کہا ، نوجوانوں کو اَپنی روزی روٹی کمانے کیلئے خود روزگارکی خاطر ہنر حاصل کرنے کیلئے آگے آنا چاہیئے
جموں//چیف سیکرٹری ڈاکٹر ارون کمار مہتا نے آج کہا کہ متعلقہ ٹریڈوں میں نوجوانوں کی ہنرمندی جموںوکشمیر یوٹی میں بے روزگاری کے مسئلے پر قابو پانے کی کلید ہے۔اِن باتوں کا اِظہار آج ڈاکٹر ارون کمار مہتا نے شراکت داروں کے ساتھ نوجوانوں کی ہنرمندی، صلاحیت سازی کے طریقوں او رذرائع پر تبادلہ خیال کرنے کے دوران ایک میٹنگ میں کیا۔میٹنگ میں پرنسپل سیکرٹری سکل ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ ، کمشنر سیکرٹری آر ڈی ڈی ، ڈائریکٹر آئی آئی ایم جموں ، ضلع ترقیاتی کمشنروں ، ایم ڈی این آر ایل ایم ، ڈائریکٹر ایس ڈی ڈی ، بینکوں کے نمائندے اور دیگر متعلقہ اَفسران نے شرکت کی۔اِس موقعہ پر ڈاکٹر ارون کما ر مہتا نے اَفسران پر زور دیا کہ وہ اضلاع میں روزگار کے اِمکانات اور سرمایہ کاری کے متوقع شعبوں کے مطابق سکل کا نقشہ بنائیں ۔ اُنہوں نے اَفسران سے کہا کہ وہ ہر نوجوان کو قابلیت اور رضامندی کے طورپرسکلز فراہم کریں۔ اُنہوں نے ایسی سکلز فراہم کرنے پر زور دیا جو مارکیٹ میں متعلقہ ہوں اور فائدہ مند روزگار میں اس شخص کی مدد کریں۔چیف سیکرٹری نے ان نوجوانوں کو ہنرمند بنانے کے لئے ایک مضبوط میکانزم بنانے کی ہدایات جاری کیں جن کی شناخت حال ہی میں’’ بیک ٹو وِلیج ‘‘ اور ’’ مائی ٹائون مائی پرائید ‘‘ کے پروگراموں کے دوران ہوئی تھی۔اُنہوں نے پنچایتوں اور لوکل باڈیز سے شناخت کئے گئے ان نوجوانوں کو صحیح ہنر فراہم کرنے پر زور دیا تاکہ وہ دوسروں کے لئے ترغیب کا باعث بنیں۔ اُنہوں نے اِس بات کا اعادہ کیا کہ اَگلے چند برسوں میں تقریباً 60,000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری جموںوکشمیر یوٹی میں سنگل وِنڈو سسٹم کے تحت آنے والی ہے اور اِس سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار حاصل کرنے کے دروازے کھلیں گے۔ڈاکٹر ارون کمار مہتا مزید کہا کہ ایل جی اِنتظامیہ نے جموںوکشمیر کے نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کے لئے ایک کثیر الجہتی حکمت عملی تیار کی ہے ۔ اُنہوں نے جموںوکشمیر یوٹی میں ہر نوجوان کو ہنر مند بنانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ منافع بخش خود روزگار کے مواقع ایک حقیقت بن جائیں اور نوجوان حکومت کی رہنمائی اور تعاون سے کامیاب کاروباری بنیں۔ اُنہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ حکومت کی یہ بھی کوشش ہے کہ نوجوانوں کو اعلیٰ صلاحیتوں میں اضافہ کیا جائے تاکہ وہ دُنیا کے کسی بھی حصے میں روزگار حاصل کرنے کے قابل ہوں۔اُنہوں نے تعلیم یافتہ نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ باعزت طریقے سے اپنی روزی روٹی کمانے کے لئے بہترین ہنر مند اداروں میں صحیح ہنر حاصل کرنے کے لئے آگے آئیں۔ اُنہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں سکل کے درجنوں ادارے ہیں جن میں قومی شہرت کے حامل آئی آئی ٹی ، آئی آئی ایم ،این آئی ٹی اور نصف درجن سے زیادہ یونیورسٹیاں شامل ہیں۔ اُنہوں نے ان سے کہا کہ وہ اس موقعہ کو اپنے آپ کو اس قابل بنانے کے لئے استعمال کریں کہ وہ اپنی پسند کی نوکریاں حاصل کر سکیں۔ پرنسپل سیکرٹری سکل ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر اَصغر حسن سامون نے نوجوانوں کی ہنرمندی کے لئے اَپنے محکمہ کی طرف سے وضع کردہ حکمت عملی کے بارے میں تفصیلی پرزنٹیشن دی۔ اُنہوں نے مختلف پہلوئوں پر روشنی ڈالی جہاں نوجوانوں کی ہنرمندی سے انہیں بہتر منافع مل سکتا ہے ۔اُنہوں نے اَگلے 5 برسو ں میں سرمایہ کاری کے رُجحانات اور جموںوکشمیر کے دونوں ڈویژنوں میں مختلف شعبوں میں روزگار کے دائرہ کار کا بھی تعین کیا۔ڈاکٹر اَصغر حسن سامون نے حال ہی میں اِختتام پذیر ’’ بیک ٹو وِلیج پروگرام مرحلہ چہارم میں شناخت کئے گئے نوجونوانوں کی تربیت کے لئے محکمہ کی طرف سے شروع کی جانے والی تربیت کے بارے میں بھی جانکاری دی ۔اُنہوں نے ضلع ترقیاتی کمشنروں سے کہا کہ وہ اِن نوجوانوں کو آئندہ برس جنوری کے پہلے ہفتے میں شروع ہونے والی ٹریننگ میں مختلف ٹریڈوں میں سکل حاصل کرنے کی سہولیت فراہم کریں۔یہ اِنکشاف کیا گیا ہے کہ جموںوکشمیر یوٹی میں صنعتی اِکائیوں کے قیام کے لئے آج تک سینکڑوں مفاہمت ناموں پر دستخط کئے گئے ہیں۔ یہ بتایا گیا کہ جموںوکشمیر میںمستقبل میں تجارت ، سیاحت اور مہمان نوازی ، تعلیم اور صحت ، رئیل سٹیٹ ،بنیادی ڈھانچہ ، مینوفیکچرنگ ، فوڈ پروسسنگ ، کنسٹرکشن اور آئی ٹی شعبوں میں 3.37 لاکھ سے زیادہ ہنر مند اور نیم ہنر مند کارکنوں کی ضرورت ہے۔ یہ بھی اِنکشاف ہو اکہ پہلے مرحلے میںزائد اَز 85,000طلباء کو مختلف سرکاری محکموں اور ہنر فراہم کرنے والی ایجنسیوں نے شناخت کیا ہے ۔ اِس میں سکل ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ سے تقریباً11,696 طلباء، آر ڈی ڈی سے 11,371 ، آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ سے 10,840 ، مشن یوتھ سے 6,834 ، ہینڈ لوم سے 5,544، سماجی بہبود کے 5,539 ، اعلیٰ تعلیم سے 4,811 ، صحت سے 4,284 ، کے آئی ایس ایم وِی کی طرف سے 4,226 ، کے آئی ٹی سے 4,226، اِی ڈی آئی سے 3,012 ، زراعت سے 2,920 ، گھر سے 2,177 ، ٹرانسپورٹ سے 2,115، دستکاری سے2,039 ، قبائلی اَمور سے 1,846 ، ایف سی ایس ایند سی اے سے 1,040 ، سکاسٹ سے 869 اور صنعت و حرفت محکموں سے 584 طلباء کی تربیت شامل ہیں۔میٹنگ میں کہا گیا ہے کہ سکل دیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ ایم آئی ایس کو برقرار رکھنے کے لئے مرکزی ایجنسی کے طورپر کام کرے گا، این آئی اِی ایس اِی بی یو ڈی جیسے محکموں اور ایجنسیوں کے درمیان لنک کے طورپر کام کرے گااور نصاب ، سٹیڈی مواد ، تصدیق شدہ ٹرینروں کی شناخت ، بنیادی ڈھانچے کی شناخت ، پورٹل پر طلبا ء کی رجسٹریشن ، تشخیص ، سر ٹیفکیشن اور پوسٹ سر ٹیفکیشن مدد کے لئے ایس ایس سیزہے۔مزید، سکل ڈیولپمنٹ محکمہ کے اندر ماہرین کا ایک پول مختص کرے گا جو جموں و کشمیر کے نوجوانوں کو معیاری تربیت فراہم کرنے کے وژن اور مشن کو حاصل کرنے میں حکومت کی مدد کرے گا۔










