سرینگر//لفٹینٹ گورنر کے مشیر بصیر احمد خان نے پاور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے افسران کو ہدایت دی کہ وہ کھمبے اور خار دار تاروں کو تبدیل کرنے کے عمل کو تیز کریں تا کہ سردیوں کے موسم سے پہلے ہی یہ کام مکمل ہو جائے ۔ انہوں نے یہ ہدایات سول سیکرٹریٹ میں ایک میٹنگ کے دوران جموں و کیشمیر کے دونوں ڈویژنوں میں خار دار تار اور دیگر مواد کی خریداری کے حوالے سے اہم مسائل کو حل کرنے کے دوران دی۔ اجلاس میں چیف انجینئر ( ڈسٹری بیوشن ) ، چیف انجینئر پروجیکٹس اینڈ پرکیور منٹ کشمیر ، چیف انجینئر ( ڈسٹری بیوشن ) جے پی ڈی سی ایل ، چیف انجینئر جے پی ٹی سی ایل اور چیف انجینئر پروجیکٹس اینڈ پرکیور منٹ جموں نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے میٹنگ میں شرکت کی ۔ مشیر نے جموں ڈویژن کے افسران کو ہدایت دی کہ وہ ڈبل شفٹوں میں کام کریں تا کہ خریداری کا سارا عمل 10 دن مکإ مکمل ہو جائے ۔مشیر نے افسران کو ہدایت دی کہ وہ مواد کی ضروری خریداری کریں اور کام کو مقررہ وقت کے اندر مکمل کرنے کیلئے لیبر لگائیں ۔ اس بات کو برقرار رکھتے ہوئے کہ خار دار تار کی تبدیلی کی اعلیٰ سطح پر نگرانی کی جا رہی ہے ، مشیر نے کہا کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر پیش رفت کا جائیزہ لیں گے اور اس سلسلے میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی ۔ چیف انجینئر جموں نے مشیر کو بتایا کہ 87000 کھمبے اور 12551 کلو میٹر خار دار تار کی کُل ضرورت ہے اور اس کی جگہ اس مالی سال کیلئے مقرر کی گئی ہے جس کا عمل پہلے ہی شروع ہو چکا ہے ۔ مشیر نے مزید تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت دی کہ وہ اپنے اپنے اضلاع میں کئے گئے پورے عمل کی طبعی تصدیق کریں ۔ انہوں نے افسران کو مزید ہدایت دی کہ وہ اس عمل میں پی آر آئی کو شامل کریں ۔
ٹرمپ جنگ سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنے میں مشکلات کا شکار : امریکی سینیٹر
ٹرمپ نے کینیڈا کے جھیل اونٹاریو کا نام’ جھیل امریکہ‘ رکھ دیا
بجلی کے جھٹکے دینے والے 6ہزار دستانے،ICEکا متنازعہ معاہدہ
امریکی وزارتِ تعلیم نے ٹرمپ کی ہٹلر سے مشابہت والی ویڈیو پوسٹ کردی
نیپال :سیلاب سے 470 افراد ہلاک، امدادی کارروائیاں جاری
ایران کی مشروط طور پر آبنائے ہرمز کھولنے کی تیاری
سوپر ال نینو ہو رہا ہےمضبوط کیونکہ موسمیاتی تبدیلی اس کے اثرات کو کررہاہے تیز
قومی کھیلوں کا دن: 2026 کے سب سے واضح لمحات
جلد ہی، ایف ایس ایس اے آئی پیکڈ فوڈ میں زیادہ چینی، نمک، چربی کو نشان زد کرے گا
جب فرید نے اپنا نام بتایا تو گجرات جنگلات عملے کے 5نے اس پر حملہ کیا










