فضائی آلودگی، فاسٹ فوڈ کشمیر میں دمہ کے مریضوں میں اضافہ کا سبب بن رہے ہیں۔ ڈاکٹرس ایسوسی ایشن
سرینگر//ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیر نے چونکا دینے والے انکشافات کرتے ہوئے کہاہے کہ وادی میں دمہ کے مریضوں میںمسلسل اضافہ ہورہا ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ فضائی آلودگی اور ’’فاسٹ فوڈ‘‘ کااستعمال ہے ۔ انہوںنے کہا کہ گزشتہ چند برسوں میں مشاہدہ کیا گیا ہے کہ وادی میں کم عمر افراد یا نوجوانوں کی جانب سے فاسٹ فوڈ کا زیادہ استعمال ہورہا ہے جبکہ گاڑیوں، فیکٹریوں اور اینٹ بٹھوں میں بے ہنگم اضافہ کی وجہ سے ہوا کا معیار خراب ہورہا ہے ۔ سی این آئی کے مطابق دمہ کے عالمی دن کے موقع پر ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیر (ڈی اے کے) نے منگل کو کشمیر میں دمہ کے مریضوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا۔ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر نثار الحسن نے کہاکہ فضائی آلودگی اور فاسٹ فوڈ وادی میں دمہ کے مریضوں میں اضافہ کا باعث بن رہے ہیں۔ ڈاکٹر حسن نے کہا کہ کشمیر میں گزشتہ چند سالوں سے گاڑیوں، تعمیرات، اینٹوں کے بھٹے، سیمنٹ اور دیگر کارخانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے ہوا کا معیار مسلسل خراب ہو رہا ہے جو آلودگی کا اخراج کرتے ہیں اور ہماری ہوا کو نمایاں طور پر آلودہ کرتے ہی اور یہ وادی میں دمہ کے بڑھتے ہوئے معاملات کے پیچھے کے محرکات ہیں۔ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کے صدر نے کہا کہ’’برٹش میڈیکل جرنل میں شائع ہونے والی ایک تحقیق سے پتا چلا ہے کہ ماحولیاتی آلودگیوں کی اعلی سطح کے سامنے آنے والے بچوں میں ان بچوں کے مقابلے میں دمہ ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے جو ظاہر نہیں ہوئے تھے۔‘‘تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ فضائی آلودگی کے ارتکاز میں ہر 5µg-فی کیوبک میٹر اضافے کے لیے دمہ میں تقریباً 4 یا 5% اضافہ ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ صرف وہی نہیں جو آپ سانس لیتے ہیںبلکہ جو کچھ آپ کھاتے ہیں اس سے آپ کو دمہ ہونے کا خطرہ ہوتا ہیایک تحقیق کے مطابق اگر بچے اور نوعمر افراد ہفتے میں تین بار سے زیادہ فاسٹ فوڈ کھاتے ہیں تو ان میں دمہ ہونے کا امکان تقریباً 40 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔ ڈاکٹر نثار نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں فاسٹ فوڈ نے کشمیر میں گھریلو کھانوں کی جگہ لے لی ہے۔ بچوں اور نوعمروں کو اکثر برگر، پیزا، فرنچ فرائز اور نوڈلز جیسے فاسٹ فوڈز لیتے ہوئے دیکھا جاتا ہے۔انہوں نے کہاکہ گھریلو غذا سے پروسس شدہ اور آسان کھانوں میں غذائی عادات میں یہ تبدیلی دمہ کے کیسز میں اضافے کی ایک اور وجہ ہو سکتی ہے۔لوگوں کو خاص طور پر نوجوان نسل کو اس بیماری سے بچانے کے لیے ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کی فوری ضرورت ہے۔ڈاکٹر نثارالحسن نے کہا کہ ہمیں والدین کو جانکاری دینے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنے بچوں کو صحت مند کھانے اور فاسٹ فوڈز سے بچنے کی ترغیب دیں۔










