این آئی اے نے جگہ کا معائنہ کیا، تحقیقات کے لیے نمونے جمع کئے
سری نگر//نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کی ایک خصوصی ٹیم نے اتوار کو جموں کے نروال علاقے میں دوہرے دھماکوں کے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا اور یہاں سے نمونے حاصل کئے ہیں ۔تاکہ اس واقعے کی باریک بینی سے تحقیقات کی جا سکے ۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق جموں شہر کے مضافات میں واقع نروال میں ہفتہ کو یکے بعد دیگرے ہونے والے دھماکوں میں نو افراد زخمی ہوئے تھے۔ پولیس کو شبہ ہے کہ دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات کا استعمال مرمت کی دکان میں کھڑی ایک SUV میں اور ٹرانسپورٹ نگر علاقے میں قریبی کباڑ خانے میں ایک گاڑی میں دوہرے دھماکوں کو انجام دینے کے لیے کیا گیا تھا۔یہ دھماکے ایسے وقت میں ہوئے جب خطے میں سیکورٹی ایجنسیاں کانگریس کی جاری بھارت جوڑو یاترا اور آئندہ یوم جمہوریہ کی تقریبات کے لیے ہائی الرٹ پر ہیں۔حکام نے بتایا کہ نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کی ٹیم نے صبح دھماکوں کی جگہ کا دورہ کیا اور امکان ہے کہ وفاقی انسداد دہشت گردی ایجنسی مکمل تحقیقات کے لیے کیس کو اپنے ہاتھ میں لے لے گی۔تحقیقاتی ایجنسی کے افسران نے دھماکوں کی جگہ پر ایک گھنٹے سے زیادہ وقت گزارا اور روانگی سے قبل نمونے اکٹھے کئے۔ حکام نے مزید کہا کہ ہندوستانی فوج کے سینئر افسران نے دوسرے دن بھی معائنہ کے لیے علاقے کا دورہ کیا۔انہوں نے کہا کہ یہ علاقہ ابھی بھی حفاظتی حصار میں ہے اور بڑے پیمانے پر صفائی ستھرائی کا آپریشن جاری ہے۔ایک متعلقہ پیش رفت میں، فوج کی وائٹ نائٹ کور نے کہا کہ ایک مشترکہ انٹیلی جنس اور سیکورٹی کانفرنس جموں و کشمیر کے راجوری ضلع میں منعقد کی گئی جس میں شریک ایجنسیوں کے جائزوں کی بنیاد پر موجودہ اندرونی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔جنرل آفیسر کمانڈنگ (ایس آف سپیڈس ڈویڑن) میجر جنرل وائی ایس اہلوت اور جنرل آفیسر کمانڈنگ (رومیو فورس) میجر جنرل ترویدی نے اس میٹنگ کی صدارت کی جس میں دیگر کے علاوہ ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس (راجوری-پونچھ رینج) حسیب مغل نے بھی شرکت کی۔وائٹ نائٹ کور نے ایک ٹویٹ میں کہا، “آرمی،سی آر پی ایف اور جموںو کشمیر پولیس ،بی ایس ایف اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ساتھ ایک مشترکہ انٹیلی جنس اور سیکورٹی کانفرنسراجوری میں منعقد کی گئی تاکہ شریک ایجنسیوں کے جائزوں کی بنیاد پر موجودہ اندرونی صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے۔ راجوری اس مہینے کے شروع میں ایک دہشت گردانہ حملے سے لرز اٹھا تھا جس میں سات افراد ہلاک اور 14 زخمی ہوئے تھے۔ حملے کے پیچھے مشتبہ دہشت گرد تاحال فرار ہیں۔










