منشیات اسمگلنگ اور ملی ٹنسی گٹھ جوڑ کے بڑے چیلنج کاتوڑ:کثیر الجہتی حکمت عملی

1200مقدمات درج ،2022کے 11مہینوںمیں 2000ملزمان گرفتار

سری نگر//منشیات اسمگلنگ اور ملی ٹنسی گٹھ جوڑ کے بڑے چیلنج کا جموں وکشمیر پولیس اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوںنے حالیہ برسوںمیں کامیابی سے مقابلہ کیاہے جبکہ سال2022کے پہلے11مہینوںکے دوران منشیات اسمگلروں کیخلاف 1200مقدمات درج کئے گئے اورتقریباً2000ملزمان کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ۔درجنوں منشیات فروشوں کوپبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت جیلوںمیں بند کردیاگیاہے ۔جے کے این ایس کے مطابق جموں وکشمیر پولیس معاشرے بالخصوص نوجوان نسل کومنشیات کی لعنت سے بچانے کیلئے کثیر الجہتی حکمت عملی پرعمل پیراہے۔سرحدپار سے منشیات اسمگلنگ کاتوڑکرنے کیلئے پولیس نے دیگرسیکورٹی ایجنسیوں کیساتھ ملکر کامیاب کارروائیاں انجام دی ہیں ،جسکی ایک اہم کڑی کے بطور سرحدی علاقوں سے منشیات کی اسمگلنگ کوناکام بنانے کیلئے اطلاعاتی نیٹ ورک کومضبوط اور فعال بنایاگیاہے ۔ایک رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ جموں و کشمیر میں ملی ٹنسی سے نمٹنے کے لئے اٹھائے گئے اقدامات کیساتھ، پاکستان کے زیر اہتمام نارکو ملی ٹنسی خطے میں سیکورٹی ایجنسیوں کے لئے ایک اور بڑا چیلنج بن کر ابھری ہے۔سرحدپار سے اسمگل کی جانے والی منشیات کامقصد اس کوفروخت کرکے ملی ٹنسی کی سرگرمیوں کیلئے فنڈس کودستیاب رکھنے کیساتھ ساتھ کشمیری نوجوانوں کونشے کی لت کاغلام بناناہے ۔رپورٹ میں حکام کاحوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ جموں کشمیر میں سیکورٹی ایجنسیوں کے لیے نارکو عسکریت پسندی ایک اور بڑا چیلنج بن کر اُبھری ہے۔حکام کہتے ہیں کہ ایجنٹوںکے ذریعے منشات کی اسمگلنگ کیساتھ ساتھ پاکستان ڈرونز کے ذریعے بھی سرحدی علاقوںمیں منشیات کے پیکٹ گرانے کی پالیسی پرعمل پیرا ہے جبکہ ڈرونز کوہتھیار گرانے کیلئے بھی استعمال کیا جاتاہے۔تاہم، حکومت نے منشیات کے استعمال میں اضافے کے پیش نظر جموں وکشمیرمیں نشہ چھڑانے کے10 مراکز قائم کئے ہیں، جن میں سری نگر اور جموں میں 2 بڑے سہولیاتی مراکز موجود جبکہ ہر ضلع میں مستند ڈاکٹروں اور مشیروں کیساتھ ایک کونسلنگ سنٹر بھی قائم کئے گئے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیاکہ نشے کے استعمال کے بارے میں بیداری پھیلانے کے لئے سیمیناروں، ورکشاپوں اور عوامی لیکچرز کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2019 کے بعد ملی ٹنٹوں کی صفوں میں شامل ہونے والے مقامی نوجوانوں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے۔حکام کے مطابق، ملی ٹنٹوں کی صفوں میں مقامی بھرتی صفر پر آ گئی ہے۔ دوسری طرف لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے اُس پار سے دراندازی کم ترین سطح پر ہے کیونکہ عسکریت پسندوں کو فوجیوں کی تعیناتی اورسخت نگرانی کی وجہ سے لائن عبور کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیاکہ حکومت کی طرف سے امن مخالف عناصر کے خلاف کی گئی فیصلہ کن کارروائی نے ہمالیہ کے علاقے میں عسکریت پسندی کی کمر توڑ دی ہے۔رپورٹ کے مطابق جموں وکشمیر پولیس نے منشیات کی اسمگلنگ کے سلسلے میں تقریباً 1200 مقدمات درج کئے ہیں اور2022 کے پہلے 11 مہینوں میں اب تک 2000 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔