dooran

پروفیسر تارا ناتھ کی دوہا کی کتاب ’ تارا دوہاوالی‘ گورنمنٹ ڈگری کالج اودھمپورمیں جاری

اودھمپور//اودھمپور میں اَدبی خزانے اور سرگرمیوں کو بڑھانے کے ایک حصے کے طور پر ’ میری میترا منڈلی : ایک ساہتیک کرانتی‘نے آ ج یہاں گورنمنٹ ڈگری کالج اودھمپور کے کانفرنس ہال میں منعقدہ ریلیز تقریب میں پروفیسر تارا ناتھ کی لکھی ہوئی دوہائوں کی کتاب ’’ تارا دوہاولی‘‘ کو جاری کیا۔ معروف شاعر شری پرکاش پریمی جی نے شاعر پروفیسر تارا ناتھ ، ان کے کنبے کے اَفراد ، میری میترا منڈلی کے اراکین اور اُدباء اور کتابوںکے شوقین لوگوں کی موجود گی میں کتاب کی رسم رونمائی اَنجام دی ہے۔منڈلی پردھان سرجیت ہوش بادسالی نے اِستقبالیہ کلمات پیش کئے جبکہ ریلیز ہونے والی کتاب پر تنقیدی مقالہ معروف نوجوان شاعر اور ادیب بابو بھٹی نے پڑھا۔منڈلی کے صدر سرجیت ہوش بادسالی نے اَپنے اِستقبالیہ کلمات میں منڈلی کی اَب تک کی کامیابیوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ منڈلی عوام میں اَدبی شعور بیدار کرنے کے لئے پُر عزم ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ شاعری میں کئی ناپسندیدہ عوارض کے خلاف کام کرنے کے علاوہ منڈلی نثر ی اَصناف پر بھی کام کر رہی ہے ۔اُنہوں نے مادری زبانوں کے حوالے سے کہا کہ ہمیں ہر ایک کی مادری زبان کا احترام کرنا چاہیے اور خواہش ہے کہ اَدبی کام ہوتے رہیں اور تمام مادری زبانوں کا آغاز ہو۔اِس موقعہ پر خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی ڈوگری شری پرکاش پریمی جی شاعر نے کہا کہ ڈوگری بیلڈس پر پہلی کتاب ’’ سورلہری‘‘ کے بعد پروفیسر تار اناتھ کی دوسری کتاب تارا دوہاولی ایک قابل ستائش کاوش ہے ۔اُنہوںنے اِس کتاب کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ادب کے شوقین لوگوں کو اِس کتاب میں مرتب کردہ دوہے کا بھی مطالعہ کرنا چاہیے۔منڈلی نے جو کام ادب کے میدان میں کیا ہے اور کررہا ہے ۔اس کے اَثرات آنے والی نسلیں دیکھتی رہیں گی۔اِس موقعہ پر پروفیسر تارا ناتھ کے کنبے سے تعلق رکھنے والے سبھاش ڈوگرہ نے بھی اَپنے خیالات کا اِظہار کیا اور منڈلی کے کام کو سراہا۔بابو بھٹی نے تارا دہاولی پر تنقیدی مقالہ پڑھا اور اِس کتاب کے بارے میں علمی اَنداز میں طوالت سے بات کی جس نے سامعین کو کتاب سے پوری طرح جوڑنے کا کام کیا۔پروگرام کی اصل توجہ پروفیسر تارا ناتھ جی کی دوہاولی سے موہندر پنچروی کا گیت تھا۔اجے اننت نے نظامت کے فرائض انجام دئیے۔رسم رونمائی تقریب میں منڈلی کے اراکین ، بہت سے ادیب ،ادب کے شوقین ، نوجوان اور نامور ادیب بھی موجود تھے۔آخیر میں منڈلی کے پادھیاکش نیرج شرما نے تمام حاضرین کا شکریہ اَدا کیا۔منڈلی نے کالج کے پرنسپل ڈاکٹر رومیش کمار گپتا کا بھی اعتراف کر کے ان کا شکریہ اَداکیا کہ اُنہوںنے منڈلی کے اَدبی کاموں میں بھرپور تعاون کیا۔