لوگوں کو ناصا ف پانی فراہم نہیں کرسکتے ، پانی کی قلت جلد دور ہوگی ۔ محکمہ جل شکتی
سرینگر//اننت ناگ قصبہ اور اس کے ملحقہ علاقوں میں پانی کی شدیت قلت پیدا ہوگئی ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ اس ضمن میں محکمہ جل شکتی نے کہاکہ پہلگام کے ایک بالائی علاقے میں گزشتہ دنوں بادل پھٹنے کی وجہ سے نالہ لدر کا پانی آلودہ ہوچکا ہے اور محکمہ کے پاس جو واٹر پلانٹ میں موجود صاف پانی تھا وہی سپلائی کیا جاتا ہے اور ناصاف پانی لوگوں کو سپلائی نہیں کیا جاتا ہے جس کے باعث پانی کی قلت پیدا ہوئی ہے ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق وائس آف انڈیا کے مطابق جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے قصبہ اور دیگر ملحقہ علاقوں میں گزشتہ کئی دنوں سے پانی کی شدید قلت پائی جاتی ہے جس پر محکمہ جل شکتی نے کہا ہے کہ گزشتہ دنوں ناسازگار موسم کے دوران پہلگام کے سڈسن مرگ ششتر ژھن نامی علاقے میں بادل پھٹنے کی وجہ سے پہاڑی کاتمام ملبہ اور مٹی دریائے لدر میں بہہ گیا ہے جس کی وجہ سے پانی آلودہ ہوچکا ہے اور محکمہ جل شکتی نے اس سلسلے میں کہا ہے کہ فی الحال نالہ لدر کا پانی سپلائی کے قابل نہیں ہے کیوںکہ آلودہ پانی فراہم کرنے سے لوگوں کی صحت بگڑ سکتی ہے ۔ وی و آئی نمائندے امان ملک کے ساتھ بات کرتے ہوئے محکمہ کے اہلکاروں نے بتایا ہے کہ سڈسن مرگ ششتر ژھن پہلگام کا گندہ پانی اب دریائے لد رمیں آگیا ہے جس سے پورا پانی آلودہ ہوچکا ہے جس کے باعث لوگوں کو پانی فراہم نہیں ہوپارہا ہے اور نالہ لدر سے ہی علاقہ جات کو پانی فراہم کیا جاتا ہے لھٰذا جو ان کے پاس سب سے بڑا واٹر پلانٹ بونزو مٹن میں پانی موجود تھا اسی سے پانی فراہم ہوتا ہے ۔ا نہوںنے بتایا کہ پانی اب دھیرے دھیر صاف ہوتاجارہا ہے اورسوموار کی شام سے لوگوں کو پہلے کی طرح ہی پانی فراہم ہوگا۔










