معاملے کی نسبت لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا سے کی مداخلت کی اپیل
ہندوارہ//جموں و کشمیر ورکرز پارٹی کے صدراور نوجوان لیڈر میر جنید نے منگل کو اپنے سوشل میڈیا کے تصدیق شدہ ٹویٹر ہینڈل پرریجنل پاسپورٹ آفس سری نگر کی طرف سے شہریوں کیلئے ابتر خدمات اور شہریوں کیلئے رکاوٹیں پیدا کرنے پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ جے کے این ایس نامہ نگار طارق راتھرکے مطابق ورکرز پارٹی کے صدر نے سلسلہ وار ٹویٹ ہینڈلس پر کہا کہ کشمیر ڈویڑن میں علاقائی پاسپورٹ مرکز رہائشیوں کے لیے ایک انتظامی ڈراؤنا خواب بن گیا ہے۔ وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر کو ٹیگ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر کسی شخص کے پاس پاسپورٹ کی میعاد ختم ہو جاتی ہے تو اسے اس طرح انتظامی عمل سے گزرنا پڑتا ہے جیسے وہ نئے پاسپورٹ کے لیے درخواست دے رہا ہو۔ اس سے ایک بڑی آبادی کو تاخیر، مالیاتی انتظامی نقصان ہوتا ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ میر جنیدنے کبھی بھی حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرنے کی عادت نہیں کی ۔ انہوں نے اپنے سلسلہ وار ٹویٹس میں ماں کے پاسپورٹ کی شرط پر سوال اٹھایا، اگر کوئی تجدید کرنا چاہتا ہے، اور وہ ٹویٹ کرتے ہیں،پھرایک نئی (اور کیا میں مزاحیہ کہہ سکتا ہوں؟) شرط یہ ہے کہ لوگوں سے کہا جائے کہ اگر وہ چاہیں تو اپنی ماؤں کا پاسپورٹ حاصل کریں۔ اپنے پرانے پاسپورٹ کی تجدید کے لیے قوانین میں ان عجیب و غریب تقاضوں کا ذکر کہاں نہیں ہے(sic)، انہوں نے ٹویٹ کیا جس میں میر کا کہنا ہے کہ دفاتر کا مقصد عوامی مسائل کو کم کرنا ہے لیکن سری نگر میں پاسپورٹ آفس ایک نیا ٹراما سینٹر بن گیا ہے۔ انہوں نے ٹویٹ کیا لکھاجو عورتیں شادی کے بعد اپنا نام (یا رکنیت) تبدیل کرتی ہیں یا جن کے املا میں معمولی اصلاح ہوتی ہے، انہیں جہنم میں ڈال دیا جاتا ہے۔ اخبار کی کٹنگز دکھانے کے بعد بھی بظاہر یہ کافی نہیں سمجھا جاتا وہ جگہ جو شہریوں کی مدد کے لیے تھی، جو شہریوں کے ٹیکسوں سے چلتی ہے، انہی شہریوں یہ دفترایک پریشانی کامرکز بن چکا ہے جن کے ٹیکسوں سے یہ چلتا ہے یقیناً فون ہیلپ لائن کا جواب کبھی نہیں دیا گیا @MEAIindia، (sic)’’ میر ٹویٹس۔ اپنے ٹویٹس کے سلسلے میں انہوں نے اپنے آخری ٹویٹ میں جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا جی سے اپیل کی کہ وہ ایسے دفاتر کے کام میں مداخلت کریں جو لوگوں کی زندگیوں میں آسانی لانے کے بجائے رکاوٹیں پیدا کرتے ہیں۔ لوگوں کو کئی طرح کی پریشانیوں میں دال رہے ہیں جنید نے جموں کشمیر یو ٹی کے لفٹینٹ گورنر منوج سنہا سے درخواست کی کہ وہ اس اہم معاملے پر غور کریں۔ اس سے جموں و کشمیر کے ہزاروں شہریوں کو انتہائی تکلیف ہو رہی ہے۔










