غلط یا دوہرے اندراج، اموات اور مستقل نقل مکانی راشن کارڈ منسوخی کی بڑی وجوہات//مرکز
سرینگر// جموں و کشمیر میں جولائی 2026 تک 16 لاکھ 57 ہزار 861 فعال راشن کارڈ موجود ہیں، جبکہ سال 2025 کے دوران 3,036 اور 2024 میں 4,767 راشن کارڈ منسوخ کیے گئے۔ یہ معلومات مرکزی وزارتِ صارفین امور، خوراک و عوامی تقسیم نے لوک سبھا میں ایک غیر ستارہ شدہ سوال کے تحریری جواب میں فراہم کیں۔یو این ایس کے مطابق وزارت کے مطابق ملک بھر میں عوامی تقسیمی نظام (پی ڈی ایس) کے تحت 20 کروڑ 57 لاکھ 81 ہزار 55 فعال راشن کارڈ موجود ہیں، جن میں سے 16.58 لاکھ جموں و کشمیر جبکہ 28,105 لداخ میں ہیں۔ پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق لداخ میں 2024 کے دوران 615 اور 2025 میں 764 راشن کارڈ حذف کیے گئے۔مرکزی حکومت نے واضح کیا کہ قومی غذائی تحفظ ایکٹ (این ایف ایس اے) کے تحت مستحق افراد کی شناخت، راشن کارڈ ہولڈرز کے ریکارڈ کی دیکھ بھال اور مستفیدین کے ڈیٹا بیس کو اپ ڈیٹ کرنے کی ذمہ داری متعلقہ ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے۔وزارت نے بتایا کہ راشن کارڈ عموماً دوہرے یا غیر مستحق اندراج، ای-کے وائی سی میں تضادات، مستفیدین کی وفات اور خاندانوں کی مستقل نقل مکانی کی بنیاد پر منسوخ کیے جاتے ہیں۔تاہم حکومت نے زور دے کر کہا کہ صرف ای-کے وائی سی مکمل نہ کرنے یا آدھار کی تصدیق نہ ہونے کی بنیاد پر کسی بھی راشن کارڈ کو منسوخ نہیں کیا گیا۔وزارت نے مزید لوک سبھا کو آگاہ کیا کہ راشن کارڈوں کی غلط یا بلاجواز منسوخی سے متعلق حکومت کو کوئی مخصوص شکایت یا رپورٹ موصول نہیں ہوئی ہے۔










