واشنگٹن/ایجنسیز//امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے پیر کے روز کہا ہے کہ ایرانی فضائی کمپنیوں کے ساتھ لین دین کرنے والے ادارے امریکی پابندیوں کا سامنا کرنے کے خطرے سے دوچار ہیں۔بیسنٹ نے اس انتباہ کو ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے تناظر میں ایران پر معاشی دباؤ ڈالنے کی مہم کا ایک حصہ قرار دیا ہے۔ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے ہفتے کے آغاز میں رپورٹ دی تھی کہ ایران نے جنگ شروع ہونے کے بعد پہلی بار تہران کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے اپنی تجارتی پروازیں دوبارہ شروع کر دی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان طے شدہ پروازوں میں ترکیہ اور عراق سمیت متعدد ممالک شامل ہیں۔ دوسری جانب امریکی وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ واشنگٹن ایرانی حکومت کا “مالی گلا گھونٹ” رہا ہے۔اسکاٹ بیسنٹ نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا “پابندیوں کی زد میں آنے والی ایرانی فضائی کمپنیوں کے ساتھ تجارتی معاملات امریکی پابندیوں کے خطرے کو دعوت دیتے ہیں”۔ انہوں نے مزید کہا “غیر ملکی حکومتوں کو یہ یقینی بنانے کیلئے تمام ضروری اقدامات کرنے چاہئیں کہ ان کے دائرہ اختیار میں آنے والی کمپنیاں ان طیاروں کو کوئی خدمات فراہم نہ کریں، بشمول ایندھن کی فراہمی، کیٹرنگ سروسز، لینڈنگ فیس یا دیکھ بھال کی سہولیات”۔امریکی انتظامیہ ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔










