جنتَر منتر پر کشمیر سے متعلق مؤقف پر تنازع، عمر عبداللہ کی محبوبہ مفتی پر سخت تنقید
سرینگر// جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کے حالیہ بیان کو “غیر ذمہ دارانہ” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں اپنے ریمارکس پر عوام سے معافی مانگنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ طاقت کے استعمال کو جائز قرار دینے جیسے بیانات نہ صرف کشمیری عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہیں بلکہ ایسے بیانات لوگوں کو اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے سے بھی روکتے ہیں۔یو این ایس کے مطابق سری نگر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اگر کوئی سابق وزیر اعلیٰ یہ کہے کہ کشمیر میں عسکریت پسندی کے نام پر طاقت کا استعمال درست تھا تو پھر عوام ریاستی درجہ بحال کرنے یا دیگر جمہوری حقوق کے لیے احتجاج کرنے سے ہچکچائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ محبوبہ مفتی کے لیے بہتر ہوتا کہ وہ جنتَر منتر نہ جاتیں۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ محبوبہ مفتی نیشنل کانفرنس کے ریاستی درجہ کی بحالی کے احتجاج میں شریک ہونے نہیں گئیں بلکہ طلبہ کے احتجاج کی حمایت کے لیے وہاں موجود تھیں، تاہم اسی موقع پر انہوں نے کشمیر میں ماضی میں طاقت کے استعمال کا دفاع کیا، جو ناقابلِ فہم ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا عسکریت پسندی کی موجودگی میں بچوں کو انصاف نہیں ملنا چاہیے، پاسپورٹ جاری نہیں ہونے چاہئیں یا قوانین پر عمل درآمد روک دیا جانا چاہیے؟عمر عبداللہ نے کہا کہ محبوبہ مفتی کو مختلف مقامات پر مختلف مؤقف اختیار کرنے کی پرانی عادت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ اپنے بیان پر معذرت کر لیتیں تو اس سے ان کا قد کم نہ ہوتا، لیکن اب مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا حوالہ دے کر اپنے بیان سے انکار کرنا عوام کی سمجھ بوجھ کی توہین ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ محبوبہ مفتی نے نہ 2015 میں بی جے پی کے ساتھ اتحاد پر معذرت کی، نہ 2016 کے حالات پر افسوس کا اظہار کیا، اور اب بھی اپنے حالیہ بیان پر معافی مانگنے کے بجائے اس کا دفاع کیا جا رہا ہے۔اننت ناگ میں ایک پولیس اہلکار کی ہلاکت کے بعد بڑے پیمانے پر کی گئی گرفتاریوں پر تبصرہ کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ ان کارروائیوں کے مخالف ہیں کیونکہ عوامی تعاون کے بغیر عسکریت پسندی کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر گھروں کو مسمار کیا جائے، لوگوں کو گرفتار کیا جائے اور انہیں ہراساں کیا جائے تو عوام کا اعتماد حاصل نہیں کیا جا سکتا۔یو این ایس کے مطابق انہوں نے کہا کہ اگر تقریباً 2,500 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے تو اس سے ہزاروں خاندان متاثر ہوئے ہیں، جس سے عوامی دوری میں اضافہ ہوگا اور یہ انسدادِ عسکریت پسندی کی کوششوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے سے متعلق سوال پر عمر عبداللہ نے کہا کہ اس کا اصل کریڈٹ طلبہ کو جاتا ہے، جنہوں نے اپنے مطالبات کے لیے ثابت قدمی سے جدوجہد کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر استعفیٰ دینا ہی تھا تو پہلے دینا چاہیے تھا، کیونکہ کامیابی کا اصل سہرا طلبہ کے سر ہے۔










