واسک ناگ کا سیاحتی مقام سیاحتی نقشے سے اوجھل

وادی کی خوبصورت ترین جگہ کی طرف خصوصی توجہ دینے کی اپیل

سرینگر///جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کے پیر پنچال دامنِ تلے واقع علاقہ وادی کنڈ قدرتی حسن میں کسی اور تفریحی مقام سے کم نہیں مگر ابھی تک یہاں حکومت یا نجی شعبے کی جانب سے قیام و طعام کی سہولیات فراہم کرنے کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی ہے۔واسک ناگ پیر پنچال دامنِ تلے واقع وادی کنڈ کولگام کا سیاحتی مقام جو قدرتی حسن سے مالا مال ہے۔وادی کنڈ کا علاقہ زیادہ تر خشک پہاڑی اور صحرائی علاقوں پر مشتمل ہے لیکن ان کے درمیان متعدد ایسے مقامات ہیں جو خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہیں۔ان ہی مقامات میں سے ایک خوبصورت تفریحی مقام واسک ناگ بھی شامل ہے جسے دیکھنے والے لوگ چھپی ہوئی جنت سے بھی تشبیہ دیتے ہیں۔ وائس آف انڈیا کے کے مطابق ضلع کولگام سے محض 30 کلومیٹر کی دوری پر واقع واسک ناگ وادی کنڈ کولگام کا سیاحتی مقام سیاحتی نقشے سے اوجھل ہے۔ واسک ناگ کولگام کا سیاحتی مقام سیاحتی نقشے سے اوجھل خوبصورت جگہ ہونے کے باوجود بھی حکومت نے اس حسین وادی کو سیاحتی نقشے میں شامل نہیں کیا۔ مقامی شہری و سماجی کارکن ایڈوکیٹ عبدا رحمان تانترے نے وی او آئی نمائندے امان ملک کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کشمیر کی آدھی سے زیادہ آبادی کی معشیت سیاحتی شعبے پر ہی منحصر کرتی ہے۔لیکن وادی کنڈ خوبصورت ہونے کے باوجود بھی سیاحتی مقام کا درجہ حاصل کرنے کے لئے حکومت کی نظروں سے اوجھل ہے۔اس علاقے کے اکثر لوگ روزگار وسائل نہ ہونے کی وجہ سیمفلسی کی زندگی گذار رہے ہیں۔اگر اس خوبصورت جگہ کو سیاحتی مقامات میں شامل کیا جاتا تو اس علاقے کے لوگوں کے لئے بھی کئی طرح کے روزگار وسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔یہ علاقہ قدرتی حسن میں کسی اور تفریحی مقام سے کم نہیں مگر ابھی تک یہاں حکومت یا نجی شعبے کی جانب سے قیام اور طعام کی سہولیات زیادہ نہیں ہے۔یہاں پر بیت الخلاء کا نہ ہونا بھی لوگوں کے لیے باعث تشویش ہے۔اور انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ کم سے کم لوگوں کی سہولیات کیلئے یہاں پر چند بیت الخلاء کا قیام عمل میں لایا جائے۔واسک ناگ کا راستہ دشوار اور سفر مشکل ہے مگر اس کے قدرتی حسن کو دیکھ کر انسان فوراً ان مشکلات کو بھول جاتا ہے۔یہ علاقہ نا صرف خوبصورت ہے بلکہ وہاں پرکشش آبشاریں ہر وقت گن گناتی ہیں۔جو سیاح یہاں آتے ہیں وہ اسے ایک منفرد جگہ قرار دیتے ہیں۔یہاں آنے والے لوگ کہتے ہیں کہ انھوں نے کشمیر، اننت ناگ اور کولگام کے دیگر علاقوں کو بھی دیکھا ہے لیکن واسک ناگ جیسا علاقہ نہیں دیکھا اور اسے چھپی ہوئی جنت بھی قرار دیتے ہیں۔