنگلات کی بحالی، آبی ذخائر کے تحفظ، موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ بنیادی ڈھانچے اور مقامی سطح پر آفات سے نمٹنے کی بہتر تیاری ناگزیر ہے۔یو این ایس کے مطابق وزارت داخلہ کی جانب سے رواں سال راجیہ سبھا میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس جموں و کشمیر میں سیلاب اور شدید بارشوں سے 199 افراد جاں بحق ہوئے، 11 ہزار 693 مویشی ہلاک ہوئے، 8 ہزار 404 مکانات کو نقصان پہنچا جبکہ 77 ہزار 915 ہیکٹر زرعی اراضی متاثر ہوئی۔ ان میں گزشتہ سال کشتواڑ کے گلاب گڑھ-پڈر علاقے میں مچھیل ماتا یاترا روٹ پر بادل پھٹنے کا واقعہ بھی شامل ہے، جس میں تقریباً 70 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔