ہر سال21 مئی کے قریب آتے ہی میں کانپنے لگتا ہوں:سجادلون
سری نگر//جموں و کشمیر کی سیاسی جماعتوں نے جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس کے بانی خواجہ عبدالغنی لون اور میرواعظ کشمیر مولوی محمد فاروق کو ان کی برسیوں پر خراج عقیدت پیش کیا۔جے کے این ایس کے مطابق پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے مرحوم میرواعظ مولوی فاروق اور عبدالغنی لون کو ان کی برسیوں پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں سیاسی اور سماجی انصاف کیلئے ریاست کی جدوجہد کے مشعل راہ قرار دیا۔ایک بیان میںمحبوبہ مفتی نے مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے پرامن جدوجہد میں میرواعظ مولوی محمد فاروق اور خواجہ عبدالغنی لون کے کردار کی تعریف کی۔انہوں نے کہاکہ ان دونوں رہنماؤں نے جموں و کشمیر کے لوگوں کے سیاسی، معاشی اور سماجی مسائل کے خاتمے کی جدوجہد میں اہم کردار ادا کیا ہے۔جموں وکشمیرنیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے میرواعظ مولوی محمد فاروق اور خواجہ عبدالغنی لون کو ان کی برسیوں پر خراج عقیدت پیش کیا۔ پارٹی کے جنرل سکریٹری علی محمد ساگر، ایڈیشنل جنرل سیکرٹری ڈاکٹر شیخ مصطفی کمال نے بھی میر واعظ اور لون کو خراج عقیدت پیش کیا۔اُدھر خواجہ عبدالغنی لون کے فرزند اورپیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجادغنی لون نے کہاکہ میرے والد کو یہ کہہ کر قتل کر دیا گیا کہ وہ کیا مانتے تھے۔اپنے والد عبدالغنی لون کو یاد کرتے ہوئے سجادلون نے کہاکہ ہر سال21 مئی کے قریب آتے ہی میں کانپنے لگتا ہوں۔سماجی رابطہ گاہ ٹویٹر پرالگ الگ ٹویٹس میں سجادلون نے لکھا’ وہ تکلیف دہ لمحات، یادیں۔ ایک ایسے خاندان کے جو اپنے پیارے کی گولی سے چھلنی لاش وصول کرتے ہیں۔ بے بسی کے وہ لمحے ساری زندگی آپ کا پیچھا کرتے ہیں‘۔سجادغنی لون نے ایک ٹویٹ میں لکھاکہ ہماری وادی میں جب بھی کوئی شخص مارا جاتا ہے، میں تصور کرسکتا ہوں کہ اس کے گھر میں کیا ہورہا ہوگا۔ پیاروں کی آنسوؤں والی آنکھوں کا رونا، اذیت ۔۔ یہ سب ایک جیسا ہے۔انہوںنے ساتھ ہی لکھاکہ میرے والد کو یہ کہنے پر مارا گیا کہ وہ جس بات پر یقین رکھتے تھے۔ ان کو مارنے والے دہشت گرد تھے اور انشاء اللہ جہنم میں سڑیں گے۔ جیسا کہ وہ تمام دہشت گرد ہوں گے، جو نہتے بے گناہ شہریوں کو مارتے ہیں۔انہوںنے مزیدکہاکہ میرے والد اور ان تمام لوگوں کے لیے جنہوں نے اس تنازعہ میں اپنی جانیں قربان کی ہیں، میں صرف امن کی دعا کرتا ہوں۔ گولیوں سے چھلنی لاشیں لواحقین تک نہ پہنچائی جائیں۔ یہ جنون ختم ہو جائے۔ عقل غالب رہے۔










