سری نگر//گزشتہ دو برسوں سے لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا کی قیادت میں اِنتظامیہ نے ایک ایسا نظام قائم کیا ہے جو عام لوگوں کی فلاح و بہبود کے لئے کام کر رہا ہے ۔حکومت نے یہاں کے لوگوں کے معاشی حالات کو بہتر بنانے کے لئے متعدد اقدامات شروع کئے ہیں جن اقدامات سے کافی بہتری آئی ہے۔حکومت نے گزشتہ تین برسوں میں نوجوانوں کو اَپنا کاروبار قائم کرنے میں مدد کرنے کے لئے متعدد خود روزگار سکیمیں متعارف کی ہیں۔مشن یوتھ جموںوکشمیر اِنتظامیہ کی جانب سے سب سے زیادہ فائدہ مند اقدامات میں سے ایک ہے۔خود روز گار حکومت کا ترجیحی شعبہ بن گیا ہے اور مشن یوتھ اس پر کام کرہا ہے ۔ نیتی آیوگ اور مختلف قومی سروے کرنے والی ایجنسیوں کی مختلف رِپورٹوں نے جموںوکشمیر کو قومی اوسط سے بہت آگے دِکھایا اور اسے صاف عیان ہے کہ جموںوکشمیر ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔دریں اثناء لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے مالی برس 2022-23ء کے جموںوکشمیر بجٹ کی ستائش کی اور کہا کہ یہ جموںوکشمیر کے لوگوں کی ضروریات اور خواہشات کو پورا کرے گا۔اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ 2022-23ء کے بجٹ کا بنیادی ہدف جموںوکشمیر یوٹی کے ہرعلاقے کی اقتصادی ترقی ہے ۔اُنہوں نے کہا،’’بجٹ 2022-2023ء جموںوکشمیر کے لوگوں کی ضروریات اور خواہشات کو پورا کرنے والا ہے ۔ یہ ترقیاتی بجٹ ہے اور ہر علاقے کی معاشری ترقی اِس بجٹ کا بنیادی ہدف ہے۔ ‘‘یہ بات قابل ذِکر ہے کہ جموںوکشمیر ضلع گڈ گورننس اِنڈکس شروع کرنے والا پہلا ملک ہے ۔ گزشتہ 6سے 7مہینوں میں سیاحت نے کافی فروغ ملا ہے ۔ گزشتہ برس کے دوران 11,578 بھرتیاں کی گئی جو تین برسوں میں کُل30,000 تک پہنچ گئیں۔ جموںاور سری نگر کے ہوائی اڈوں پر اَب تک کا سب سے زیادہ ہوائی ٹریفک رہا ہے ۔ تمام 4,290 پنچایتوں میں ،8 سے 10 کو چھوڑ کر جہاں زمین دستیاب نہیں ہے، ہر پنچایت میں کھیل کا میدا ن ہے۔حکومت نے ہنرمندی اَفرادی قوت کی طلب اور رسد میں خلاکو پُر کرنے اور جموںوکشمیر مین پیشہ ور اَفراد اور تکنیکی مہارت کی نشو و نما کے لئے ایک مضبوط ماحول پیدا کرنے کے لئے نمایاں آرگنائزیشنوں جیسے آئی سی آئی سی آئی فائونڈیشن ، ٹاٹا ٹیکنالوجیز لمٹیڈ ، پرائمل فائونڈیشن ، وپرو ،بینکنگ اور مالیاتی خدمات، ڈیجیٹل مارکیٹنگ ، میڈیا مینجمنٹ وغیرہ جیسے اعلیٰ روزگار صلاحیت رکھنے والے شعبوں میں نوجوانوں کی مہارت کو اَپ گریڈ کرنے پر کام کرنے کے لئے شامل کیا ہے ۔ دربارمؤو کوروکنے کے ایک اور اقدام نے دو سالہ پریکٹس کو ختم کر کے ہر برس 400 کروڑ روپے کے اخراجات کو بچایا ہے ۔ جموںوکشمیر میں قوامی شاہراہوں اور ٹنلوں پر 1,000 کروڑ روپے کے کام جاری ہیں جبکہ جموں سے سری نگر کا فاصلہ 10گھنٹے سے کم کر کے ساڑھے پانچ گھنٹے کیا گیا ہے اور کچھ کاموں کی تکمیل کے بعد یہ مزید کم ہو کر چار گھنٹے رہ جائے گا۔ جموںوکشمیر میں ریونیو جنریشن میں بھی نمایاں اِضافہ ہوا ہے ۔ جی ایس ٹی ، ایکسائز ، ایس ٹی اور دیگر ٹیکسوں میں ٹیکس کی مناسب منصوبہ بندی ،مؤثر نگرانی اور ٹیکس قوانین کے مؤثر عمل آوری کی وجہ سے 25 فیصد اِضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کا مقصد نظام میں شفافیت اور جواب دہی لانا ہے جس نے جموںوکشمیر میں ریونیو کی وصولی کی رفتار کو بڑھانے میں اہم کردار اَدا کیا۔










