سری نگر// وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر کی سیاحتی حکمت عملی میں بنیادی تبدیلی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے پالیسی سازوں، صنعتی شراکت دارون اور مقامی کمیونٹیوں سے اپیل کی کہ وہ صرف سیاحوں کی تعداد کے بجائے اقدار پر مبنی اوردیرپا سیاحت کے فروغ کو یقینی بنائیں تاکہ خطے کے نازک ماحولیاتی نظام کا تحفظ ہو اور طویل مدتی اِقتصادی خوشحالی کو یقینی بنایا جا سکے۔سکردو کے SKICC میں محکمہ سیاحت کی طرف سے منعقدہ ‘مستقل سیاحت کی منصوبہ بندی—کل کے لیے سیاحت کی ڈیزائننگ’ کانکلیو کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے، وزیر اعلی نے کہا کہ مستقل سیاحت اب کوئی انتخاب نہیں بلکہ جموں و کشمیر کے ماحول کے تحفظ اور اس کے سب سے اہم اقتصادی شعبوں میں سے ایک کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے ضروری ہے۔وزیر اعلیٰ نے سیاحت محکمہ کی جانب سے ایس کے آئی سی سی میں منعقدہ ’’دیرپا سیاحتی منصوبہ بندی ۔ مستقبل کی سیاحت کی تشکیل‘‘ کے عنوان سے کنکلیو کے اِفتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دیرپا سیاحت اَب ایک انتخاب نہیں بلکہ جموں و کشمیر کے ماحول کے تحفظ اور معیشت کے اہم ترین شعبوں میں سے ایک، یعنی سیاحت، کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لئے ضروری ہے۔اِس موقعہ پر وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی، ممبر قانون ساز اسمبلی گلمرگ پیرزادہ فاروق احمد شاہ، چیف سیکرٹری اَتل ڈولو، وزیر اعلیٰ کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری دھیرج گپتا اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری سیاحت آشیش چندر ورما موجود تھے۔کنکلیو میں منیجنگ ڈائریکٹر جموں اینڈ ٹوراِزم ڈیولپمنٹ کارپوریشن شریا سنگھل ، ڈائریکٹر ایس کے آئی سی سی مفتی محمد فرید الدین، ڈائریکٹر ٹوراِزم جموں وکاس گپتا، سیکرٹری رائیل سپرنگس گالف کورس حارث احمد ہنڈو، ڈائریکٹر ٹوراِزم کشمیر سیّد قمر سجاد، محکمہ سیاحت کے سینئر اَفسران، مختلف ٹوراِزم ڈیولپمنٹ اتھارٹیوں کے چیف ایگزیکٹیو اَفسران، سیاحتی شعبے کے ماہرین اور دیگرمتعلقین نے بھی شرکت کی۔وزیرا علیٰ نے اَپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ دیرپائی کے بغیر سیاحت لازماً طویل مدتی زوال کی طرف لے جاتی ہے۔اُنہوں نے کہا، ’’دیرپائی کے بغیر سیاحت ایک غیر معیاری تباہی ہے۔ یہ چند سال تک زندہ رہ سکتی ہے لیکن لمبے عرصے تک برقرار نہیں رہ سکتی جب تک کہ اس کی بنیاد میںدیرپائی شامل نہ ہو۔‘‘اُنہوں نے کہا کہ یہ کانفرنس ایسے اہم وقت میں منعقد کی گئی ہے جب جموں و کشمیر اَپنے سیاحتی ویژن کا ازسرِنو جائزہ لے رہا ہے اور یہ طے کر رہا ہے کہ مستقبل میں اس کی ترجیح صرف زیادہ سے زیادہ سیاحوں کو متوجہ کرنا ہوگی یا ایک دیرپاسیاحتی معیشت کے ذریعے زیادہ قدر پیدا کرنا۔وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا ہم سو سیاحوں سے ایک ایک روپیہ وصول کر کے کمانا چاہتے ہیں یا ایسا تجربہ فراہم کرنا چاہتے ہیں کہ ایک سیاح سو روپے خرچ کرنے پر آمادہ ہو۔ اسی سوال کا جواب ہمارے تمام مستقبل کے سیاحتی ماسٹر پلانز کی بنیاد بننا چاہیے۔‘‘انہوں نے کہا کہ اگرچہ جموں و کشمیر میں سیاحوں کی بڑھتی ہوئی تعداد خوش آئند ہے، تاہم مستقبل میں سیاحوں کی آمد کو منظم کرنے کی ضرورت ہوگی تاکہ نہ صرف سیاحتی مقامات محفوظ رہیں بلکہ سیاح بھی ٹریفک جام، ناقص سہولیات اور حد سے زیادہ ہجوم جیسی مشکلات سے بچتے ہوئے پُرسکون ماحول سے لطف اندوز ہو سکیں۔اُنہوں نے گزشتہ تین دہائیوں کے دوران جموں و کشمیر کے سیاحتی سفر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خطے نے طویل عرصے کے تنازعات کے بعد معمول کی زندگی کی بحالی کا پیغام دینے کے لئے فطری طور پر سیاحوں کی تعداد بڑھانے پر توجہ مرکوز رکھی لیکن حالیہ برسوں میں سیاحوں کی آمد میں اُتار چڑھاؤ نے ایک بار پھر اس شعبے کی نازک صورتحال کو نمایاں کر دیا ہے۔وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ گزشتہ برس پہلگام واقعے سے قبل حکومت سیاحوں کی بڑی تعداد کے باعث ٹریفک جام کے مسائل سے دوچار تھی جبکہ اس کے فوراً بعد ہوٹلوں اور سیاحتی مقامات کے خالی ہونے کی فکر لاحق ہو گئی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جموں و کشمیر میں سیاحت کتنی ناز ک اور حساس ہوسکتی ہے جہاں ایک واقعہ پورے سیزن کو متاثر کر سکتا ہے۔اُنہوںنے اِس بات پر زور دیا کہ دیرپا سیاحتی منصوبہ بندی میں ٹریفک ریگولیشن، پارکنگ ڈھانچے،ویسٹ مینجمنٹ، پانی کے تحفظ، عمارتوں کے ضوابط، گنجائش کے تعین اور مقامی کمیونٹیوںکی شمولیت جیسے اہم معاملات کا جامع حل شامل ہونا چاہیے۔عمرعبداللہ نے مشہور سیاحتی مقامات پر بار بار پیدا ہونے والے ٹریفک مسائل پر تشویش کا اِظہار کرتے ہوئے کہا کہ صرف بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کافی نہیںبلکہ اس کے مؤثر اِستعمال اور سائنسی بنیادوں پر ٹریفک مینجمنٹ بھی ضروری ہے۔اُنہوں نے خبردار کیا کہ شراکت داروں سے مشاورت کے بغیر عجلت میں کئے گئے فیصلے مسائل کو مزید بڑھا سکتے ہیں اور سیاحوں و ٹرانسپورٹ آپریٹروں دونوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’ دیرپائی عارضی اور جذباتی فیصلوں سے حاصل نہیں ہو سکتی۔ ہر اقدام منصوبہ بندی، مشاورت اور طویل مدتی حل فراہم کرنے کی صلاحیت کا حامل ہونا چاہیے۔‘‘اُنہوں نے سائنسی سالڈ ویسٹ مینجمنٹ پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ ماحولیاتی آلودگی کا ذمہ دار صرف سیاحوں کو نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔اُنہوںنے جھیل ڈل میں جاری صفائی مہم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کوڑاکرکٹ کا ایک بڑا حصہ مقامی آبادیوں سے بھی آتا ہے۔ اس لئے مقامی کمیونٹیوںکی شرکت ناگزیر ہے۔اُنہوں نے سنگل یوز پلاسٹک کے خاتمے اور ذِمہ دار شہری رویے کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔وزیراعلیٰ نے کہا، ’’ ویسٹ مینجمنٹ کی ذِمہ داری حکومت کی ہے لیکن شہریوں کی بھی اتنی ہی ذمہ داری ہے۔ جب تک ہم گلمرگ، پہلگام، سونمرگ اور ڈل جھیل کو اپنے گھروں کی طرح نہیں سمجھیں گے، دیرپائی ناپید رہے گی۔اُنہوں نے پانی کی بڑھتی ہوئی قلت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سیاحوں کی تعداد میں اضافے کے پیش نظر مؤثر اور طویل مدتی آبی حکمت عملی کے بغیر دیرپا سیاحت کا تصور ممکن نہیں۔وزیراعلیٰ نے بلڈنگ ریگولیشنز اور ٹوراِزم ماسٹر پلان پر سختی سے عمل درآمد کی اہمیت پر بھی زور دیا۔اُنہوں نے کہا، ’’کسی بھی ماسٹر پلان کی کامیابی اس کی مؤثر عمل آوری سے مشروط ہوتی ہے۔ منتخب نفاذ سے ناراضگی پیدا ہوتی ہے اور عوام کا اعتماد کمزور ہوتا ہے۔۔ سیاحتی منصوبہ بندی صرف دفاتر تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ مقامی آبادیوں کی مشاورت سے ہونی چاہیے جو نسلوں سے ان مقامات پر آباد ہیں۔‘‘
وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے ہر سیاحتی مقام کی ماحولیاتی حساسیت کے مطابق اس کی گنجائش کا سائنسی تعین کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہر مقام کی اپنی مخصوص ماحولیاتی خصوصیات ہوتی ہیں جنہیں مدنظر رکھنا ضروری ہے۔اُنہوں نے کہا ،’’ سری نگر گلمرگ یا گریز جیسے ماحولیاتی طور پر نازک مقامات کے مقابلے میں کہیں زیادہ سیاحوں کو باآسانی ایڈجسٹ کر سکتا ہے۔ ہم ہر مقام کے لئے یکساں طریقہ کار نہیں اَپنا سکتے۔‘‘وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جموں و کشمیر کا سب سے بڑا سیاحتی اثاثہ مصنوعی کشش کے بجائے اس کی بے مثال قدرتی خوبصورتی ہے۔اُنہوں نے کہا، ’’ہم ڈزنی لینڈ، یونیورسل سٹوڈیوز یا لاس ویگاس فروخت نہیں کر رہے۔ لوگ یہاں ہماری ندیاں، جھیلیں، پہاڑ، گلیشیئرز اور قدرتی مناظر دیکھنے آتے ہیں۔ ان قدرتی اثاثوں کا تحفظ ہر سیاحتی ماسٹر پلان کا بنیادی مقصد ہونا چاہیے۔‘‘وزیراعلیٰ نے جموں و کشمیر سے باہر سے آنے والی سیاحتی گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اگرچہ اس سے کشمیر میں سیاحت کی بحالی کا مثبت پیغام گیا ہے لیکن اس سے مقامی انفراسٹرکچر پر اضافی دباؤ پڑا ہے اور مقامی ٹرانسپورٹ شعبہ بھی متاثر ہوا ہے۔اُنہوں نے کہا، ’’ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ سیاحت سے زیادہ سے زیادہ فائدہ ہمارے اپنے لوگوں کو پہنچے۔ ہمارا مقصد صرف سیاحوں کی تعداد بڑھانا نہیں بلکہ قدر میں اِضافہ کرنا ہونا چاہیے۔‘‘وزیر اعلیٰ نے اعلیٰ معیار کی سیاحتی خدمات اور تجربات کے فروغ کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ قدر پر مبنی سیاحت کے ذریعے زیادہ آمدنی حاصل کی جا سکتی ہے جبکہ ماحولیاتی دباؤ کم اور سیاحوں کا تجربہ بہتر بنایا جا سکتا ہے۔اُنہوں نے کہا، ’’قدر پر مبنی سیاحت ہی دراصل دیرپا سیاحت ہے۔ ہماری ذِمہ داری ہے کہ ایسے حالات پیدا کئے جائیں جن سے مقامی لوگوں کی آمدنی میں اِضافہ ہو اور سیاحت آنے والی نسلوں کے لئے ماحولیاتی اور اقتصادی لحاظ سے دیرپا رہے۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے امید ظاہر کی کہ کنکلیو کے مباحث جموں و کشمیر کے لئے ایک طویل مدتی دیرپا سیاحتی روڈ میپ تیار کرنے اور مستقبل کی پالیسی سازی میں اہم کردار اَدا کرے گا۔اِس موقعہ پر وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی اور چیف سیکرٹری اَتل ڈولو نے بھی خطاب کیا اور سیاحتی مقامات کے ماسٹر پلان، نئے سیاحتی مقامات کی ترقی، ماحولیات کے تحفظ، ٹورازم ڈیولپمنٹ اتھارٹیوں کو مضبوط بنانے اور سیاحوں کے تجربے کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔اِس سے قبل ایڈیشنل چیف سیکرٹری سیاحت آشیش چندر ورما نے جموں و کشمیر کے مختلف سیاحتی مقامات کے لئے ماسٹر پلان تیار کرنے کے حکومتی اقدام پر ایک جامع پرزنٹیشن پیش کی۔اُنہوں نے سیاحتی شعبے کی موجودہ صورتحال، دیرپاسیاحت کے ویژن اور موجودہ ترقیاتی حکمت عملی پر نظرثانی کی ضرورت کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ روایتی شہری منصوبہ بندی سے سیاحت پر مبنی منزلاتی منصوبہ بندی کی طرف منتقلی وقت کی اہم ضرورت ہے۔اُنہوں نے بنیاد ی ڈھانچے کی غیر مربوط ترقی، ناقص ویسٹ مینجمنٹ، ٹریفک جام اور مربوط منزلاتی منصوبہ بندی کے فقدان جیسے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے ماحولیاتی حساسیت، سیاحتی امکانات اور بنیادی ڈھانچے کی ضروریات کی بنیاد پر سیاحتی مقامات کی درجہ بندی کا خاکہ پیش کیا۔ایڈیشنل چیف سیکرٹری نے ورکشاپ کے مقاصد کے بارے میں بتایا جس میں دیرپا سیاحتی منصوبہ بندی کو فروغ دینا،منزل کے لحاط سے مخصوص ماسٹر پلان تیار کرنا، متوازن سیاحتی ترقی کو یقینی بنانا اور جموں و کشمیر کے سیاحتی شعبے کے مستقبل کی تشکیل میں تمام شراکت داروںکی مؤثر شرکت کو یقینی بنانا شامل ہے۔










