engineer rashid

ملی ٹنسی فنڈنگ کیس میں پانچ سال سے زائد عرصہ تک نظر بند انجینئر رشید آخر کار تہاڑ جیل سے رہا

میری لڑائی عمر عبداللہ سے بڑی ، عوام کو متحد کرنے کیلئے واپس جائیں گے نہ کہ انہیں تقسیم کرنے کیلئے / انجینئر رشید

سرینگر// ملی ٹنسی فنڈنگ کیس میں دہلی کے تہاڑ جیل میں نظر بند عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ اور رکن پارلیمان برائے بارہمولہ انجینئر رشید 5سال سے زائد عرصہ کے بعد عبوری ضمانت پر جیل سے باہر آئیں ۔ جیل سے باہر آتے ہی انہوں نے کہا کہ وہ آخری سانس تک جموں کشمیر میں وزیر اعظم نریندر مودی کے نظریہ کیخلاف لڑیں گے اور کہا کہ میں اپنے لوگوں کو مایوس نہیں ہونے دوں گاجبکہ عہد کرتا ہوں کہ میں وزیر اعظم مودی کے نئے کشمیر کے بیانیے کا مقابلہ کروں گا، جو مکمل طور پر ناکام ہو گیا ہے۔ سی این آئی کے مطابق دہلی کی پٹیالہ ہاوس عدالت کی جانب سے عبوری ضمانت دینے کے بعد لوک سبھا ممبر اور عوامی اتحادپارٹی کے سربراہ انجینئر رشید آخر کار پانچ سال کے طویل عرصہ کے بعد جیل سے رہا ہو گئے ۔ تہاڑ جیل کے باہر ان کے دو بیٹے اور پارٹی کے ترجمان انعام النبی انہیں لینے کیلئے انتظار میں تھے ۔ اس موقعہ پر جیل گیٹ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے انجینئر شیخ عبدالرشید نے کہا کہ وہ وزیر اعظم نریندر مودی کے نئے کشمیر کے بیانیے اور مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے خلاف آخری سانس تک لڑیں گے۔انہوں نے کہا ’’وزیر اعظم مودی کے نئے کشمیر کے بیانیے اور کشمیر کے مسئلہ کا پرامن حل کے خلاف آخری سانس تک لڑیں گے‘‘ ۔ انجینئر رشید نے کہا ’’میں آپ کو بتاتا چلوں کہ پی ایم مودی کا نیا کشمیر کا بیانیہ بری طرح ناکام ہوگیا ہے۔ یہ میرے حلقے کے لوگوں نے 4 جون کو ثابت کر دیا ہے۔ میرے لیے ووٹ دراصل مودی کے نئے کشمیر کے بیانیے کے خلاف ریفرنڈم تھا جو ناکام ہو گیا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا ’’میں پی ایم مودی کے نئے کشمیر کے بیانیے اور مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے خلاف آخری سانس تک لڑوں گا‘‘۔نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے انجینئر رشید نے کہا کہ عمر کرسی کے لیے لڑ رہے ہیں۔ رشید نے کہا ’’ میری لڑائی اپنے لوگوں کے لیے ہے۔ میری لڑائی اس سے بہت بڑی ہے جس کے لیے عمر عبداللہ لڑ رہے ہیں۔ لندن میں پانچ سال گزارنے اور اس وقت تہاڑ جیل میں گزارنے میں فرق ہے جہاں قیدی طبی امداد کے لیے ترستے ہیں۔ ‘‘ انہوں نے کہا کہ وہ یہ نہیں بھول سکتے کہ تہاڑ جیل میں طبی امداد نہ ملنے پر الطاف احمد فنتوش کی موت کیسے ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی طرح درجنوں کشمیری قیدی ہیں جنہیں طبی امداد کی ضرورت ہے۔شمالی کشمیر کے رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ وہ عوام کو متحد کرنے کے لیے واپس جائیں گے نہ کہ انہیں تقسیم کرنے کیلئے ۔ رشید نے کہا ’’ اگر یہ جرم ہے تو مجھے بار بار اس جرم کا ارتکاب کرنے پر فخر ہے۔ اگر مجھے اس جرم کے لیے اپنی پوری زندگی تہاڑ میں گزارنی پڑے تو میں تیار ہوں۔ ‘‘ انہوں نے کہا ’’ میں اپنے لوگوں کا استحصال نہیں کروں گا۔ نوجوانوں کو تعلیم حاصل کرنے دیں، تاجروں کو کاروبار کرنے دیں، سیاست ہم پر چھوڑ دیں۔‘‘