آخری رسومات میںادیبوں،شاعروں ،قلکاروں،دوست واحباب اوردیگرلوگوں کی شرکت
سری نگر// معروف کشمیری شاعر، نقاد،ترجمہ کار اور اسکالر پروفیسر عبدالرحمن راہی پیر کو انتقال کر گئے۔اُن کی عمر تقریباً98برس تھی ۔مرحوم پروفیسررحمن راہی کی آخری رسومات آبائی مقبرہ واقع نوشہرہ سری نگرمیں بعددوپہرانجام دی گئیں جبکہ نمازجنازہ میں لوگوںکی ایک بڑی تعدادبشمول ادیبوں،شاعروں ،قلکاروں اور سماج کے مختلف حلقوں سے وابستہ افرادنے شرکت کی۔ لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا کے علاوہ سیاسی وسماجی شخصیات اورمختلف ادبی انجمنوںنے پروفیسررحمن راہی کے انتقال پر سخت رنج وغم کااظہار کرتے ہوئے گیان پیٹھ اور پدم شری ایوارڈ یافتہ نامور کشمیری دانشور کواُن کی ادبی وعلمی خدمات پر شاندار خراج عقیدت پیش کیاہے۔جے کے این ایس معروف کشمیری شاعر، نقاد،ترجمہ کار اور اسکالر پروفیسر عبدالرحمن راہی پیر کی صبح سری نگرمیں اُن کی ویژارناگ رہائش گاہ پر داعی اجل کولبیک کہہ گئے ،اُن کی عمر تقریباً98برس تھی ۔کئی شعری مجمعوں کے تخلیق کار اور کئی کتابوں کے مصنف پروفیسررحمن راہی کواُن کی ناقابل فراموش ادبی خدمات کیلئے سال 2004 کیلئے ملک کے سب سے بڑے ادبی ایوارڈگیان پیٹھ سے نوازا گیا۔پروفیسررحمٰن راہی کو1961 میں اُن کے شعری مجموعے’نوروزِ صبا‘ اور 2000 میں پدم شری کیلئے ساہتیہ اکادمی ایوارڈ ملا۔ پروفیسررحمن راہی پہلے کشمیری ادیب ہیں جنہیں گیان پیٹھ سے نوازا گیا، جو ان کے شعری مجموعے ’سیاہ جیرن منز‘ (سیاہ بارش میں)کیلئے ملک کا سب سے بڑا ادبی ایوارڈ ہے۔سابق وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے پروفیسررحمن راہی6 نومبر2008 کو ایک ممتاز کشمیری شاعر کی حیثیت سے 40 واں گیان پیٹھ ایوارڈ پیش کیا۔6مئی1925کوپیداہوئے پروفیسررحمن راہی نے اپنے کیرئیر کا آغاز 1948 میں پی ڈبلیو ڈی کلرک کے طور پر کیا۔ بعد ازاں وہ خدمت اخبار سے بطور سب ایڈیٹر وابستہ رہے۔1952 میں انہوں نے فارسی میں ماسٹرس کی ڈگری حاصل کی اور ایک دہائی بعد انگریزی میں ایک اور ماسٹرس کیا۔ اسکالر پروفیسر عبدالرحمن راہی نے اپنے کیریئر کا بیشتر حصہ کشمیر یونیورسٹی میں بطور مدرس کے گزارا۔ایک مترجم کے طور پر، اسکالر پروفیسر عبدالرحمن راہی نے بابا فرید کی صوفی شاعری کا اصل پنجابی سے کشمیری میں بہترین ترجمہ کیا۔ کیموس اور سارتر نے اپنی نظموں پر کچھ واضح اثرات مرتب کیے جبکہ دینا ناتھ بادم کا ان کی شاعری پر اثر بھی خاص طور پر پہلے کی تصانیف میں نظر آتا ہے۔ پروفیسر عبدالرحمن راہی نے پسماندگان میں تین بیٹے اور ایک بیٹی چھوڑی ہے۔ ان کی بیوی کا پہلے ہی انتقال ہو چکا تھا۔لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا کے علاوہ سیاسی وسماجی شخصیات اورمختلف ادبی انجمنوںنے پروفیسررحمن راہی کے انتقال پر سخت رنج وغم کااظہار کرتے ہوئے گیان پیٹھ اور پدم شری ایوارڈ یافتہ نامور کشمیری دانشور کواُن کی ادبی وعلمی خدمات پر شاندار خراج عقیدت پیش کیاہے۔ادھر ادبی مرکز کمراز،بارہمولہ رائٹرس فورم ،محفل بہار ادب شاہورہ پلوامہ کے صدر حمید اللہ شاہ حمید ،جنرل سیکرٹری رشید صدیقی اور عبدالرشید شاہوی نے کْہنہ مشق شاعر وادیب پروفیسر عبدالرحمٰن راہی کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کشمیری زبان و ادب کے تئیں ان کی گراں قدر خدمات کو سراہا ہے۔انہوں نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ پر وفیسر راہی کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔انہوں نے غمزدہ خاندان خاص کر ان کی بیٹی نگہت نوشین کے ساتھ دلی تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ادھر نگینی کلچرل فاونڈیشن کا ایک تعزیتی اجلاس چیرمین انجینئر بشیر شبنم کی صدارت میں منعقد ہوا جس میںپروفیسر راہی کے انتقال پرگہرے رنج وغم کا اظہارکیا گیا۔شاہورہ ویلفیر فورم کے بلال حمید شاہوری نے پروفیسر راہی کے انتقال کو کشمیری ادب کیلئے ایک بڑا نقصان قرار دیتے ہوئے تعزیت کا اظہار کیا۔










