سیکورٹی صورتحال اور آپریشنل تیاریوں کا جامع جائزہ،نگروٹہ ہیڈ کواٹر اورپونچھ میں اعلیٰ سطحی بریفنگ
سرینگر// جنرل دھیراج سیٹھ نے جمعرات کو جموں و کشمیر کے سرحدی ضلع پونچھ کے اگلے محاذوں، نگروٹا میں واقع وائٹ نائٹ کور ہیڈکوارٹر اور پونچھ بریگیڈ کا دورہ کرکے خطے کی مجموعی سیکورٹی صورتحال، لائن آف کنٹرول پر تعینات فوجی دستوں کی آپریشنل تیاریوں، انسداد دہشت گردی اقدامات اور موجودہ چیلنجز کا تفصیلی جائزہ لیا۔یو این ایس کے مطابق آرمی چیف نے فوجی افسران اور جوانوں سے ملاقات کرتے ہوئے ان کی پیشہ ورانہ صلاحیت، مستعدی اور بلند حوصلے کی تعریف کی اور انہیں ہر ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے مکمل چوکسی برقرار رکھنے کی ہدایت دی۔ سرکاری حکام کے مطابق جنرل دھیراج سیٹھ کی آرمی چیف کی حیثیت سے پونچھ کے اگلے محاذوں کا یہ پہلا دورہ ہے۔ ان کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب جموں و کشمیر میں جاری امرناتھ یاترا کے باعث سیکورٹی انتظامات کو غیر معمولی طور پر مضبوط بنایا گیا ہے اور سرحدی و حساس علاقوں میں فوج، پولیس اور دیگر سیکورٹی ایجنسیاں مشترکہ طور پر ہائی الرٹ پر ہیں۔دورے کے آغاز میں آرمی چیف نے نگروٹا میں قائم وائٹ نائٹ کور ہیڈکوارٹر کا دورہ کیا، جہاں کور کمانڈر اور دیگر سینئر فوجی افسران نے انہیں جموں خطے کی مجموعی سیکورٹی صورتحال، لائن آف کنٹرول پر حالیہ حالات، سرحد پار سے درپیش چیلنجز، انسداد دہشت گردی آپریشنز، انٹیلی جنس تعاون، نگرانی کے نظام اور کور کے ماتحت مختلف فارمیشنز کی جنگی تیاریوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔آرمی چیف کو بتایا گیا کہ موجودہ سیکورٹی ماحول کے پیش نظر تمام حساس علاقوں میں نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے، جبکہ فوجی دستے کسی بھی ہنگامی صورتحال، دراندازی کی کوشش یا دہشت گردانہ سرگرمی کا فوری اور مؤثر جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ انہیں جدید نگرانی کے آلات، انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں کے ساتھ جاری رابطوں کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا۔ جنرل دھیراج سیٹھ نے پونچھ ضلع کے اگلے محاذوں کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے لائن آف کنٹرول کے قریب تعینات فوجی جوانوں سے ملاقات کی اور ان کی پیشہ ورانہ خدمات کو سراہا۔ انہوں نے سرحدی علاقوں میں تعینات دستوں کی آپریشنل تیاری، دفاعی انتظامات، لاجسٹک سپورٹ اور موسمی حالات کے باوجود فرائض کی انجام دہی کا بھی جائزہ لیا۔پونچھ بریگیڈ ہیڈکوارٹر میں آرمی چیف کو ایک جامع بریفنگ دی گئی، جس میں فوجیوں کی تعیناتی، سرحدی صورتحال، حالیہ سیکورٹی چیلنجز، انسداد دہشت گردی کارروائیوں، مقامی سیکورٹی صورتحال اور آپریشنل حکمت عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ سینئر فوجی افسران نے انہیں یقین دلایا کہ فوج خطے میں امن و امان برقرار رکھنے، سرحدی علاقوں کے تحفظ اور کسی بھی ابھرتے ہوئے خطرے کا بروقت اور مؤثر جواب دینے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔یو این ایس کے مطابق جنرل دھیراج سیٹھ نے اس موقع پر فوجی جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بدلتے ہوئے سیکورٹی ماحول کے پیش نظر مستقل چوکسی، اعلیٰ پیشہ ورانہ معیار، باہمی رابطے اور فوری ردعمل کی صلاحیت برقرار رکھنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوج کو ہر وقت ہر قسم کے خطرات اور چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تیار رہنا چاہیے تاکہ سرحدوں کی حفاظت اور شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے فوجی افسران کو ہدایت دی کہ مختلف سیکورٹی ایجنسیوں کے درمیان قریبی رابطہ اور انٹیلی جنس کے تبادلے کو مزید مضبوط بنایا جائے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امرناتھ یاترا جاری ہے اور لاکھوں عقیدت مند وادی کے مختلف راستوں سے مقدس غار کی جانب سفر کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یاتریوں کی حفاظت اولین ترجیح ہے اور اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔حکام کے مطابق آرمی چیف کو یاترا کے روٹس، حساس مقامات، سیکورٹی گرڈ، ہنگامی طبی سہولیات، مواصلاتی نظام اور مختلف اداروں کے درمیان جاری رابطہ کاری کے بارے میں بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ انہیں بتایا گیا کہ فوج، جموں و کشمیر پولیس، سی آر پی ایف اور دیگر سیکورٹی ادارے مربوط انداز میں کام کر رہے ہیں تاکہ یاترا پرامن اور محفوظ ماحول میں جاری رہے۔یو این ایس کے مطابق واضح رہے کہ جنرل دھیراج سیٹھ منگل سے جموں و کشمیر کے دورے پر ہیں۔ اس دوران انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے الگ الگ ملاقاتیں بھی کیں، جن میں جموں و کشمیر کی مجموعی سیکورٹی صورتحال، سرحدی انتظامات، انسداد دہشت گردی حکمت عملی، امرناتھ یاترا کے حفاظتی انتظامات اور امن و استحکام سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ حکام کے مطابق آرمی چیف کا یہ دورہ خطے کی سیکورٹی صورتحال کا زمینی جائزہ لینے، فوجی تیاریوں کا معائنہ کرنے اور تمام سیکورٹی اداروں کے درمیان ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنانے کے مقصد سے کیا گیا۔










