دوشیزہ کی نعش3روز بعدبرآمد،علاقہ ماتم کناں،مقدمہ درج،تحقیقات شروع:پولیس
بارہمولہ //بارہمولہ قصبہ کے خادنیارعلاقہ میں بدھ کوایک پُل سے دریائے جہلم میں کودنے والی دوشیز ہ کی نعش3روز بعدبرآمد ہوئی ۔جے کے این ایس کوملی تفصیلات کے مطابق بدھ کی شام کوخادنیاربارہمولہ کی ایک جواں سالہ لڑکی (کالج طالبہ) نے نامعلوم وجوہات کی بناء پر ایکوپارک کے نزدیک ایک پُل سے اچانک دریائے جہلم میں چھلانگ لگاکر خودکشی کرلی ۔اسکے فوراًبعدپولیس نے ایس ڈی آرایف اورفوج کے تعاون سے جہلم میں کودنے والی دوشیزہ کی تلاش شروع کردی جبکہ دوشیزہ کے رشتہ دار بھی اسکی تلاش میں سرگرداں اورپریشان رہے ،تاہم مسلسل دودنوں تک بسیار کوششوں کے باوجوددوشیزہ کی نعش کاکوئی سراغ نہیں مل پایا۔پولیس نے بتایاکہ تلاشی کارروائی کوہفتے کی صبح پھر شروع کیاگیا توکچھ وقت بعدہی دریائے جہلم سے دوشیزہ کی نعش ملی ۔پولیس نے ضروری لوازمات کے بعددوشیزہ کی میت کولواحقین کے سپرد کردیا۔پولیس نے مزید کہا کہ فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ لڑکی کو ایسا انتہائی قدم اٹھانے پر کس چیز نے اُکسایا۔انہوں نے مزید کہا کہ متعلقہ تھانے میں قانون کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور اس سلسلے میں مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔اُدھر جہلم میں کود کر خودکشی کرنے والی دوشیزہ کی میت کوجب آبائی گھر واقع خادنیار بارہمولہ پہنچایاگیاتووہاں کہرام مچ گیا،اورصورتحال کودیکھتے ہوئے علاقہ کے بڑے بزرگوں نے دوشیزہ کی آخری رسومات مکمل کرنے جلدی کی ۔










