dooran.in

مودی سرکارکے دور وادی کشمیر کی صورتحال میں نمایاں بہتری

کیا راہل گاندھی بدامنی پیدا کرنا چاہتے ہیں؟:انوراگ ٹھاکر

سری نگر//مرکزی وزیراطلاعات ونشریات انوراگ سنگھ ٹھاکر نے جموں وکشمیر کے حالات کوپُرامن قرار دیتے ہوئے سوالیہ اندازمیں کہاہے کہ کیا راہل گاندھی کشمیروادی میں بدامنی پیداکرناچاہتے ہیں ۔جے کے این ایس مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق مرکزی وزیر برائے کھیل وامور نوجوانان نیز اطلاعات ونشریات انوراگ سنگھ ٹھاکر نے بدھ کونئی دہلی میں نامہ نگاروں کو بتایاکہ جموں و کشمیر میں حالات پرامن ہیں،اوررواں سال 1.6کروڑ سیاحوں نے جموں و کشمیر کا دورہ کیا ہے، جو اپنے آپ میں ایک ریکارڈ ہے۔انہوںنے کہاکہ اب سیاح جموں و کشمیر کے ہر کونے کا دورہ کر سکتے ہیں، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جموں و کشمیر میں حالات میں بہتری آئی ہے۔ پتھراؤ کا کوئی واقعہ نہیں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ آج کوئی بھی جموں و کشمیر کے کسی بھی حصے میں ترنگا لہرا سکتا ہے کیونکہ نریندر مودی حکومت نے جموں و کشمیر میں آرٹیکل370 اور آرٹیکل35 اے کو ختم کر دیا ہے۔ انوراگ سنگھ ٹھاکر نے سوالیہ انداز میں کیا راہل گاندھی وہاں جا کر ماحول خراب کرنا چاہتے ہیں؟۔یادرہے راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا، جو ستمبر میں کنیا کماری سے شروع ہوئی تھی، اگلے ماہ کشمیر میں ختم ہونے والی ہے۔مرکزی وزیراطلاعات ونشریات انوراگ سنگھ ٹھاکر نے راہل گاندھی کو1992 میں بی جے پی کے اس وقت کے صدر مرلی منوہر جوشی اور نریندر مودی کی طرف سے نکالی گئی ایکتا یاترا کی یاد دلائی، جس نے سری نگر کے لال چوک پر قومی ترنگا لہرایا تھا۔انہوںنے کہاکہ اس وقت یاترا کی کافی مخالفت ہوئی تھی۔ دہشت گردی کے حملے ہوئے، فائرنگ کے واقعات ہوئے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ کانگریس کی حکومت تھی۔بی جے پی لیڈر نے2011 میں بھارتیہ جنتا یووا مورچہ کے صدر کے طور پر ان کی طرف سے نکالی گئی ترنگا یاترا کو بھی یاد کیا۔انوراگ ٹھاکر نے کہاکہ لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے اس وقت کے قائدین، سشما سوراج اور ارون جیٹلی اور مجھے جیل میں ڈال دیا گیا تھا کیونکہ کانگریس،نیشنل کانفرنس کی حکومت نے ترنگا یاترا کی مخالفت کی تھی۔انہوں نے کہا کہ جب آرٹیکل 370 اور 35اے ابھی بھی نافذ تھا تب چیزیں مشکل تھیں۔ انوراگ سنگھ ٹھاکرنے مزید کہا کہ مودی حکومت کے تحت وادی کشمیر کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے۔