وادی میں کولڈ سٹوریج میں رکھا گیا میوہ خرا ب ہونے کی گگار پر

بازاروں میں معقول قیمت نہ ملنے کی وجہ سے تاجران پریشان

سرینگر///کولڈ سٹوریج میں جمع میوہ جات خراب ہورہاہے جس کی وجہ سے میوہ بیوپاریوں کو نقصان سے دوچار ہونا پڑرہا ہے جبکہ سیزن میں ایک ساتھ مال باہر نکلانے کی وجہ سے بازاروں میں معقول قیمت نہیں آرہی ہے ۔ وادی کشمیر میں میوہ کو محفوظ رکھنے کیلئے قائم کئے گئے کولڈ سٹوریج کی تعداد بڑھ رہی ہے اور اس وقت وادی بھر میں بشمول جنوبی کشمیر 50کولڈ سٹوریج موجود ہے جن میں سیزن میں میوہ سٹور کرکے اس کے مئی ، جون اور جولائی میں نکالا جاتا ہے تاہم کولڈ سٹوریج کی تعداد بڑھ جانے کی وجہ سے میوہ ایک ساتھ منڈیوں میں آتا ہے جس کی وجہ سے میوہ کی قیمتوں میں کمی واقع ہورہی ہے جو کولڈ سٹوریج مالکان کے ساتھ ساتھ تاجروں کیلئے نقصان کا باعث بن رہا ہے۔ وائس آف انڈیا کے مطابقکولڈ سٹوریج میں جمع میوہ جات خراب ہورہاہے جس کی وجہ سے میوہ بیوپاریوں کو نقصان سے دوچار ہونا پڑرہا ہے جبکہ سیزن میں ایک ساتھ مال باہر نکلانے کی وجہ سے بازاروں میں معقول قیمت نہیں آرہی ہے ۔ وادی کشمیر میں میوہ جات کو سٹور رکھنے کیلئے کولڈ سٹوریج کی تعداد بڑھ رہی ہے اور اس وقت شمالی و جنوبی کشمیر سمیت وادی بھر میں 50کے قریب کولڈ سٹوریج موجود ہیں جن میں میوہ رکھا جاتا ہے تاہم کولڈ سٹوریج قائم کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے جس کی وجہ سے میوہ کی قیمتوں میں کمی واقع ہورہی ہے کیوں کہ میوہ کولڈ سٹوریجوں سے ایک ساتھ نکال کر مارکیٹ میں لایا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں کئی ایک سٹوریج مالکان نے وی او آئی نمائندے امان ملک کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ کولڈ ریج میں رکھے میوہ جات کو ماہ مئی ، جون اور جولائی میں نکال کر وادی اور بیرون وادی منڈیوں کو سپلائی کیا جاتا ہے اور اس وقت ان کولڈ سٹوریجوں سے میوہ باہر نکالا جاتا ہے تاہم حد سے زیادہ کولڈ سٹوریج ہونے کی وجہ سے میوہ بازاروں میں کافی مقدار میں پہنچ رہا ہے جو میوہ جات کی قیمتوں میں کمی کا باعث بن رہا ہے۔ انہوںنے بتایا کہ اگر کولڈ سٹوریج کی تعداد کم ہوگی تو میوہ بھی کم تعداد میں مارکیٹ پہنچے گا جو قیمتوں کو اعتدال پر رکھے گا۔ انہوںنے بتایاکہ وادی میں مزید کولڈ سٹوریج قائم کرنے کی اجاز ت نہیں دی جانی چاہئے۔ انہوںنے بتایا کہ کولڈ سٹوریج مالکان ابھی بھی بینکوں کے قرضوں کے تلے دبے ہوئے ہیں اور کرایہ بھی نہیں آرہی ہے اس لئے اس معاملے کو سنجیدگی سے لینا چاہئے۔تاجروں نے بتایا کہ آئندہ برس کولڈ سٹوریجوں کی تعداد نہیں بڑھنی چاہئے تاکہ بیوپاریوں کو مزیدنقصان نہ اُٹھانا پڑے۔