پہلگام میں سیاحتی اداروں کو 400کروڑ روپے کانقصان
سرینگر//سیاحتی پہلگام میں تاجروں کو صرف تین ماہ کے دوران 400کروڑ روپے کا نقصان اُٹھانا پڑا ہے کیوں کہ پہلگا میں ان تین مہینوں میں 95فیصدی سیاحوں کی کمی دیکھی گئی جبکہ رواں برس کے جنوری مہینے سے جون تک سیاحوں کی اس قدر تعداد تھی کہ کسی ہوٹل میں کوئی کمرہ خالی نہیں تھا اور پیشگی بکنگ تھی۔ اس بیچ معلوم ہوا ہے کہ پہلگام میں ایک وقت میں 19ہزار سیاح قیام کرسکتے ہیں جبکہ منظور شدہ ہوٹلوں ، گیسٹ ہاوسز اور ہوم سٹے میں 9ہزار سے زائد کمرے دستیاب ہیں ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق وادی کشمیر میں سیاحتی سرگرمیوں میں گزشتہ تین ماہ میں کمی دیکھنے کو مل رہی ہے اور سیاحتی مقامات میں غیر مقامی سیاحوں کی تعداد کم ہوتی جارہی ہے ۔ ماہرین کے مطابق اس کی کئی وجوہات ہیں باہر کی ریاستوں میں کئی ایک جگہوں پر موسمی صورتحال خراب ہوئی اور سیلابی صورتحال کی وجہ سے لوگوںکو پریشانیاں ہوئیں جبکہ دیگر وجوہات بھی ہوسکتے ہیں ۔ وی او آئی نمائند امان ملک کے مطابق پہلگام جو وادی کشمیر میں سب سے بڑا سیاحتی مقام مانا جاتا ہے میں اس وقت سیاحوں کی تعداد انتہائی کم ہے اور صرف گزشتہ تین مہینوں کے دوران سیاحت سے جڑے اداروں کو قریب 400کروڑ رپے کاخسارہ برداشت کرنا پڑا ہے ۔ پہلگام میں ایک وقت میں 19ہزار سیاح ٹھہر سکتے ہیں جبکہ سیاحتی مقام پر رجسٹریشن 9ہزار 132کمرے دستیاب ہیں۔ وہاں اے گریڈ ہوٹل 16، بی گریڈ 21،سی گریڈ 70، ہیںاس کے علاوہ گیسٹ ہاوس ، سٹے ہومز سرکاری سطح پر منظور شدہ 62ویری ناگ 86اور اہربل میں 15نیو گائیڈ لائن میں 259ہیں۔گزشتہ تین ماہ کے دوران 95فیصدی سیاحتی سرگرمیاں کمی ہوئی ہے ۔جس کی وجہ سے تاجروں کو 400کروڑ کا نقصان پہنچا ۔جنووری سے پہلے چھ ماہ میںسیاحوں کی بھر مار تھی اور ہر کسی ہوٹل میں بُکنگ تھی اور ہوٹلوں میں جگہ نہیں تھی اس کے علاوہ پیشگی بکنگ بھی ہوا کرتی تھی لیکن ان تین مہینوں میں سیاحتی سرگرمیاں کافی کم ہوئی ہے ۔










