وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے سری نگر شہر کے نکاسی آب کے نظام کا جائزہ لیا

وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے سری نگر شہر کے نکاسی آب کے نظام کا جائزہ لیا

نکاسی آب کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کیلئے وقت مقررہ کے اندر اقدامات کی ہدایت

سری نگر//وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے سری نگر شہر ڈرنیج سیکٹر کا جائزہ لینے کے لئے ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی جس میں پانی جمع ہونے کے مسئلے سے نمٹنے، بارشی پانی کی نکاسی کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور شہر کی نکاسی آب کی صلاحیت کو بہتر بنانے کے لئے فوری اور طویل المدتی اقدامات پر توجہ مرکوز کی گئی۔کمشنرسری نگر میونسپل کارپوریشن فضل الحسیب نے سری نگر کے نکاسی آب کے نظام کے حوالے سے تفصیلی پرزنٹیشن پیش کی اور شہر میں بارشی پانی کے اِنتظام سے متعلق بنیادی ڈھانچے اور ماحولیاتی چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے ایک جامع پانچ سالہ مربوط لائحہ عمل پیش کیا۔پرزنٹیشن میں بتایا گیا کہ سری نگر میں اس وقت تقریباً 680 کلومیٹر طویل بارشی پانی کی نکاسی کا نیٹ ورک موجود ہے جبکہ ماسٹر پلان 2035 کے تحت متوقع مستقبل کی شہری ترقی کے پیش نظر شہر کو تقریباً 2,500 کلومیٹر مزید نالوں کی ضرورت ہے۔ موجودہ بارشی پانی کی نکاسی کے تقریباً 15 فیصد نیٹ ورک میں نالوں کے ناکافی سائز، پرانے بنیادی ڈھانچے، گاد جمع ہونے اور ٹھوس کوڑا کرکٹ کے داخل ہونے کے باعث پانی کی نکاسی کی صلاحیت مطلوبہ سطح پر نہیں ہے۔جائزے کے دوران تیزی سے بڑھتی ہوئی شہری آبادی کے سری نگر کے قدرتی نکاسی آب کے نظام پر پڑنے والے اثرات کو بھی اُجاگر کیا گیا اور باقی ماندہ نیچرل ڈرنیج کے راستوں کے تحفظ اور بحالی کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ اِس موقعہ پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہرحتی الامکان نکاسی آب کے نظام کو مضبوط بنایا جانا چاہیے تاکہ چند گھنٹوں کی بارش کے بعد شہر میں پانی جمع ہونے کی نوبت نہ آئے۔اُنہوں نے سری نگر میونسپل کارپوریشن کو ہدایت کی کہ تجویز کردہ قلیل المدتی اقدامات کو اس کے معیاری آپریٹنگ طریقہ کار کے طور پر اَپنایا جائے اور اس پر بروقت عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ اُنہوں نے مزید ہدایت دِی کہ جب بھی شدید بارش کی پیش گوئی یا الرٹ موصول ہو تو ایس ایم سی فوری طور پران اقدامات کو فعال کرے تاکہ پانی جموں ہونے کو کم سے کم کیا جاسکے اور اس کے اثرات کو محدودکیا جاسکے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ،’’اگرچہ ان اقدامات سے کچھ فوری مسائل کو حل کرنے میں مدد ملے گی لیکن سب سے بڑا چیلنج بنیادی ڈھانچہ ہے۔‘‘ اُنہوں نے ایس ایم سی کو ہدایت دی کہ طویل المدتی اقدامات کی پیش رفت کرے، ایک اہل ایجنسی کی خدمات حاصل کرے اور تفصیلی پروجیکٹ رِپورٹ (ڈِی پی آر) تیار کرے۔اُنہوں نے زور دیا کہ ڈِی پی آر اور مجوزہ اقدامات کو مجموعی نکاسی آب کے منصوبے کا حصہ ہونا چاہیے۔ اُنہوں نے ایس ایم سی کو ہدایت دی کہ تمام متعلقہ محکموں کو اعتماد میں لیا جائے اور ڈِی پی آر اور مالی ضروریات کو حتمی شکل دینے کے بعد فنڈنگ کا طریقہ کار طے کیا جائے جس میں متعلقہ محکموں کے دستیاب وسائل بھی شامل ہوں۔وزیراعلیٰ نے شہریوں میں مسلسل بیداری مہم بالخصوص ٹھوس کوڑاکرکٹ، پلاسٹک کی بوتلوں اور پولیتھین بیگز کو مناسب طریقے سے ٹھکانے لگانے کے حوالے سے چلانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ اُنہوں نے کہا کہ پولیتھین بیگز نکاسی آب کے نظام میں رُکاوٹ پیدا ہونے کی ایک بڑی وجہ ہیں اور نالوں کو کچرے سے پاک رکھنے میں عوامی شرکت بڑھانے پر زور دیا۔مجوزہ فوری اقدامات میں موجودہ نالوں کی صفائی اور ڈِ ی سلٹنگ، رکاوٹیں دور کرنا، روزانہ ٹھوس کچرے کو اُٹھانا، نامکمل نکاسی آب کے رابطوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنا، بڑے کھلے نالوں میںمیکنیکل سکرینوں کی تنصیب اور پانی نکالنے والے سٹیشنوں کے لئے بیک اَپ پاور کویقینی بنانا شامل ہے۔طویل المدتی اقدامات میں اضافی ڈی واٹرنگ سٹیشنوں کی تعمیر، سیوریج اور بارشی پانی کے نکاسی کے نیٹ ورک کو الگ کرنا، پرانے اور نیچرل نالوں کو اَپ گریڈ کرنا، تجاوزات کی روکتھام اور جھیلوں کا تحفظ و بحالی شامل ہیں۔مجوزہ مربوط پروگرام کو پانچ برسوں میں دو مرحلوں میں عملایا جائے گا جس میں پہلے تجارتی اور گنجان آبادی والے علاقوں کو ترجیح دی جائے گی جس کے بعد نشیبی علاقوں پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔
میٹنگ میں سری نگر ضلع کے اراکینِ اسمبلی نے بھی شرکت کی جن میں ممبر اسمبلی خانیار علی محمد ساگر، رُکن اسمبلی عیدگاہ مبارک گل، ممبر قانون ساز اسمبلی حبہ کدل شمیم فردوس،رُکن قانون ساز اسمبلی زڈی بل تنویر صادق، ممبر اسمبلی حضرت بل سلمان ساگر، رُکن اسمبلی چھانہ پورہ مشتاق گورو اور ایم ایل اے لال چوک شیخ احسان احمد شامل تھے۔ اُنہوں نے سری نگر شہر کے نکاسی آب کے نظام کے حوالے سے اپنی آرا ٔاور تجاویز پیش کیں۔چیف سیکرٹری اَتل ڈولو، ایڈیشنل چیف سیکرٹری جل شکتی شالین کابرا، وزیر اعلیٰ کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری دھیرج گپتا،اے سی ایس پی ڈی ڈی اشونی کمار،اے سی ایس پی ڈبلیو ڈِی انیل کمار،اے سی ایس فائنانس شیلندر کمار، کمشنر سیکرٹری مکانات و شہر ی ترقی مندیپ کور،صوبائی کمشنر کشمیر انشل گرگ، ضلع ترقیاتی کمشنر سری نگر، مختلف محکموں کے سربراہان، چیف انجینئروں، سینئر انجینئروں اور دیگر متعلقہ افسران نے بھی میٹنگ میں شرکت کی۔