منصوبہ مرکزی روڈ اینڈ انفراسٹرکچر فنڈ کے تحت مالی سال 2026-27 کےلئے ترجیحی منصوبوں میں شامل
سرینگر// یو این ایس / سری نگر کی اہم رَمباغ نٹی پورہ شاہراہ کو کشادہ کرنے کے مجوزہ منصوبے کی لاگت 45 کروڑ روپے مقرر کی گئی ہے، تاہم یہ منصوبہ فی الحال مرکزی حکومت کی منظوری کا منتظر ہے۔ جموں و کشمیر حکومت نے قانون ساز اسمبلی کو یہ اطلاع دی ہے۔حکومت کے مطابق ”نٹی پورہ کراسنگ سے ز ±م ز ±م بلڈنگ رَامباغ کے قریب موجودہ فلائی اوور تک مرکزی سڑک کی کشادگی“ کے نام سے اس منصوبے کو مرکزی روڈ اینڈ انفراسٹرکچر فنڈ کے تحت مالی سال 2026-27 کے لیے ترجیحی منصوبوں میں شامل کیا گیا ہے اور منظوری کے لیے مرکزی حکومت کو بھیج دیا گیا ہے۔حکومت نے یہ معلومات رکن اسمبلی مشتاق گورو کی جانب سے قانون ساز اسمبلی میں پوچھے گئے غیر ستارہ سوال کے جواب میں فراہم کیں۔رَمباغ نٹی پورہ سڑک سری نگر کی ایک اہم مرکزی شاہراہ ہے، جہاں روزانہ بڑی تعداد میں گاڑیوں اور پیدل افراد کی آمدورفت ہوتی ہے۔ یہ سڑک کئی گنجان آباد رہائشی اور تجارتی علاقوں کو آپس میں جوڑتی ہے، جس کے باعث یہاں اکثر ٹریفک کے دباو ¿ کا سامنا رہتا ہے۔محکمہ تعمیرات عامہ (آر اینڈ بی) کے مطابق موجودہ صورتحال میں اس شاہراہ پر ٹریفک کو سٹی ٹریفک سری نگر کے اہلکاروں کی تعیناتی کے ذریعے منظم کیا جارہا ہے۔ ٹریفک کی روانی کو بہتر اور محفوظ بنانے کے لیے سڑک پر بیریئرز نصب کیے گئے ہیں اور بعض حصوں میں یک طرفہ ٹریفک کا نظام بھی نافذ کیا گیا ہے۔حکومت نے بتایا کہ موجودہ رَمباغ نٹی پورہ شاہراہ پر ٹریفک کا دباو ¿ کم کرنے کے لیے کئی متبادل منصوبے مکمل کیے جاچکے ہیں یا زیر تعمیر ہیں۔نٹی پورہ جنکشن سے برزلہ پل تک دودھ گنگا نالہ کے ساتھ متبادل سڑک کا منصوبہ سری نگر اسمارٹ سٹی اقدام کے تحت شروع کیا گیا تھا، جو اب مکمل ہوچکا ہے۔ اس منصوبے کے لیے 764 لاکھ روپے کی منظوری دی گئی تھی۔اسی طرح دودھ گنگا نالہ کے ساتھ نٹی پورہ سے چھانہ پورہ تک بنڈ روڈ منصوبے کو 350 لاکھ روپے کی لاگت سے منظور کیا گیا ہے اور اس پر اس وقت کام جاری ہے۔ حکومت کے مطابق اس سڑک کا مقصد ایک اضافی ٹریفک کوریڈور فراہم کرنا اور گاڑیوں کے ایک حصے کو موجودہ رَمباغ نٹی پورہ روٹ سے منتقل کرنا ہے۔برزلہ پل کے نیچے انڈر پاس بھی مکمل کیا جاچکا ہے، جس سے اس مقام پر ٹریفک کی آمدورفت کے لیے ایک اضافی علیحدہ راستہ دستیاب ہوگیا ہے۔اس کے علاوہ نٹی پورہ جنکشن کے قریب ٹی جنکشن بھی تیار کرکے مکمل کیا جاچکا ہے۔حکومت سے جب یہ پوچھا گیا کہ سڑک کے کن مخصوص حصوں کو کشادہ کیا جائے گا، اراضی کے حصول، تجاوزات ہٹانے اور مختلف یوٹیلیٹیز کی منتقلی کے لیے کیا اقدامات کیے جارہے ہیں، تو محکمہ نے بتایا کہ متعلقہ فیلڈ افسران اس سلسلے میں ابھی تجویز تیار کرنے کے عمل میں ہیں۔حکومت کے مطابق یہ تجویز تمام متعلقہ محکموں اور دیگر فریقین کے ساتھ مشاورت اور رابطے کے بعد تیار کی جارہی ہے۔اس صورتحال کا مطلب یہ ہے کہ حکومت نے 45 کروڑ روپے کے رَمباغ نٹی پورہ سڑک کشادگی منصوبے کو ترجیحی بنیادوں پر شامل کرکے مرکزی حکومت کو منظوری کے لیے بھیج دیا ہے، تاہم سڑک کے کن حصوں کو کشادہ کیا جائے گا، اراضی کا حصول کیسے ہوگا، تجاوزات کس طرح ہٹائی جائیں گی اور یوٹیلیٹیز کی منتقلی سمیت منصوبے پر عمل درآمد سے متعلق تفصیلی امور ابھی طے کیے جارہے ہیں۔مجوزہ کشادگی منصوبے کا مقصد سری نگر کی اس مصروف شاہراہ کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانا اور شہر کے اہم مرکزی ٹریفک راستوں میں شامل رَمباغ نٹی پورہ کوریڈور پر مسلسل بڑھتے ٹریفک دباو ¿ کو کم کرنا ہے۔










