شیخ عاشق سرپرست مقرر ،کشمیر ی دستکاری صنعت کو فروغ دینے کاعزم
سرینگر/ میراثکارپٹ ویورز انڈسٹریل کوآپریٹو لمیٹڈ نے نئی ایگزیکٹو باڈی تشکیل دیتے ہوئے سابق صدر کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری شیخ عاشق کو ادارے کا سرپرست مقرر کیا ہے۔ اس سلسلے میں سری نگر کے آئی آئی سی ٹی کمپلیکس میں کوآپریٹو کے اراکین کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں کشمیر کی ریشمی ہاتھ سے بنائی جانے والی قالین صنعت کو درپیش چیلنجوں پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔اجلاس میں متفقہ طور پر فاروق احمد شاہ کو صدر منتخب کیا گیا، جبکہ فیاض احمد وانی نائب صدر، بشیر احمد ڈار جنرل سیکریٹری، جاوید احمد درزی سیکریٹری، غلام محمد بٹ جوائنٹ سیکریٹری اور فردوس احمد بٹ خزانچی منتخب ہوئے۔اجلاس کے دوران اراکین نے وزیر اعظم نریندر مودی کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے حال ہی میں سلوواکیہ کے وزیر اعظم کو کشمیری ہاتھ سے تیار کردہ ریشمی قالین بطور تحفہ پیش کیا۔ اراکین کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے کشمیر کی صدیوں پرانی قالین بافی کی روایت کو عالمی سطح پر نئی شناخت ملی ہے اور مقامی دستکاروں کی مہارت کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے میں مدد ملی ہے۔اجلاس میں کہا گیا کہ کشمیری ریشمی قالین دنیا کے بہترین ہاتھ سے بنے قالینوں میں شمار ہوتے ہیں۔ اعلیٰ معیار کے قدرتی ریشم سے تیار کردہ یہ قالین اپنے منفرد پھولدار، بیل بوٹوں، کشمیری پیسلے اور روایتی نقش و نگار کے باعث عالمی شہرت رکھتے ہیں اور کشمیر کی ثقافتی و فنی وراثت کی نمائندگی کرتے ہیں۔اجلاس میں قالین صنعت سے وابستہ دستکاروں، بنکروں، صنعت کاروں اور برآمد کنندگان کو درپیش مسائل پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اراکین نے الزام عائد کیا کہ ایران اور ترکی سے درآمد شدہ مشینی قالین بعض شوروموں میں کشمیری ہاتھ سے بنے قالینوں کے نام پر فروخت کیے جا رہے ہیں، جس سے نہ صرف اصل کشمیری قالین کی شناخت متاثر ہو رہی ہے بلکہ اس روایتی صنعت کے وجود کو بھی خطرہ لاحق ہے۔اس موقع پر صدر فاروق احمد شاہ نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیری قالین صنعت اور اس سے وابستہ ہزاروں خاندانوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔ انہوں نے کہا کہ اصلی کشمیری ہاتھ سے بنے قالینوں کے تحفظ اور اس تاریخی ہنر کی بقا کے لیے سخت نگرانی اور مؤثر نفاذی نظام ناگزیر ہے۔اجلاس میں متفقہ طور پر معروف برآمد کنندہ اور سابق صدر کے سی سی آئی شیخ عاشق کو کوآپریٹو کا سرپرست مقرر کرنے کی قرارداد بھی منظور کی گئی۔ اراکین نے امید ظاہر کی کہ شیخ عاشق کی رہنمائی میں تنظیم جغرافیائی شناخت (GI) کے تحفظ، کشمیری ہاتھ سے بنے قالینوں کے فروغ، بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور اس صنعت کو درپیش دیگر اہم مسائل کے حل کے لیے مؤثر کردار ادا کرے گی۔










