مشیر بٹھناگر مء جموں میں 10 روزہ نمائش ’’ گاندھی شلپ بازار ‘‘ کا افتتاح کیا

جموں //لفٹینٹ گورنر کے مشیر راجیو رائے بٹھناگر نے باہو پلازہ گاندھی نگر میں شاندار دستکاری کی 10 روزہ نمائش اور فروخت ’’ گاندھی شلپ بازار ‘‘ کا افتتاح کیا ۔ مائش کا اہتمام دیہی آرٹیسن ویلفئیر سوسائٹی نے کیا ہے اور اس کی سرپرستی ڈیولپمنٹ کمشنر دستکاری ، وزارت ٹیکسٹائل حکومت ہند نے کی ہے ۔ رکاء سے خطاب کرتے ہوئے مشیر بٹھناگر نے کہا کہ یہ شلپ بازار جموں میں منعقد ہونے والا اپنی نوعیت کا پہلا پروگرام ہے اور اس لئے یہ ہندوستان بھر کے دیہی کاریگروں کو عام لوگوں کے سامنے اپنی مصنوعات کی نمائش کیلئے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کرے گا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ نمائش کاریگروںکی معاشی ترقی میں بھی معاون ثابت ہو گی ۔ شیر نے مزید کہا کہ دستکاری ہمارے شاندار ثقافتی ورثے کا حصہ ہے اور ہماری صدیوں پرانی روایات اور اقدار کی عکاسی کرتی ہے جس کی وجہ سے ہمارا ملک دُنیا بھر میں جانا جاتا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ تقریب ہمارے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے ’ ووکل فار لوکل ‘‘ اور ’ آتم نربھر بھارت ‘ کے وژن کی عکاسی کرتی ہے ۔ دستکاری کے شعبے کی ترقی کیلئے حکومت کی مختلف سرکاری مداخلتوں کے بارے میں روشنی ڈالتے ہوئے مشیر بٹھناگر نے کہا کہ جموں و کشمیر انتظامیہ جموں و کشمیر کے کاریگروں کو ہنر مند بنانے کیلئے مختلف تقریبات اور تربیتی کیمپوں کا انعقاد کر رہی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ کاریگروں کو ڈیزائن ، مارکیٹنگ کے ساتھ ساتھ مطلوبہ ہنر اور تکنیک کے حصول میں مدد کی جا رہی ہے ۔ س موقع پر مشیر بٹھناگر نے اس نمائش میں حصہ لینے کیلئے ہندوستان کے مختلف علاقوں سے آنے والے کاریگروں کی بھی تعریف کی ۔ سسٹنٹ ڈائریکٹر ، ڈیولپمنٹ کمشنر دستکاری دفتر جموں و کشمیر امبیکا سمبیال نے اپنے خطاب میں دستکاری کی مرکزی وزارت کی طرف سے دستکاریوں کی ترقی کیلئے شروع کئے گئے ہینڈ ہولڈنگ اقدامات پر روشنی ڈالی ۔ مائش کے منتظم راجیو پنڈتا نے اپنے خطبہ استقبالیہ میں 10 روزہ نمائش کے وسیع خاکے کے بارے میں ایک مختصر خاکہ پیش کیا اور کہا کہ اس تقریب میں ملک بھر سے تقریباً 100 کاریگر حصہ لے رہے ہیں ۔ مشیر نے کاریگروں کے مختلف اسٹالز کا بھی معائینہ کیا اور ان کے دستکاری اور تکنیک کے بارے میں ان سے بات چیت کی ۔ اس موقع پر دیگر کے علاوہ منیجنگ ڈائریکٹر ہینڈ لوم اینڈ ہینڈی کرافٹ کارپوریشن جے اینڈ کے ، جوائینٹ ڈائریکٹر سنٹرل بیورو آف کمیونیکیشن ، افسران ، بڑی تعداد میں مقامی لوگ اور کاریگر بھی موجود تھے ۔