ماسکو/ایجنسیز// روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کے بعد ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جنگ کے خاتمے کیلئے سفارتی کوششوں میں ماسکو کی حمایت کا خیر مقدم کیا ہے۔ گذشتہ روز روس کا دورہ کرنے والے عباس عراقچی نے دونوں ممالک کے تعلقات کی پائیداری کو سراہتے ہوئے ‘ایکس’ پر اپنے بیان میں کہا کہ حالیہ واقعات نے دونوں ممالک کی اسٹریٹجک شراکت داری کی گہرائی کو ثابت کر دیا ہے۔اس ملاقات میں روسی غیر ملکی فوجی انٹیلی جنس (GRU) کے سربراہ ایگور کوستیوکوف کی موجودگی نے مبصرین کی توجہ حاصل کی ہے۔ ایرانی تجزیہ نگار حمید رضا عزیزی کے مطابق یہ ملاقات محض جنگ بندی یا نیوکلیئر فائل تک محدود نہیں تھی، بلکہ امکان ہے کہ اس میں امریکی افواج کی نقل و حرکت اور جنگ کے دوبارہ آغاز کے خدشات سے متعلق انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ بھی کیا گیا ہے۔روسی سلامتی کونسل نے حال ہی میں خبردار کیا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل جنگ بندی کو دوبارہ صف بندی اور ایران کے خلاف نئی کارروائی کیلئے استعمال کر سکتے ہیں۔ماسکو نے مشرق وسطیٰ میں استحکام کیلئے ثالثی کی پیشکش کی ہے اور وہ ایران پر ہونے والے امریکی و اسرائیلی حملوں کی سخت مذمت کر چکا ہے۔ روس نے کشیدگی کم کرنے کیلئے ایرانی افزودہ یورینیم کو اپنے ہاں ذخیرہ کرنے کی تجویز بھی دی، جسے امریکہ مسترد کر چکا ہے۔ روسی وزیر دفاع آندرے بیلوسوف نے کرغزستان میں ایرانی نائب وزیر دفاع رضا طلائی نیک سے ملاقات کی اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ جنگ کا حل صرف سفارتی ذرائع سے ہی ممکن ہے۔ طلائی نیک نے بیلاروس کا بھی دورہ کیا جہاں انہوں نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ فریقین نے سیاسی تصفیے کی راہ پر واپسی اور مذاکراتی عمل کو تیز کرنے پر اتفاق کیا۔ سینٹ پیٹرزبرگ میں ملاقات کے دوران صدر پوتن نے ایرانی عوام کی آزادی کیلئے جدوجہد کی تعریف کی اور تہران کو ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔ پوتن نے بتایا کہ انہیں گذشتہ ہفتے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی جانب سے ایک پیغام موصول ہوا ہے، جو کہ اپنے والد کے جانشین کے طور پر تقرری کے بعد سے منظر عام پر نہیں آئے ہیں۔ پوتن نے عباس عراقچی کے ذریعے سپریم لیڈر کیلئے نیک خواہشات کا پیغام بھی بھیجا۔ادھر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جنگ ختم کرنے کی حالیہ ایرانی تجویز پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔ اس ایرانی منصوبے میں آبنائے ہرمز کو کھولنے اور جنگ کے خاتمے کی پیشکش کی گئی ہے، جس کے بعد متنازع نیوکلیئر پروگرام پر امریکی فریق کے ساتھ مذاکرات شروع کیے جانے کا امکان ہے۔










