یوٹی میں تقریبا ایک کروڑ سرکاری اور نزول اراضی موجود / حکومت
سرینگر// یو این ایس/ جموں و کشمیر حکومت نے انکشاف کیا ہے کہ مرکز کے زیر انتظام علاقے میں تقریباً ایک کروڑ کنال سرکاری اور نزول اراضی موجود ہے، جبکہ سابق ریاست جموں و کشمیر کے دور میں تجارتی مقاصد کے لیے دی گئی کم از کم 80 لیز کی مدت ختم ہوچکی ہے اور جموں و کشمیر لینڈ گرانٹس رولز 2022 کے تحت ان کی تجدید نہیں کی جائے گی۔اسمبلی میں رکن اسمبلی سجاد گنی لون کی جانب سے پوچھے گئے سوال کے تحریری جواب میں محکمہ مال نے بتایا کہ جموں و کشمیر میں 99,97,804 کنال اور 17 مرلہ سرکاری اراضی جبکہ 9,877 کنال اور 3.5 مرلہ نازول اراضی موجود ہے۔ تجارتی مقاصد کے لیے لیز پر دی گئی سرکاری اور نازول اراضی میں سے 531 کنال اور 16 مرلہ جموں ڈویڑن جبکہ 5,088 کنال اور 6 مرلہ کشمیر ڈویژن میں واقع ہے۔حکومت کے مطابق سابق ریاست جموں و کشمیر کے دور میں دی گئی 80 لیز کی مدت ختم ہوچکی ہے۔ تاہم حکومت نے واضح کیا کہ یہ تعداد مکمل نہیں ہے، کیونکہ اننت ناگ ضلع میں اس حوالے سے ریکارڈ دستیاب نہیں ہے، جبکہ سری نگر میں جہاں سب سے زیادہ لیز کی مدت ختم ہونے کی اطلاع ہے، درست تعداد کا تعین نہیں کیا جاسکا ہے۔تجدید کے حوالے سے حکومت نے واضح موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جموں و کشمیر لینڈ گرانٹس رولز 2022 کے قاعدہ 12 کے تحت لیز کی تجدید نہیں کی جائے گی۔ قاعدہ 6 کے تحت ایک بااختیار کمیٹی سرکاری اراضی کی نشاندہی اور تخصیص کرنے کے ساتھ ساتھ یہ طے کرے گی کہ کسی اراضی کو کس مقصد کے لیے لیز پر دیا جاسکتا ہے۔ضلع وار ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ختم ہونے والی متعدد تجارتی لیز کئی دہائیاں پرانی ہیں۔ ان میں کئی لیز 1930، 1940، 1950، 1960 اور 1970 کی دہائیوں میں دی گئی تھیں۔جموں ضلع کی فہرست میں ہوٹلوں، پٹرول پمپوں، دکانوں، اسکولوں، گیراجوں، ورکشاپوں، ریستورانوں، دفاتر اور دیگر تجارتی اداروں سے متعلق بڑی تعداد میں لیز شامل ہیں۔ ان میں اشوکا ہوٹل، رامادا ہوٹل، ہوٹل ضیافت، ہوٹل لارڈز اِن، پریزنٹیشن کانونٹ اسکول، ماڈل اکیڈمی، انڈین آئل کارپوریشن کے پٹرول پمپ اور متعدد تجارتی دکانیں شامل ہیں۔ریکارڈ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ کئی پرانی لیز میں وصول کیا جانے والا کرایہ موجودہ اراضی کی قدر کے مقابلے میں انتہائی کم تھا۔ مثال کے طور پر راچ رام نگر میں اشوکا ہوٹل کے لیے 60 کنال اراضی 1974 میں 40 سال کے لیے لیز پر دی گئی تھی، جس کی مدت 2014 میں ختم ہوگئی۔ ریکارڈ کے مطابق اس اراضی کی مالیت 78.26 کروڑ روپے، سرکل ریٹ 1.30 کروڑ روپے جبکہ عارضی اوسط مارکیٹ قیمت 1.75 کروڑ روپے فی کنال بتائی گئی ہے۔ اس لیز کا ریکارڈ شدہ کرایہ صرف 60 ہزار روپے تھا۔اسی طرح گاندھی نگر پولیس اسٹیشن کے قریب انڈین آئل کارپوریشن لمیٹڈ کے پٹرول پمپ کے لیے 1.72 کنال اراضی 1975 میں لیز پر دی گئی تھی، جس کی مدت 2015 میں ختم ہوگئی۔ ریکارڈ میں اس اراضی کی لیز ویلیو تقریباً 6.79 کروڑ روپے، سرکل ریٹ 2.20 کروڑ روپے اور عارضی مارکیٹ قیمت 7.25 کروڑ روپے درج ہے، جبکہ کرایہ 1000 روپے فی کنال درج کیا گیا ہے۔دیگر کئی پرانی لیز بی سی روڈ، ریذیڈنسی روڈ، گمٹ بازار، لَکھ داتا بازار، شالامار، اہاتا کلاں اور جوگی گیٹ جیسے اہم علاقوں میں موجود دکانوں اور تجارتی اداروں سے متعلق ہیں۔ ان میں سے بیشتر لیز ایسے وقت میں دی گئی تھیں جب زمین کی قیمتیں آج کے مقابلے میں کہیں کم تھیں۔سرکاری ریکارڈ سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ مسئلہ صرف جموں شہر یا بڑے تجارتی مراکز تک محدود نہیں ہے۔ادھم پور میں حکومت نے سرکاری احکامات اور لینڈ گرانٹ ایکٹ کے تحت دی گئی لیز کا ریکارڈ پیش کیا ہے، جس میں چنینی میں ایمپائرین اسکائی ویو پروجیکٹ پرائیویٹ لمیٹڈ کو 40 سال کے لیے دی گئی لیز بھی شامل ہے۔ڈوڈہ میں ایک کنال 11 مرلہ اراضی پر مشتمل دو لیز کا ریکارڈ موجود ہے۔ دونوں لیز 2013 میں 40 سال کے لیے دی گئی تھیں۔پونچھ میں حکومت نے 45 کنال 11 مرلہ اراضی پر مشتمل دو تجارتی لیز کا ذکر کیا ہے۔ ان میں منڈی تحصیل کے کیہنو اور کلانی دیہات میں 43 کنال 10 مرلہ اراضی آئی پی پی ایجنسی میگ پائی ہائیڈل کنسٹرکشن آپریشن انڈسٹریز کو 40 سال کے لیے 40 روپے فی کنال سالانہ گراو ¿نڈ رینٹ پر دی گئی تھی۔ اس وقت کیہنو میں مارکیٹ ریٹ 52 ہزار روپے اور کلانی میں 62 ہزار روپے فی کنال بتایا گیا تھا۔اسی طرح شہر خاص میں 2 کنال ایک مرلہ اراضی 21 سال کے لیے 6 ہزار روپے سالانہ پر لیز کی گئی تھی، جبکہ اس وقت اس کی مارکیٹ قیمت 7.60 لاکھ روپے فی کنال بتائی گئی تھی۔رام بن میں پن بجلی کے منصوبوں کے لیے کئی اراضی کے ٹکڑے 2015 سے 40 سال کی مدت کے لیے لیز پر دیے گئے تھے۔ اس کے علاوہ نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا کو 2021 میں 40 مرلہ اراضی تین سال کے لیے لیز پر دی گئی تھی، جس کی مدت فروری 2024 میں ختم ہوگئی۔بارہمولہ ضلع کے گلمرگ سے متعلق حکومت کا ریکارڈ خاصا وسیع ہے، جہاں ہوٹلوں اور جھونپڑی نما رہائشی یونٹس سے متعلق درجنوں لیز درج ہیں۔ ان میں ہوٹل افروٹ، الپائن رج، ہوٹل سٹی ویو، ہوٹل گرین ٹری لاج، ہوٹل گرین ہائٹس، ہوٹل رائل کاسل، ہوٹل روز وڈ، شا اِن، ہوٹل ویلکم، ہوٹل ز ±م ز ±م، ہوٹل ہِل ٹاپ، لوپن ریزورٹس، سیفکو ہٹ، پائن اسپرنگ اور دیگر کئی جائیدادیں شامل گلمرگ کی بیشتر لیز 1978 اور 1979 میں عموماً 40 سال کے لیے دی گئی تھیں، جس کے نتیجے میں ان میں سے بڑی تعداد کی مدت 2018 اور 2019 کے دوران ختم ہوگئی۔ تاہم پنیکل ریزورٹ اور جوہر سے متعلق بعض لیز اب بھی فعال ہیں اور ان کی مدت 2029 میں ختم ہوگی۔پلوامہ ضلع میں محکمہ مال نے سرکاری اراضی پر دی گئی نو تجارتی اور صنعتی لیز کا ریکارڈ پیش کیا ہے۔ ان میں جگری پریگام میں 599 اور 601 مرلہ کے دو قطعات شامل ہیں جو 1985 میں ایم ایس ٹرومبو پولٹری پرائیویٹ لمیٹڈ کو لیز پر دیے گئے تھے۔وایَن میں 17,600 مرلہ اراضی غلام حسن اور محمد سلطان کے نام لیز پر درج ہے، جس پر اس وقت ایچ ایکس سیمنٹس قابض ہے۔ زینترگ میں 3,522 مرلہ اراضی مشتاق احمد ٹرومبو کے نام درج ہے، جس پر موجودہ طور پر ٹی سی آئی سیمنٹس کام کر رہا ہے۔اسی طرح باتھن میں 1,968 مرلہ اراضی محمد شفیع ٹرومبو کے نام لیز پر دی گئی تھی، جہاں اب ٹی سی آئی میکس سیمنٹ موجود ہے۔ کھریو میں 19,200 مرلہ اراضی عمر شفیع کے نام لیز پر تھی، جس پر ٹی سی آئی میکس سیمنٹ قابض ہے۔ کھریو ہی میں 11,780 مرلہ اراضی ریاض احمد کے نام درج ہے، جہاں سیمنٹیک سیمنٹ موجود ہے۔اس کے علاوہ 8,442 مرلہ اراضی مشتاق مظفر کے نام درج ہے، جہاں آرکو سیمنٹس موجود ہے، جبکہ 3,979 مرلہ اراضی وقار آصف کے نام لیز پر دی گئی تھی اور اب وہاں آئی سی سی سیمنٹس موجود ہے۔ ان لیز کی مدت 20 سے 50 سال تک ہے اور ان میں کئی لیز 1980 اور 2000 کی دہائی میں دی گئی تھیں۔یہ انکشاف سرکاری اراضی کے انتظام سے متعلق حکومت کے 2022 کے بعد کے نئے طریقہ کار کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ نئے قواعد کے تحت پرانی تجارتی لیز میں توسیع کرنے کے بجائے سرکاری اراضی کی نشاندہی اور تخصیص کرکے مقررہ لیز فریم ورک کے تحت اس کے استعمال کا نظام وضع کیا گیا ہے۔تاہم محکمہ مال کے جواب سے تاریخی ریکارڈ کے حوالے سے اہم خامیاں بھی سامنے آئی ہیں۔ محکمہ نے واضح طور پر تسلیم کیا ہے کہ اننت ناگ ضلع میں متعلقہ ریکارڈ دستیاب نہیں ہے، جبکہ سری نگر میں ختم ہونے والی لیز کی تعداد سب سے زیادہ ہونے کے باوجود ان کی درست تعداد بھی معلوم نہیں کی جاسکی ہے۔سرکاری اعداد و شمار مجموعی طور پر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ جموں و کشمیر میں وسیع پیمانے پر سرکاری اراضی ماضی میں تجارتی مقاصد کے لیے طویل مدتی لیز پر دی جاتی رہی ہے، جبکہ بڑی تعداد میں ایسی لیز اب اپنی مدت پوری کرچکی ہیں اور 2022 کے قواعد کے تحت ان کی تجدید کا راستہ بند کردیا گیا ہے۔










