محکمہ صحت میں میں اٹیچ منٹس کی منسوخی۔دہی آبادی کا سرکاری حکم نامے پر اظہار اطمنان

ترال میں تاحال حکمنامے پر عمل در آمد نہیں ہوا۔تحصیل کے بیشتر طبی مراکز میں طبی عملے کی قلت

سرینگر//گزشتہ مہینے کی29تاریخ کو محکمے صحت نے ایک حکم نامہ زیر نمبر53 JKتاریخ29.07.2022 جاری کیا ہے جس میں محکمے میں کام کر رہے طبی و نیم طبی عملے جن کو وقت وقت پر ایک جگہ سے دوسری جگہ اٹیچ کیا تھا۔اس سلسلے میں میں چیف میڈیکل افسر،میڈیکل سپر انٹنڈنٹ ،میڈیکل افسر،کو ہدایت دی گئی کہ محکمے کے تمام اٹیچ منٹس کو منسوخ کر کے حکمنامے کو فوری طور پر لاگوںکرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ تاہم پانچ روز گزر جانے کے باجود علاقے میں کسی بھی ہسپتال میں تبدیل عملے کو واپس نہیں لایا گیا ہے جس پر مقامی لوگوں نے شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔دستیاب جانکاری کے مطابق علاقے کے سب سے قدیم PHC لالپورہ کہلیل جہاں 2ایم بی ایس ڈاکٹر صاحبان گزشتہ کئی سال سے ہسپتال میں نہیں ہے جس کی وجہ سے مقامی آبادی کو طرح طرح کے مشکلات سے دو چار ہیں ۔ ریاض احمد نامی ایک شہری نے بتایا انہوں نے سرکاری حکم نامے کو دیکھ کر خوشی کا اظہار کیا تھا تاہم تاحال اس حکم نامے کو باقی احکامات کی طرح لاگوں نہیں کیا گیا ہے ۔اسی طرح این ٹی پی ایچ سی ہاری ترال منظور شدہ پوسٹ ایک ڈاکٹر تعینات ہے جو کسی اور ہسپتال میں کام کر رہا ہے۔اس کو واپس بھی نہیں لایا گیا ہے۔ اسی طرح این ٹی پی ایچ سی نور پورہ ،این ٹی پی ایچ سی مونگہامہ،این ٹی پی ایچ سی چندی گام،این ٹی پی ایچ سی ستورہ میں کے طبی اداروں میں ایک ایک ڈاکٹر کو چند سال قبل اٹیچ کیا گیا تھا جن کو تاحال واپس نہیں لایا گیا ہے ۔اسی طرح این ٹی ایچ سی آری پل جہاں دو ایک ایم بی ایس اور ایک این آر ایچ ایم ڈاکٹر موجود ہے ۔اس کے علاوہ دیگر طبی مراکز میں بھی اسی طرح کی صورتحال ہے ۔علاقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے بتایا کہ انہوں نے سرکاری حکم نامے کو دیکھ کرخوشی کا اظہار کیا ہے تاہم تاحال زمینی صورتحال پر اس حکم نامے کو تبدیل نہیں کیا گیا ہے ۔ ترال کی آبادی کا کہنا ہے کہ اگر دہی علاقوں میں سرکاری کی طرف سے تعینات کردہ طبی عملے کو اپنے اپنے علاقوں میں تعینات کیا جائے گا تو یہاں دہی آبادی کو دوسرے قصبہ جات کی طرح رخ نہیں کرنا پڑیگا۔ لوگوں نے ایل جی جموں و کشمیر سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔