دفعہ 370کی منسوخی کے بعد لوگ پہلی بار اپنی رائے دہی کا استعمال کررہے ہیں
سرینگر//وادی کشمیر میں پارلیمانی نشست سرینگر میں لوک سبھا انتخابات کے چوتھے مرحلے کے تحت سرینگر نشست پر پہلی بار بغیر ہڑتالی کال کے ووٹنگ ہوگی ۔ اس نشست پر نمایاں امیدواروں میں نیشنل کانفرنس کے آغا سید روح اللہ مہدی اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (PDP) کے وحید الرحمن پارا ہیں۔وائس آف انڈیا کے مطابق وادی کشمیر میں پارلیمانی نشست سرینگر میں لوک سبھا انتخابات کے چوتھے مرحلے کے تحت سرینگر نشست پر پہلی بار بغیر ہڑتالی کال کے ووٹنگ ہوگی ۔ اس نشست پر نمایاں امیدواروں میں نیشنل کانفرنس کے آغا سید روح اللہ مہدی اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (PDP) کے وحید الرحمن پارا ہیں۔دفعہ 370 ہٹائے جانے کے بعد پہلی بار لوک سبھا انتخابات بغیر کسی بائیکاٹ کے ہونے جا رہے ہیں۔ سماج کے تمام طبقات اس تبدیلی کو ایک مثبت تبدیلی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔اس سے قبل جب بھی وادی کشمیر میں انتخابات کا اعلان ہوتا تھا، علیحدگی پسندوں کی طرف سے بائیکاٹ کی کال دی جاتی تھی، جس کا اثر کافی حد تک نظر آتا تھا۔ لیکن دفعہ 370 ہٹائے جانے کے بعد پہلی بار لوک سبھا انتخابات بغیر کسی بائیکاٹ کے ہونے جا رہے ہیں۔ سماج کے تمام طبقات اس تبدیلی کو ایک مثبت تبدیلی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق اپنے نمائندوں کا انتخاب کرنا ان کا حق ہے جو کہ گزشتہ تیس سالوں سے دباؤ کی وجہ سے چھین لیا گیا۔کشمیر میں پتھراؤ اب تاریخ بن چکا ہے۔ سری نگر شہر کا تاریخی لال چوک سیاسی نعروں سے گونج رہا ہے۔ کلاک ٹاور انتخابی سرگرمیوں کی گواہی دے رہا ہے۔ یہ وہی کلاک ٹاور ہے جو پچھلی تین دہائیوں سے بند کی کال، پتھراؤ، انکاؤنٹر اور علیحدگی پسندوں کے جلوسوں کا منظر ہے۔ لیکن اب وادی میں پہلے انتخابات علیحدگی پسندوں کے بائیکاٹ کی کال کے بغیر ہوں گے۔اسے 2019 کے بعد سے ایک بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ایک مقامی باشندے سہیل احمد نے کہا، وہ لوگ (علیحدگی پسند) جو کشمیر میں بائیکاٹ کی کالیں دیتے تھے، ان پر گزشتہ چند سالوں سے این آئی اے سمیت دیگر ایجنسیوں نے سختی کی ہے۔ کچھ گھروں میں نظر بند ہیں اور کچھ جیل میں ہیں۔ ایک اور مقامی ظہور حسین نے بتایا کہ وہ بائیکاٹ کی کالیں دیتے تھے اور لوگ ڈر کے مارے ووٹ نہیں ڈالتے تھے لیکن ہر کسی کو اپنا نمائندہ منتخب کرنے کا حق ہے، اس لیے وہ اس بار اپنا حق استعمال کریں گے۔










