سرینگر / /’’ نارکو ٹیززم ‘‘کو ایک اعلیٰ چیلنج سے تعبیر کرتے ہوئے جموں کشمیر پولیس سربراہ دلباغ سنگھ نے الزام عائد کیا کہ پاکستان جموں کشمیر میں ’’ہر گھر میں ماتم ‘‘ کا حامی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ڈرون سرحد پار سے منشیات اور ہتھیار بھیجنے کیلئے استعمال ہو رہے ہیں تاہم پولیس اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں نے اس خطرے کو روکنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ سی این آئی کے مطابق منی گام گاندربل کے پولیس ٹریننگ سینٹر میں نئے بھرتی ہونے والے پولیس اہلکاروں کی پاسنگ آئوٹ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جموں اور کشمیر کے پولیس سربراہ دلباغ سنگھ نے پاکستان کی طرف سے منشیات کی سپلائی کو سب سے بڑا چیلنج قرار دیا۔ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیکورٹی فورسز کیلئے جموں کشمیر میں ’’ نارکو ٹیززم ‘‘کو ایک اعلیٰ چیلنج ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولیس اس میں ملوث ماڈیولز کا پردہ فاش کرکے موثر طریقے سے نمٹ رہی ہے تاہم ابھی اس محاذ پر مزید بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ پولیس چیف نے کہا کہ ہمارا پڑوسی (پاکستان) جموں و کشمیر میں پرامن ماحول سے خوش نہیں ہے اور نوجوانوں کو منشیات کی طرف راغب کرکے اور منشیات کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کو ملی ٹنسی کو ہوا دینے کیلئے استعمال کرکے منشیات کی سپلائی کو فروغ دینا چاہتا ہے۔ دلباغ سنگھ نے کہا کہ ڈرون کے ذریعے سرحد پار سے منشیات اور ہتھیار بھیجے جا رہے ہیں۔ لیکن پولیس اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں نے اس خطرے کو روکنے میں کامیابی حاصل کی ہے‘‘ ۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں منشیات کی سپلائی کو روکنے کے لیے مزید بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔ پاکستان سے آنے والی منشیات کا ایک حصہ کشمیر میں فروخت کیا جاتا ہے، اور باقی بھارت کے دوسرے حصوں میں پہنچایا جاتا ہے۔ حالیہ برسوں میں سرحد پار سے منشیات خصوصاً ہیروئن کی مسلسل آمد نے عورت کو بھی اچھوت نہیں چھوڑا۔ انہوںنے کہا کہ جموں کشمیر پولیس پُر امن ماحول کا بنانے کیلئے وعدہ بند ہے تاہم پاکستان کی جانب سے مسلسل جموں کشمیر میں حالات بگاڑنے کیلئے سازشیں رچی جا رہی ہے ۔ ہر گھر ترنگا کے بارے میں دلباغ سنگھ نے کہا کہ یہ مہم اس لئے شروع کی جا چکی ہے تاہم ملک کے تئیں لوگوں کے پیار و محبت کو فروغ مل سکے تاہم پاکستان جموں کشمیر میں ہر گھر ماتم کا حامی ہے ۔ دلباغ سنگھ نے کہا کہ ہم جموں کشمیر میں پُر امن ماحول قائم کرنے میں تعاون کیلئے لوگوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں ۔










