سرکاری ملازمین کے GPفیڈکیس ماہ جون2022سے زیرالتواء
سری نگر//سرکاری ٹریجریوںمیں جون2022سے کروڑوں روپے مالیت کی مختلف بلیں زیرالتواء پڑی ہوئی ہیں ،جسکے نتیجے میں ٹھیکیداروں اورسپلائروں کیساتھ ساتھ سرکاری افسروں اورملازمین کوبھی سخت مشکلات کاسامنا کرناپڑرہاہے ۔جے کے این ایس کوکئی متاثرہ سرکاری ملازمین نے بتایاکہ اُن کی جی پی فنڈ بلیں سری نگر ٹریجری میںپڑی ہوئی ہیں ،اوراُن کے حق میں رقومات کی ادائیگی نہیں کی جارہی ہے ۔ایک جونیئر لیول کے سرکاری افسر نے بتایاکہ وہ سخت پریشان ہے ،کیونکہ اُس کی دوبیٹیوںکی شادی اگلے ماہ ہونی طے پائی ہے ۔انہوںنے کہاکہ دونوں بیٹیوںکی شادی کی تاریخ مقرر کی گئی ہے ،لیکن میں ابھی تک بیٹیوںکی شادی کاکوئی خاص انتظام نہیں کرپایا ہوں ۔سخت پریشان سرکاری افسر کاکہناتھاکہ انہوںنے مئی 2022میں اپنا جی پی فنڈ کیس سری نگر ٹریجری میں ڈالا ہے لیکن دوماہ گزرنے کے باوجودمیرے حق میں جی پی فنڈ کی رقم واگزار نہیں کی گئی ہے ۔انہوںنے کہاکہ ہم لوگوںکا جی پی فنڈ اسی کام آتاہے کہ بچوںکی شادی ہو تاکہ کسی کالج میں اُنکاداخلہ یاپھراعلیٰ تعلیم کیلئے کسی یونیورسٹی میںداخلہ ،ہم جی پی فنڈ نکال کر بچوںکی شادی کاانتظام کرتے ہیں اورزیرتعلیم بچوں بچیوں کی داخلہ فیس وغیرہ جمع کراتے ہیں ۔اسی طرح کی پریشانی سے دوچار ایک سینئر سرکاری ملازم نے بتایاکہ اُسکے بیٹے کوبیرون جموں وکشمیر کسی یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم کیلئے داخلہ لینا ہے لیکن میں اُس کووہاں جمع کرانے کیلئے فیس کی رقم دینے کی پوزیشن میں نہیں ہوں ۔انہوںنے بتایاکہ میرے دو بچے یہاں زیرتعلیم ہیں اورمجھے گھریلو اخراجات کیساتھ ساتھ ان بچوں کے تعلیمی خرچے بھی پورا کرنے پڑتے ہیں ۔ایک اورسرکاری ملازم نے بھی سری نگر ٹریجری سے نامراد اورخالی ہاتھ لوٹنے کی بات کہتے ہوئے کہاکہ اُس نے دوماہ قبل اپنا جی پی فنڈ کیس سری نگرکی سب سے بری ٹریجری میں جمع کرایا ہے اورکئی مرتبہ ٹریجری کے چکر کاٹنے کے باجود اُس کوجی پی فنڈ کی مطلوبہ رقم نہیں دی جارہی ہے ،بلکہ ہر بار کچھ دن بعدآنے کی یقین دہانی کراکے ٹرخایا جاتاہے ۔ایک اورسرکاری ملازم نے بتایاکہ اُسکی بیٹی کومسابقتی امتحان کی تیاری کیلئے کوچنگ مرکز میں داخلہ لینا ہے لیکن میرے پاس وہاں فیس جمع کرانے کیلئے درکاررقم نہیں ہے ۔انہوںنے بتایاکہ جی پی فنڈ کیس بناکر اس کومیں نے سری نگرٹریجری میں جمع کرادیا لیکن ماہ جون کیاوائل سے مجھے جی پی فنڈ کی رقم نہیں دی جارہی ہے۔مزید کئی سرکاری ملازمین نے اسی طرح کی پریشانیوںکاذکر کرتے ہوئے بتایاکہ ہم منہ بھی نہیں کھول سکتے ہیں ،کیونکہ حکام ناراض ہوجائیں گے ۔انہوںنے کہاکہ جی پی فنڈ ہی ہماری وہ جمع پونجی ہوتی ہے ،جو مشکل وقت میں کام آتی ہے لیکن اب ہم اپنی یہ رقم یاجمع کمائی بھی بوقت ضرورت حاصل نہیں کرپارہے ہیں ۔










