جموں کشمیر میں حالات میں نمایاں بہتری، مستقبل قریب میں آرمڈ سپیشل پاورس ایکٹ کی ضرورت نہیں رہے گی
سرینگر///وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے ایک بار پھر کہا کہ پاکستان کے پا س کشمیر کو فوجی کارروائی یا جنگ کے ذریعے حاصل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیوں کہ وہاں کے لوگ خود ہی ایک دن بھارت کے ساتھ ملنے کا مطالبہ کریں گے ۔ وزیر دفاع نے زور دے کر کہا کہ جموں و کشمیر میں زمینی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے اور ایک وقت آئے گا جب آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ کی مرکز کے زیر انتظام علاقے میں مزید ضرورت نہیں رہے گی۔ وائس آف انڈیا کے مطابق وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے پاک زیر قبضہ کشمیر پر اپنا دعویٰ جتاتے ہوئے ایک بار پھر کہا ہندوستان پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر (پی او کے) پر اپنے دعوے سے کبھی دستبردار نہیں ہوگا لیکن اسے طاقت کے ساتھ اس پر قبضہ نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ اس کے لوگ اپنے طور پر ہندوستان میں ترقی کو دیکھ کر ہندوستان کا حصہ بننا چاہیں گے۔پی ٹی آئی کو دیئے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں وزیر دفاع نے زور دے کر کہا کہ جموں و کشمیر میں زمینی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے اور ایک وقت آئے گا جب آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ کی مرکز کے زیر انتظام علاقے میں مزید ضرورت نہیں رہے گی۔وزیر دفاع نے تاہم کہا کہ یہ معاملہ مرکزی وزارت داخلہ کے دائرہ اختیار میں ہے اور وہ مناسب فیصلہ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ وہاں بھی انتخابات ضرور ہوں گے، لیکن کوئی ٹائم لائن نہیں دیں گے۔انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں ہندوستان کو کچھ نہیں کرنا پڑے گا۔ جموں و کشمیر میں جس طرح سے زمینی صورتحال بدلی ہے، جس طرح سے خطہ اقتصادی ترقی دیکھ رہا ہے اور جس طرح سے وہاں امن لوٹا ہے، میرے خیال میں پی او کے کے لوگوں کی طرف سے مطالبات سامنے آئیں گے کہ وہ بھارت کے ساتھ الحاق کر لینا چاہیے۔انہوں نے کہا، “ہمیں پی او کے پر قبضہ کرنے کے لیے طاقت کا استعمال نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ لوگ کہیں گے کہ ہمیں ہندوستان کے ساتھ مل جانا چاہیے۔ اس طرح کے مطالبات اب ا? رہے ہیں۔ وزیر دفاع نے زور دے کر کہا کہ پی او کے ہمارا تھا، ہے اور رہے گا”۔جموں و کشمیر میں زمینی صورتحال میں بہتری کا حوالہ دیتے ہوئے سنگھ نے کہا کہ وہاں جلد ہی اسمبلی انتخابات ہوں گے، لیکن انہوں نے کوئی ٹائم لائن نہیں دی۔انہوں نے کہا، “جس طرح جموں و کشمیر میں حالات بہتر ہو رہے ہیں، مجھے لگتا ہے کہ ایک وقت آئے گا جب وہاں AFSPA کی ضرورت نہیں رہے گی۔ یہ میرا خیال ہے اور یہ وزارت داخلہ کو اس پر فیصلہ کرنا ہے۔AFSPA سیکورٹی فورسز کو آپریشن کرنے اور بغیر کسی پیشگی وارنٹ کے کسی کو گرفتار کرنے کا اختیار دیتا ہے۔ یہ فورسز کو استثنیٰ بھی دیتا ہے اگر وہ کسی کو گولی مار کر ہلاک کر دیں۔وزیر دفاع نے جموں و کشمیر میں پاکستان کی پراکسی جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کو سرحد پار دہشت گردی کو روکنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وہ بھارت کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات اس وقت شدید تناو کا شکار ہوگئے جب ہندوستان کے جنگی طیاروں نے فروری 2019 میں پلوامہ دہشت گردانہ حملے کے جواب میں پاکستان کے بالاکوٹ میں جیش محمد کے دہشت گرد تربیتی کیمپ کو نشانہ بنایا۔5 اگست 2019 کو بھارت کی جانب سے جموں و کشمیر کے خصوصی اختیارات واپس لینے اور ریاست کو دو مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کرنے کے اعلان کے بعد تعلقات مزید خراب ہوئے۔ ہندوستان کا موقف رہا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ معمول کے ہمسایہ تعلقات کا خواہاں ہے اور اس بات پر اصرار کرتا ہے کہ اس طرح کی مصروفیت کے لیے دہشت گردی اور دشمنی سے پاک ماحول پیدا کرنے کی ذمہ داری اسلام آباد کی ہے۔وزیر دفاع نے کہا کہ بھارت آج کی دنیا میں ایک مضبوط ملک کے طور پر جانا جاتا ہے اور کوئی بھی ملک چاہئے وہ چین ہو یا پاکستان بھارت کی ایک بھی انچ زمین پر جبری قبضہ نہیں کرسکتا اور ناہی وہ برداشت کیاجاسکتا ہے ۔










