اصل صحافت حقائق کا سامنا کرنا ، سچائی اور خیالات کو پیش کرنے کیلئے تمام فریق کو برابرکا موقع دینا / انوراگ ٹھاکر
سرینگر / /مرکزی دھارے کی میڈیا کیلئے سب سے بڑا خطرہ ڈجیٹل پلیٹ فارموں کے نئے دورسے نہیں بلکہ مرکزی دھارے کی میڈیا کو اپنے چینل سے ہے کا دعویٰ کرتے ہوئے اطلاعات ونشریات کے مرکزی وزیر نوراگ ٹھاکرنے کہا کہ آج کل ایسے مہمان کو مدعو کیاجاتاہے جو سماج میں تفریق پیداکرتے ہیں جس کی وجہ سے چینل کی معتبریت کو نقصان پہنچتاہے۔ سی این آئی مانیٹرنگ ڈیسک کے مطابق اطلاعات ونشریات کے مرکزی وزیر نوراگ ٹھاکرنے اطلاعات ونشریات کے مرکزی وزیرمملکت ڈاکٹرایل مروگن ، اطلاعات ونشریات کے سکریٹری اپوروا چندراور اے آئی بی ڈی کی ڈائریکٹرفلومینا گناناپراگاسم کی موجودگی میں 47ویں سالانہ اجتماع اور نشریات کی پیش رفت سے متعلق ایشیائی بحرالکاہل کا ادارہ کے 20ویں اجلاس کا افتتاح کیا۔اس موقع پرخطاب کرتے ہوئے ٹھاکرنے کہاہے کہ مرکزی دھارے کی میڈیا کے لئے سب سے بڑا خطرہ ڈجیٹل پلیٹ فارموں کے نئے دورسینہیں بلکہ مرکزی دھارے کی میڈیا کو اپنے چینل سے ہے۔انہوںنے آگے کہاکہ اصل صحافت حقائق کا سامنا کرنا ، سچائی پیش کرنا اوراپنے خیالات کو پیش کرنے کے لئے تمام فریق کو برابرکا موقع دینا اورپلیٹ فارم مہیاکراناہے۔انہوں نے کہا کہ آج کل ایسے مہمان کو مدعو کیاجاتاہے جو سماج میں تفریق پیداکرتے ہیں ، غلط بیانیوں کی تشہیرکرتے ہیں اوراونچی آواز میں اپنی بات رکھتے ہیں ، جس کی وجہ سے چینل کی معتبریت کو نقصان پہنچتاہے۔ مہمان ، لہجہ اورویڑول کے تعلق سے آپکا فیصلہ سامعین کی آنکھوں میں آپ کی معتبریت کو واضح کرتاہے۔ آپ کاشودیکھنے کیلئے ایک لمحہ رک سکتے ہیں لیکن آپ کے اینکر، چینل یا برانڈاور خبروں کے ذرائع کی شفافیت پرکبھی بھروسہ نہیں کرپائیں گے۔وزیرموصوف نے اس موقع پر موجودبراڈکاسٹرس سے اپیل کی کہ وہ ایسے ٹی وی مباحثوں کو روکیں جن سے سماج میں تفریق پیداہورہی ہو نیز ایسے خیالات کو ٹی وی پردکھانے سے گریز کریں جن سے سماج میں نفرت اورتشدد کو فروغ ملے نیز مہمان بلانے کے اپنے معیاربھی طے کریں۔سامعین کے سوال کا جواب دیتے ہوئے موصوف نے کہاکہ کیانوجوان سامعین ایسی ٹی وی خبروں کو دیکھناچاہتاہے کہ جس میں شورشرابہ ہواور عوام کے مفاد میں نہ ہویاخبروں میں غیرجانب داری کو واپس لانا چاہتاہے یابحثوں میں آگے بڑھنے کی مسابقت کو دیکھناچاہتاہے’’ ؟۔










