پناہ گزینوں کی مراعات میں کمی کیخلاف یورپی عدالت کا فیصلہ

برسلز/ایجنسیز// یورپی عدالت برائے انصاف نے فیصلہ دیا ہے کہ سیاسی پناہ کے ناکام درخواست گزاروں کو محض زندہ رہنے کے لیے کم سے کم سہولیات فراہم کرنا کافی نہیں۔ یورپی یونین تاہم مائیگریشن سے متعلق ضوابط سخت بنا رہی ہے۔ اس عدالتی پیش رفت کے بعد یہ بحث جاری ہے کہ یورپی یونین کے نئے مائیگریشن معاہدے کے نفاذ سے یہ ریلیف کتنے عرصے تک برقرار رہے گا، اس بارے میں سوالات موجود ہیں۔ یہ مقدمہ ایک بنیادی سوال کے گرد گھومتا تھا کہ جب کوئی شخص پناہ کی درخواست کے فیصلے یا ایک یورپی ملک سے دوسرے یورپی ملک منتقلی کا انتظار کر رہا ہو، تو باوقار زندگی گزارنے کے لیے اسے کن وسائل کی ضرورت ہوتی ہے؟ یورپی عدالت برائے انصاف کے ججوں کو یہ طے کرنا تھا کہ آیا جرمنی کی جانب سے فراہم کی جانے والی سہولیات یورپی یونین کے مقرر کردہ معیار سے کم تھیں یا نہیں۔ یورپی عدالت سے ایک افغان پناہ گزین، جسے عدالتی دستاویزات میں ’’ایف بی‘‘کہا گیا، کے حقوق کی تشریح کرنے کو کہا گیا تھا۔ جرمنی نے اس کی پناہ کی درخواست مسترد کر دی تھی اور اسے رومانیہ واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا، جہاں اس نے 2021 میں پہلی بار پناہ کی درخواست دی تھی۔ منتقلی کے انتظار کے دوران ایف بی کو خوراک، رہائش، صفائی ستھرائی اور طبی سہولیات فراہم کی گئیں، لیکن کپڑوں اور دیگر گھریلو ضروریات کے لیے کوئی امداد نہیں دی گئی۔ جرمنی کے ایک قانون کے تحت مسترد شدہ پناہ گزینوں کے لیے امداد میں نمایاں کمی کی جا چکی ہے، جسے انسانی حقوق کے کارکنوں نے ’’بستر، روٹی اور صابن‘‘ تک محدود امداد قرار دیا۔ ایف بی نے 2022 میں اپنی امداد کم کیے جانے کے خلاف جرمنی کے باویریا صوبے کے شہر شوائنفورٹ کے ضلعی حکام کے خلاف مقدمہ دائر کیا، جو بالآخر یورپی عدالتِ انصاف تک پہنچا۔ جمعرات کو عدالت نے پناہ گزین کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی شخص کی پناہ کی درخواست مسترد بھی ہو جائے تو بھی اس سے کپڑوں اور گھریلو استعمال کی بنیادی اشیاء جیسی ضروری سہولیات واپس نہیں لی جا سکتیں۔