بجبہاڑہ خوبصورتی منصوبہ یوٹیلیٹی منتقلی کے باعث تعطل کا شکار

منصوبہ بند نہیں ہوا،پائپ لائنیں اور تاریں ہٹانے تک کام شروع نہیں ہوسکا / سرکار

سرینگر//یو این ایس / جنوبی کشمیر کے بجبہاڑہ علاقے میں جاری خوبصورتی منصوبہ ترک نہیں کیا گیا ہے، تاہم منصوبے پر مزید کام اس وقت تک آگے نہیں بڑھ سکتا جب تک محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ اور محکمہ پاور ڈیولپمنٹ سمیت مختلف محکموں کی یوٹیلیٹیز کو منتقل نہیں کیا جاتا۔ یہ اطلاع جموں و کشمیر حکومت نے قانون ساز اسمبلی کو دی ہے۔محکمہ تعمیرات عامہ (آر اینڈ بی) کے مطابق بجبہاڑہ خوبصورتی منصوبہ اکتوبر 2025 میں الاٹ کیا گیا تھا اور پرانے قومی شاہراہ کے دونوں جانب تقریباً 700 میٹر کوریڈور پر کام مکمل کیا جاچکا ہے۔محکمہ نے بتایا کہ باقی ماندہ کام بھی معاہدے میں مقررہ مدت کے اندر مکمل کرلیا جائے گا، تاہم اس کے لیے پہلے متعلقہ یوٹیلیٹیز کو منتقل کرنا اور کام کے لیے مطلوبہ کوریڈور دستیاب کرانا ضروری ہے۔حکومت نے یہ جواب رکن اسمبلی ایس بشیر احمد شاہ ویری کی جانب سے بجبہاڑہ علاقے میں خوبصورتی منصوبے اور مختلف پلوں کی صورتحال سے متعلق پوچھے گئے غیر ستارہ سوال کے جواب میں دیا۔گنتالی پورہ تکبل پل کے حوالے سے حکومت نے بتایا کہ پل کی تعمیر مکمل ہوچکی ہے، تاہم اصل منصوبے کے تحت اس کے دونوں جانب اپروچ روڈ تعمیر نہیں ہوسکی۔پل کی تعمیر کے لیے ابتدائی طور پر 94.66 لاکھ روپے کی منظوری دی گئی تھی اور اپروچ روڈ کے لیے اوپن ٹرینچ کھدائی کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ تاہم مقام پر مٹی کی جانچ کے بعد محکمہ نے پائل فاو ¿نڈیشن اختیار کرنے کا فیصلہ کیا اور 2014 کی بلند ترین سیلابی سطح کے مطابق پل کی اونچائی بھی بڑھائی گئی۔بعد ازاں پل کی اپروچ روڈ کا کام الگ سے دسمبر 2025 میں شروع کیا گیا، جس کے لیے تقریباً 95 لاکھ روپے کا تخمینہ مقرر کیا گیا۔حکومت کے مطابق پل کی ایک جانب اپروچ کا کام کافی حد تک مکمل ہوچکا ہے، جبکہ دوسری جانب کام کی رفتار سست ہے کیونکہ محکمہ مال کے حکام نے متعلقہ زمین کو نجی یا ملکیتی اراضی قرار دیا ہے۔وپزن ہاپت کھٹ پل کی تعمیر مکمل ہوچکی ہے اور اسے یکم ستمبر 2026 سے عام ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے۔محکمہ کے مطابق اس پل کا کام مالی سال 2025-26 کے دوران یو ٹی سیکٹر کے تحت شروع کیا گیا تھا اور اس پر 40 لاکھ روپے لاگت آئی ہے۔درا شکوہ باغ اور پادشاہی باغ کے درمیان حال ہی میں افتتاح کیے گئے معلق پیدل پل سے متعلق لوگوں کی جانب سے اٹھائے گئے خدشات پر حکومت نے کہا کہ پیدل چلنے کے دوران پل میں محسوس ہونے والی حرکت یا ارتعاش ایسے پلوں کی ایک معمول کی خصوصیت ہے۔محکمہ نے وضاحت کی کہ معلق پیدل پل لچکدار اور کیبل کے سہارے قائم ڈھانچے پر مشتمل ہوتا ہے۔ پل سے پیدل افراد کے گزرنے کے دوران اس پر صرف جامد وزن نہیں پڑتا بلکہ چلنے کی وجہ سے متحرک بوجھ بھی پیدا ہوتا ہے۔محکمہ کے مطابق متحرک بوجھ کے نتیجے میں پل کی مرکزی کیبلز اور انہیں سہارا دینے والی کیبلز میں معمولی تبدیلی یا خم پیدا ہوتا ہے، جس کے باعث پل میں ہلکی حرکت محسوس ہوتی ہے۔جب حکومت سے پوچھا گیا کہ کیا پلوں میں مبینہ تکنیکی خامیوں اور حفاظتی خدشات کی جانچ کے لیے کوئی تکنیکی کمیٹی تشکیل دی جائے گی اور اگر کسی غفلت کی تصدیق ہوتی ہے تو ذمہ داری طے کی جائے گی، تو محکمہ نے کہا کہ متعلقہ پلوں کا پہلے ہی معائنہ اور تصدیق کی جاچکی ہے۔محکمہ تعمیرات عامہ نے اسمبلی کو بتایا کہ مذکورہ پلوں میں بظاہر کوئی تکنیکی خامی سامنے نہیں آئی ہے۔حکومت کے جواب میں کسی الگ تکنیکی کمیٹی کی تشکیل کی تجویز کا بھی ذکر نہیں کیا گیا۔یہ جواب محکمہ تعمیرات عامہ (آر اینڈ بی) کی جانب سے قانون ساز اسمبلی میں رکن اسمبلی ایس بشیر احمد شاہ ویری کے سوالات کے جواب میں پیش کیا گیا۔