ALOHA قومی سطح کے مقابلے 2026 کشمیر کے انعامات کی تقریب سے خطاب
سرینگر//وزیر اعلیٰ مسٹر عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر کے سرکاری اسکولوں میں الوہا ( ALOHA ) ذہنی حسابی پروگرام کو متعارف کرانے کی اپیل کی ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیم کے نظام میں تمام بچوں کو مساوی مواقع فراہم کئے جائیں اور انہیں قومی و بین الاقوامی سطح پر مقابلہ کرنے کے قابل بنانے کیلئے ضروری مہارتوں سے آراستہ کیا جائے ۔ سرینگر کے ایس کے آئی سی سی میں الوہا قومی سطح کے مقابلے 2026 کشمیر کے انعامات کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تعلیم اور صحت حکومت کی دو سب سے اہم ذمہ داریاں ہیں اور ان شعبوں میں مسلسل سرمایہ کاری خطے کی مجموعی ترقی کیلئے ضروری ہے ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا ’’ تعلیم ہر چیز کی بنیاد ہے ۔ تعلیم کے بغیر ہم کیا حاصل کر سکتے ہیں؟ تعلیم اور صحت دو چیزوں کے بغیر کچھ اور حاصل کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ۔ ‘‘
مسٹر عمر عبداللہ نے کہا کہ حکومت تعلیمی نظام کو بہتر بنانے پر توجہ دے رہی ہے تا کہ بچے تیزی بدلتے ہوئے دنیا کے چیلنجز کا سامنا کرنے کیلئے بہتر طور پر تیار ہو سکیں ۔ انہوں نے نصاب میں مصنوعی ذہانت جیسی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو شامل کرنے اور طلباء کو مستقبل کیلئے درکار علم اور مہارتوں سے اراستہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔ وزیر اعلیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ اسکول چھوڑنے کی شرح کم کرنے کیلئے عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے اور اس بات کی اہمیت کو اجاگر کیا کہ بچوں کو اعلیٰ ثانوی سطح تک تعلیمی نظام میں برقرار رکھنے کیلئے ٹھوس اور مشترکہ کوششیں کی جائیں ۔ وزیر اعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ سرکاری اور نجی اسکولوں کو ایک دوسرے کو حریف نظام سمجھنے کے بجائے مل جُل کر کام کرنا چاہئیے ۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اور نجی دونوں اسکولوں میں پڑھنے والے بچے یکساں طور پر جموں و کشمیر کا مستقبل ہیں اور ایسی پالیسیاں بنانے کی ضرورت ہے جن سے نجی تعلیمی ادارے تعلیمی نظام میں موثر طریقے سے اپنا کردار ادا کر سکیں ۔ اس سال نجی یونیورسٹیوں سے متعلق قانون سازی کا حوالہ دیتے ہوئے مسٹر عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد جموں و کشمیر کے اندر ہی مواقع پیدا کرنا ہے تا کہ طلبہ کو معیاری نجی اعلیٰ تعلیم کی تلاش میں علاقہ چھوڑنا نہ پڑے ۔ وزیر اعلیٰ نے ایس کے آئی سی سی میں ایک بڑے اجتماع میں شرکت کرنے والے طلبہ کے جوش و خروش اور کارکردگی کی تعریف کی نیز جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں ، ملک کے دیگر حصوں اور بیرون ملک سے آنے والے بچوں کی شرکت کو سراہا ۔ انہوں نے کہا کہ سرینگر میں منعقدہ اس مقابلے میں کیرالہ ، کرناٹک اور راجستھان جیسے مقامات کے طلبہ کے ساتھ بین الاقوامی شرکاء کی شرکت جموں و کشمیر کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلیمی اور ثقافتی روابط کی ایک مثبت علامت ہے ۔ وزیر اعلیٰ نے نوجوان شرکاء کی ذہنی حساب کتاب کی صلاحیتوں کی تعریف کی ۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کی یہ کامیابیاں ان کے والدین ، اسداتذہ اور الوہا انٹر نیشنل کا کریڈٹ ہیں اور انہوں نے یہ کہتے ہوئے کہ شرکت بذاتِ خود ایک کامیابی ہے تمام شرکاء کومبارکباد دی ۔ انہوں نے کہا ’’ آپ سب فاتح ہیں چاہے آپ یہاں سے کوئی ٹرافی لے کر گئے ہوں یا نہیں صرف یہاں موجود ہونا اور مقابلہ کر پانا ہی ایک فتح اور کامیابی ہے ۔ ‘‘
مسٹر عمر عبداللہ نے کہا کہ حکومت اے ایل او ایچ اے پروگرام کو سرکاری اسکولوں میں آگے بڑھانے کے امکانات تلاش کرے گی تا کہ طلباء کو اس طرح کے تعلیمی مواقع تک وسیع تر رسائی مل سکے ۔ انہوں نے کہا یہ ایک ایسی چیز ہے جسے ہمیں سرکاری سکول سسٹم میں بھی شامل کرنا چاہئیے تا کہ ہم اپنے بچوں کو برابر کے مواقع فراہم کر سکیں ۔ ‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر میں اے ایل او ایچ اے خاندان کو پھیلانے کی کوششیں کی جائیں گی ۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ کے مشیر مسٹر ناصر اسلم وانی ، ڈائریکٹر سکول ایجوکیشن کشمیر اور صدر اے ایل او ایچ اے ، ایم ڈی اے ایل او ایچ اے جموں و کشمیر کے علاوہ اساتذہ ، طلباء اور والدین بھی موجود تھے ۔










