نئی دہلی/یو این آئی//دہلی کے شالیمار باغ علاقے میں انتظامیہ نے سڑک کی توسیع کے منصوبے کے نام پر بلڈوزر چلا دیے۔ اس دوران مدینہ مسجد کو شہید کرنے کے ساتھ ہی اس کے آس پاس بنے کئی مکانات کو منہدم کردیا گیا۔ کارروائی کے بعد علاقے میں کشیدگی کے پیش نظر بڑی تعداد میں پولیس اہلکار تعینات کیے گئے اور سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔اس کارروائی سے متعلق اپوزیشن جماعتوں نے بی جے پی حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے بجائے بی جے پی مذہب کے نام پر سیاست کر رہی ہے۔ سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ اودھیش پرساد نے الزام لگایا کہ بی جے پی فرقہ واریت پھیلا کر اقتدار میں برقرار رہنا چاہتی ہے اور تنوع میں اتحاد کے جذبے کو کمزور کر رہی ہے۔اودھیش پرساد نے مزید کہا کہ 2027 کا اتر پردیش اسمبلی انتخاب تاریخی ہوگا۔ ان کے مطابق یہ انتخاب بی جے پی کے زوال کا اشارہ دے گا اور اکھلیش یادو کی قیادت میں سماج وادی پارٹی کی حکومت بنے گی۔کانگریس لیڈر ابھیشیک دت نے بھی اس کارروائی کو غلط قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ دہلی میں جرائم مسلسل بڑھ رہے ہیں لیکن حکومت انہیں روکنے میں ناکام ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ عصمت ریزی اور قتل جیسے سنگین جرائم کرنے والوں کے خلاف بلڈوزر کارروائی کیوں نہیں کی جاتی؟ اس کے ساتھ ہی انہوں نے رام مندر میں چوری کرنے والوں کے خلاف بھی اسی طرح کی کارروائی کا مطالبہ کیا۔مقامی لوگوں نے کارروائی پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انتظامیہ نے مذہبی مقام کو نشانہ بنا کر غلط کیا ہے۔
دوسری جانب انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ قدم صرف سڑک چوڑی کرنے اور غیر قانونی قبضے ہٹانے کیلئے اٹھایا گیا ہے۔کارروائی کے بعد انتظامیہ صورتحال پر سخت نظر رکھے ہوئے ہے۔ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکنے کیلئے پولیس فورس تعینات ہے۔ یہ معاملہ اب سیاسی بحث کا مرکز بن گیا ہے جہاں اپوزیشن اسے مذہب پر مبنی سیاست قرار دے رہی ہے۔










