خون عطیہ کرنے سے امراض قلب اور دل کا دورہ پڑنے کے امکانات کم /ڈاکٹر یوسف ٹاک
سری نگر// کھیل کا میدان ہو یا تعلیم کا پلوامہ کے نوجوانوں نے ہر فیلڈ میں اپنا لوہا منوایا ہے اسی ضلع سے تعلق رکھنے والا ایک ایسا شخص بھی ہے جس نے سب سے زیادہ مرتبہ خون کا عطیہ کرنے کا ریکارڈ بنایا ہے۔ادھر ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیر کے صدر ڈاکٹر محمد یوسف ٹاک کا کہنا ہے کہ خون عطیہ کرنے سے امراض قلب اور دل کا دورہ پڑنے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق جنوبی ضلع پلوامہ سے تعلق رکھنے والے غمگین مجید ناربلی جس نے نہ صرف خون عطیہ دینے میں ریکارڈ قائم کیا ہے بلکہ ماحول ،صحت ،صفائی کے علاوہ دیگر سماجی کاموں میں بھی بہترین رول ادا کیا۔عوامی حلقوں نے کہا کہ ایسے افراد کی حوصلہ افزائی کرنا وقت کی کی ضرورت ہے جو رضاکارانہ طور پر اپنا خون عطیہ دیتے ہیں۔دریں اثناء ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیر کے صدر ڈاکٹر محمد یوسف ڈاک نے کہا کہ خون عطیہ کرنے سے کوئی بھی کمزوری نہیں آتی ہے بلکہ خون عطیہ کرنے کے بعد نیا خون جسم کو مزید طاقت بخشا ہے۔انہوں نے کہا کہ خون عطیہ کرنے سے کوئی کمزوری نہیں آتی بلکہ یہ فائدہ مند ہوتا ہے۔کیونکہ جسم میں تازہ خون بنتا ہے۔ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیر کے صدر ڈاکٹر محمد یوسف ٹاک نے نمائندے تنہا ایاز کے ساتھ ٹیلی گفتگو میں کہا کہ خون کا عطیہ کرنے سے امراض قلب اور دل کا دورہ پڑنے کے امکانات بھی کم ہو جاتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اور صحت مند انسان ہر تین ماہ کے بعد خون کا عطیہ دے سکتا ہے۔ ڈاکٹر محمد یوسف ٹاک نے کہا کہ عوام میں خون عطیہ کرنے کا شعور اجاگر کیا جائے۔










