سرینگر//جنوبی کشمیر کے پہلگام آٹھنڈن نامی گائوں میں پینے کے پانی کی شدید قلت پائی جارہی ہے جس کے نتیجے میں لوگوں کو شدید مشکلات کا سامناکرنا پڑرہا ہے اور لوگ ندی نالوں کاناصاف پانی استعمال کرنے پر مجبور ہورہے ہیں ۔لوگوں نے متعلقہ محکمہ کیخلاف سخت برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ محکمہ کے متعلقہ ملازمین خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق جنوبی کشمیر کے آٹھناڈن پہلگام علاقے کی عوام نے پانی کی قلت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ناراضگی کا اظہار کیا۔آٹھناڈن گاؤں میں لوگوں نے محکمہ جل شکتی کے خلاف سخت برہمی کااظہارکیا سی این آئی سے بات کرتے ہوئے مقامی شہری متین احمد شاہ نے کہا ، ‘ہمارے علاقے میں گزشتہ کئی برسوں سے پانی کی فراہمی نہیں کی جارہی ہے اور گاوں میں ہر کوئی پانی کے بحران سے پریشان ہیں۔ روز مرہ کی زندگی میں اگر چہ پانی زندگی کا ایک اہم جز ہے لیکن ہمیں پانی کی ایک ایک بوند کے لئے ترسایا جارہا ہے۔’مقا می لوگوں نے کہا کہ ہم نے پانی کی فراہمی کو بحال رکھنے کے لئے محکمہ جل شکتی کے ہر عہدیدار سے رجوع کیا ہے لیکن کوئی بھی ہماری شکایت پر توجہ نہیں دے رہا ہے۔مقامی لوگوں نے محکمہ پی ایچ ای پر گاؤں میں پانی کی فراہمی کی سہولت کے لئے کوئی توجہ نہیں دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ علاقے میں ملازمین مناسب طریقے سے ڈیوٹی نہیں دے رہے ہیں کیونکہ وہ پانی کی قلت کا شکار ہیں۔وہیں لوگوں نے ایل جی انتظامیہ اور ضلع انتظامیہ اننت ناگ سے درخواست کی کہ وہ اس معاملے پر توجہ دیں اور ان کے حقیقی مسئلے کو حل کریں۔اس معاملے میں جب سی این آئی نمائندے امان ملک نے اے ای ای محکمہ جل شکتی کے ساتھ بات کی تو انہوں نے کہا اس علاقے کو پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے پہلے ہی ایک پروجیکٹ بنانے کی ایک تجویز پیش کی ہے ، جب تک اس پروجیکٹ کی منظوری مل جائے گی تب تک اس علاقے کی پانی کی قلت دور کرنے کے لیے اعلی عہدیداروں سے گاؤں میں واٹر ٹینکر بھیجنے کی بات کی ہے تاکہ ان کو درپیش مشکلات سے تھوڑی سی راحت مل جائے۔










