کہیں پائپیں نہیں تو کہیں موٹر نہیں،کہیں ارضی کا قضیہ تو کہی ٹھیکداروں کے ساتھ تضاد
سرینگر/ //وادی میں واجب الادا رقومات واگزار ہونے کے باوجود423پی ایچ ای اسکیموں میں73اسکیمیں ہی مکمل ہوچکی ہے اور باقی ماندہ زیر التواء ہے۔ وائس آف انڈیا کے مطابق وادی کے زیر التوا پروجیکٹوں میں کئی پائپوں کو بچھایا گیا ہے اور باقی کام پائے تکمیل کو نہیں پہنچا تو کئی موٹر نصب کئے اورتعمیراتی کام ادھورا ہے۔کئی ایک پروجیکٹوں میں مالکان اراضی کے ساتھ تضادہیں تو کہی ایک پر نامعلوم وجوہات کی بنیاد پر کام بند ہیں۔ اعداد شمار کے مطابق ضلع اننت ناگ کے بجبہاڑہ ڈویڑن میں30زیر التواء پروجیکٹوں میں صرف ایک پروجیکٹ ہی پائے تکمیل پہنچا اور110کروڑ روپے کی رقم منظور ہوئی جبکہ قاضی گنڈ ڈویڑن میں24اسکیموں میں7کو مکمل کیا گیا،اور27کروڑ43لاکھ روپے کی رقم منظور ہوئے۔ضلع کولگام میں28اسکیموں میں8کو مکمل کیا گیا جن کیلے46کروڑ86لاکھ روپے منظور ہوئے جبکہ پلوامہ کے اونتی پورہ ڈویڑن میں14میں سے ایک بھی اسکیم مکمل نہیں ہوئی اور28لاکھ53ہزار روپے کے بقایا رقومات کو منظو کیا گیاا۔اعداد شمار کے مطابق پلوامہ ڈویڑن میں26میں8اسکیمیں پائے تکمیل پہنچی جن کیلئے منظور شدہ بقایاجات61کروڑ75لاکھ روپے فنڈ منظور ہوئے جبکہ ضلع شوپیاں میں11میں سے کوئی بھی اسکیم مکمل نہیں ہوئی اور11کروڑ30لاکھ روپے واگزار ہوئے اور بڈگام کے چاڈورہ ڈویڑن میں بھی8میں سے کوئی بھی اسکیم پائے تکمیل نہیں پہنچی اور26کروڑ روپے کا بقایاجات فنڈ منظور ہوئے تاہم بڈگام ڈویڑن میں26میں سے3اسکیموں کو مکمل کیا گیااور31کروڑ روپے منظور ہوئے۔ ضلع سرینگر میں ماسٹر پلان ڈویڑن میں7میں سے کوئی بھی اسکیم مکمل نہیں ہوئی اور44کرور65لاکھ روپے کا فنڈ منظورکیا گیا جبکہ رورل واٹر سپلائی میں 5میں سے ایک بھی اسکیم پائے تکمیل تک نہیں پہنچی اور6کروڑ93لاکھ روپے کا رقم منظورکیا گیا جبکہ واٹر ورکس ڈویڑن سرینگر میں بھی5میں سے ایک بھی اسکیم مکمل نہیں ہوئی جن کیلئے21کروڑ روپے کی رقم منظور کی گئی۔ ضلع گاندربل میں رورل واٹر سپلائی ڈویڑن میں اگرچہ بقایات جات110کروڑ روپے کی رقم منظور کی گئی تاہم35میں سے ایک بھی اسکیم مکمل نہیں ہوئی جبکہ صوبہ کشمیر کیلئے گراونڈ واٹر ڈویڑن کے تحت4میں سے ایک بھی اسکیم مکمل نہ ہوسکی جن کیلئے36کروڑ70لاکھ روپے کی رقم منظور کی گئی تھی۔ ضلع بارہمولہ میں بھی144اسکیموں میں کوئی بھی اسکیم مکمل نہیں ہوئی اور104کروڑ43لاکھ روپے منظور کئے گئے جبکہ سوپور ڈویڑن میں15میں سے2اسکیمیں مکمل ہوئی جن کیلئے43کروڑ26لاکھ روپے کی رقم منظور کی گئی،تاہم ہائیڈرولک ڈویڑن اوڈی میں18اسکیموں میں کوئی بھی اسکیم انجام تک نہ پہنچ سکی اور20کروڑ22لاکھ روپے ان کیلئے منظور کئے گئے تھے۔ بارہمولہ میں ایف بی آئی ٹنگمرگ ڈویڑن میں4میں سے کوئی بھی اسکیم مکمل نہ ہوسکی اور5کروڑ35لاکھ روپے کی رقم منظور کی گئی،تاہم ضلع بانڈی پورہ کے ہائیڈرولک ڈویڑن میں9میں سے ایک اسکیم مکمل ہوئی اور سپیشل ڈویڑن گریز میں17میں سے ایک اسکیم بھی مکمل نہیں ہوئی جن کیلئے19کروڑ50لاکھ روپے کو منظور کیا گیا تھا۔ ضلع کپوارہ میں33میں سے صرف ایک اسکیم مکمل ہوئی اور86کروڑ60لاکھ روپے کا فنڈ منظور ہوا تھا جبکہ ہنڈوارہ ڈویڑن میں38میں سے ایک بھی اسکیم مکمل نہیں ہوئی اور ان کیلئے94کروڑ24لاکھ روپے کی رقم منطور ہوئی تھی۔ سپیشل سب ڈویڑن ٹنگڈار میں ایک اسکیم تھی جو مکمل نہ ہوسکی جس کیلئے7کرور43لاکھ روپے کی رقم منطور کی گئی تھی۔سرکار کا کہنا ہے کہ گزشتہ4برسوں میں زیر التواء پروجیکٹوں کے منصوبے پروگرام کے تحت 1984 کروڑ روپے کے 1193 منصوبے مکمل کیے گئے۔










