مرکز نے دی جموں و کشمیر کی صنعت کیلئے 5,630 کروڑ کی بڑی منظوری

’این سی ایس ایس‘ میں مزید منتظر فہرست میں شامل صنعتی مراکزکی رجسٹریشن کا راستہ صاف

سرینگر//مرکزی حکومت کی اپیکس کمیٹی نے جموں و کشمیر میں صنعتی ترقی کے لیے نئی مرکزی شعبہ جاتی اسکیم (این سی ایس ایس) کے تحت تقریباً 5,630.75 کروڑ روپے کی دستیاب رقم استعمال کرتے ہوئے پہلے سے رجسٹرڈ 918 یونٹس سے زیادہ صنعتی یونٹس کو رجسٹریشن دینے کی اجازت دے دی ہے۔یو این ایس کے مطابق اپیکس کمیٹی کے اس فیصلے سے این سی ایس ایس کے تحت رجسٹریشن کے منتظر اہل صنعتی یونٹس کو بڑی راحت ملنے کی توقع ہے۔ اس سلسلے میں مرکزی حکومت کی اپیکس کمیٹی نے جموں و کشمیر انتظامیہ کو باضابطہ طور پر آگاہ کردیا ہے۔سرکاری مواصلت کے مطابق این سی ایس ایس کے تحت تقریباً 5,630.75 کروڑ روپے دستیاب ہوسکتے ہیں۔ اس میں تفصیلی منصوبہ رپورٹس میں تجویز کردہ سرمایہ کاری اور پلانٹ و مشینری میں ہونے والی حتمی حقیقی سرمایہ کاری کے درمیان 4,551.01 کروڑ روپے کا فرق اور اسکیم کے منظور شدہ مجموعی بجٹ میں سے دستیاب 1,079.74 کروڑ روپے شامل ہیں۔اپیکس کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ یہ دستیاب رقم پہلے سے رجسٹرڈ 918 یونٹس سے زیادہ یونٹس کو رجسٹریشن دینے کے لیے استعمال کی جاسکتی ہے۔کمیٹی نے یہ بھی واضح کیا کہ جی ایس ٹی کی شرحوں میں کمی کے باعث متوقع بچت میں سے تقریباً 3,500 کروڑ روپے حاصل ہوئے ہیں۔ تاہم جی ایس ٹی سے متعلق اس بچت کو مزید صنعتی یونٹس کی رجسٹریشن کے لیے استعمال کرنے پر حتمی فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ نئے رجسٹرڈ یونٹس کی جانب سے پلانٹ اور مشینری میں کی جانے والی حقیقی سرمایہ کاری کی بنیاد پر مزید بچت کا بھی جائزہ لینے کی ہدایت دی گئی ہے۔سرکاری مواصلت میں کہا گیا ہے کہ انتظار کی فہرست میں شامل اہل یونٹس کو وہی رجسٹریشن طریقہ کار اختیار کرتے ہوئے رجسٹریشن دی جاسکتی ہے جو پہلے سے نافذ ہے، تاہم اسکیم کے تحت حکومت کی مجموعی مالی ذمہ داری 28,119 کروڑ روپے کے منظور شدہ مجموعی بجٹ سے تجاوز نہیں کرنی چاہیے۔اپیکس کمیٹی نے مختلف مراعاتی اجزا کے درمیان فنڈز کی منتقلی اور ازسرنو تخصیص کی بھی اجازت دی ہے۔ اس میں کیپٹل انویسٹمنٹ انسینٹیو، کیپٹل انٹرسٹ سب وینشن، جی ایس ٹی سے منسلک مراعات اور ورکنگ کیپیٹل انٹرسٹ سب وینشن شامل ہیں۔ تاہم یہ ردوبدل اسکیم کی مجموعی منظور شدہ رقم میں کسی اضافے یا تبدیلی کے بغیر کیا جائے گا۔حکام کے مطابق جموں و کشمیر حکومت کی جانب سے صنعتی یونٹس کی رجسٹریشن کے لیے پہلے سے اختیار کیا جانے والا طریقہ کار ہی جاری رہے گا۔ اس طریقہ کار کے تحت رجسٹریشن کی تاریخ کی بنیاد پر ترجیح طے کی جاتی ہے۔ رجسٹریشن کی تاریخ وہ دن تصور کی جاتی ہے جس دن درخواست کے تمام مطلوبہ دستاویزات مکمل کرکے پورٹل پر اپ لوڈ کردیئے جائیں۔یو این ایس کے مطابق متعلقہ حکام کو یہ بھی یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی ہے کہ رجسٹریشن کا پورا عمل شفاف رہے اور درخواست میں کسی کمی، غلطی یا مطلوبہ دستاویز کی عدم موجودگی کی صورت میں درخواست گزار کو مقررہ مدت کے اندر پورٹل کے ذریعے مطلع کیا جائے۔یہ فیصلہ اپیکس کمیٹی کے 11 جولائی کو نئی دہلی میں ہونے والے اجلاس کے بعد سامنے آیا ہے، جس کی صدارت مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے کی تھی۔ اجلاس میں مرکزی وزیر صنعت و تجارت پیوش گوئل، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا، مرکزی داخلہ سیکریٹری گووند موہن، چیف سیکریٹری اتل ڈلو، محکمہ صنعت و تجارت جموں و کشمیر کے کمشنر سیکریٹری وکرم جیت سنگھ اور وزارت داخلہ و صنعت و تجارت کے دیگر اعلیٰ افسران نے شرکت کی تھی۔این سی ایس ایس کو یکم اپریل 2021 کو جموں و کشمیر میں صنعتی ترقی کو فروغ دینے کے مقصد سے شروع کیا گیا تھا۔ اسکیم کے تحت مجموعی طور پر 28,400 کروڑ روپے کا پیکیج مقرر کیا گیا تھا اور اسے 2037 تک جاری رہنا ہے۔جموں و کشمیر انتظامیہ نے مرکز سے اسکیم کے تحت مراعاتی رقم کو بڑھا کر 75,000 کروڑ روپے کرنے کی درخواست بھی کی ہے تاکہ یونین ٹیریٹری میں رجسٹریشن کے خواہش مند مزید صنعتی یونٹس کو شامل کیا جاسکے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اسکیم کے لیے صنعتکاروں کی جانب سے غیر معمولی ردعمل سامنے آیا ہے اور بڑی تعداد میں مزید تجاویز موصول ہوئی ہیں۔این سی ایس ایس کے تحت رجسٹرڈ صنعتی یونٹس 2037 تک مراعات سے فائدہ اٹھا سکیں گے اور جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں اپنے کاروباری منصوبے قائم کرکے روزگار کے مواقع اور دیگر معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیں گے۔مرکزی حکومت نے اپریل 2021 میں جموں و کشمیر کے لیے 28,400 کروڑ روپے کی صنعتی پالیسی متعارف کرائی تھی، جس کا مقصد خطے میں صنعتی سرگرمیوں کو فروغ دینا اور تقریباً تین لاکھ روزگار کے مواقع پیدا کرنا تھا۔ بعد ازاں توقع ظاہر کی گئی کہ پالیسی کے ذریعے پیدا ہونے والی ملازمتوں کی تعداد مقررہ ہدف سے بھی تجاوز کرسکتی ہے۔