کہا، کھیل زِندگی کا سب سے ایماندار اُستاد ہے جو نوجوانوں میں نظم و ضبط ، اتحاد اور قوم کی تعمیر کا جذبہ پیدا کرتا ہے
سری نگر//لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہانے ’قومی یومِ کھیل‘ کے موقعہ پر ہاکی کے مایۂ ناز کھلاڑی میجر دھیان چند کو زبر دست خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اُنہوں نے ان کی شاندار کارکردگی کو یاد کرتے ہوئے میجر دھیان چند کو ہندوستان کی عظیم اور دیرپا علامتوں میں سے ایک قرار دیاجن کی غیر معمولی صلاحیت نے پوری دُنیا کو ہندوستان کی بے پناہ کھیلوں کی صلاحیتوں کا تسلیم کرنے پر مجبور کیا۔اِس موقعہ پراُنہوں نے اَپنے خطاب میں کہا کہ میجر دھیان چند کی ہاکی سٹک کا ہرسٹروک نظم و ضبط، لگن اور قوت اِرادی کی علامت ہے۔اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ کھیل صرف تمغے جیتنے کا نام نہیں بلکہ استقامت، اتحاد اور قوم کی تعمیر کے جذبے کو پروان چڑھانے کا ذریعہ بھی ہیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا، ’’کھیل زِندگی کاسب سے ایماندار اُستاد ہے۔ کھیل کا میدان کبھی جھوٹ نہیں بولتا بلکہ یہ آپ کو صحیح طور پربتاتا ہے کہ آپ آج کہاں کھڑے ہیں اور کل بہتر بننے کے لئے آپ کو کیا کرنا ہوگا۔ کھیلوں میں کوئی شارٹ کٹ نہیں ہوتا۔ ہاکی کے میدان میں بھی بہانوں کی کوئی گنجائش نہیں۔ وہاں صرف محنت، مواقع اور آپ کے کردار کا امتحان ہوتا ہے۔اُنہوں نے کہا،’’کھیل قوم کی تعمیر کی بنیادی طاقت کو فروغ دیتے ہیں جس کی معاشرے کو ضرورت ہے۔ کھیل ایسے نوجوان تیار کرتے ہیں جو گرنے کے بعد دوبارہ اُٹھنا اور فتح کا پرچم لہرانا جانتے ہیں۔ کھیل اس جذبے اور احساس کو پروان چڑھاتے ہیں جو ہمیں اِجتماعی کامیابی پر یقین کرنا سکھاتا ہے۔‘‘منوج سِنہا نے نوجوانوں کے کردار کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ کھیل خوابوں کو پنکھ دیتے ہیں۔ اُنہوں نے جموں و کشمیر کے نوجوان کھلاڑیوں پر اعتماد کا اِظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہندوستان کے روشن مستقبل کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اُنہوں نے ایسے مستقبل کا تصور پیش کیا جہاںہر گرام پنچایت کھیلوں کی طاقت کو بروئے کار لائے، چھوٹے قصبوں کی اکیڈمیاں صلاحیتوں کو پروان چڑھائیںاور کسانوں کی بیٹیوں کو بڑے شہروں کے سنٹرز آف ایکسی لینس میں کھلاڑیوں جیسی سائنسی تربیت حاصل ہو۔اُنہوں نے یونیورسٹیوں اور تعلیمی اِداروں میں سپورٹس سائنس، سپورٹس مینجمنٹ اور تکنیکی مہارت کی اہمیت پر بھی زور دیا تاکہ مستقبل کے لئے ٹرینرز، فزیوتھراپسٹس اور سپورٹس منیجر تیار کئے جا سکیں۔ اُنہوں نے اُمید ظاہر کی کہ جموں و کشمیر نہ صرف بین الاقوامی کھیلوں کے مقابلوں میں شرکت کرے گا بلکہ ان کی میزبانی بھی کرے گا اور دُنیا کے سامنے اَپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرے گا۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا، ’’ یہ ایک ایسا عزم جو لامحدود اِمکانات سے بھرپورہے۔ گزشتہ چھ برسوں میں کھیلوں کے میدان میں ہماری کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر نوجوانوں کو لگن اور محنت کے ساتھ کھیلوں کے لئے تیار کیا جائے تو یہ خطہ ایک پورے دور میں چمپئن پیداکر سکتا ہے۔‘‘اُنہوں نے نوجوانوں سے’ 2047 کے وِکسِت بھارت‘ کی تعمیر میں اَپنا حصہ اَدا کرنے کی اپیل کرتے ہوئے زور دیا کہ چمپئن شارٹ کٹ سے نہیں ،نظم و ضبط اور محنت سے بنتے ہیں۔ اُنہوں نے کارپوریٹ اِداروں پر زور دیا کہ وہ صرف تمغے جیتنے کے بجائے ٹیلنٹ کی پہچان کے مرحلے پر کھلاڑیوں کی مدد کریں۔ اُنہوں نے کہا کہ چمپئن بنانے میں معاشرے، کوچوں، معاون عملے اور والدین سب کی مشترکہ ذِمہ داری ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے نوجوانوں کے لئے تین فرائض کا بیان کئے، انہیں مثال بن کررہنمائی کرنے، وقار کے ساتھ مقابلہ کرنے، شکست کو خوش اسلوبی سے قبول کرنے اور آنے والی نسلوں کوتحریک کا باعث بننے کی تلقین کی۔اُنہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ کھیلوں کے اتحاد کو بروئے کار لاتے ہوئے زبان اور مذہب کے اختلافات سے بالاتر ہوں۔ اُنہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ اگلی نسل کی رہنمائی اور تربیت کرتے ہوئے ’’معاشرے کو واپس دیں‘‘ اور اس کمیونٹی کا حق اَدا کریں جو ہر کھلاڑی کی معاونت کرتی ہے۔لیفٹیننٹ گورنرنے ’منشیات سے پاک مہم‘ میں نوجوانوں کی شرکت کو سراہتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں نے قوم کے لئے ایک مثال قائم کی ہے۔ اُنہوں نے اِس بات کا اعادہ کیاکہ ترقی کا پیمانہ صرف جی ڈِی پی نہیں بلکہ شہریوں کی صحت، توانائی اور اعتماد سے ہوتی ہے۔اُنہوںنے کہا، ’’ایک صحت مند ہندوستان ایک نڈر ہندوستان ہے۔ ایک کھیلوںسے بھرپور ہندوستان ایک پُر اعتماد ہندوستان ہے ۔ اور ایک پُراعتماد ہندوستان ناقابل تسخیر ہندوستان ہے۔ ہاکی کے ماہر میجر دھیان چند نے پوری دُنیا کو ایک پیغام دیا کہ اپنے مقصد کو تلاش کریں۔ آج بھی یہی ہمارا پیغام ہونا چاہیے۔ ہم جس بھی شعبے میں ہوں، خواہ کھیل کا میدان ہو، سائنس کا شعبہ ہو یا عوامی خدمت ہمیں اَپنا مقصد متعین کرناہے، اس کی طرف بڑھنا ہے اور مل کر اسے حاصل کرنا ہے۔‘‘
اِس موقعہ پرلیفٹیننٹ گورنر نے’ قومی یومِ کھیل ‘کا حلف دِلایا اور 69ویں قومی سکول گیمز میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑیوں کو اعزاز سے نوازا۔جموں و کشمیر میں کھیلوں کے فروغ کے لئے محکمہ امورِ نوجوانان و کھیل کود جموں و کشمیر اور ابھینو بندرا فاؤنڈیشن، دانی سپورٹس فاؤنڈیشن اور کامن سروسز سینٹروںکے درمیان مفاہمت ناموں کا بھی تبادلہ کیا گیا۔اِس موقعہ پرایڈیشنل چیف سیکرٹری پاور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ اشونی کمار،کمشنر سیکرٹری اَمورِ نوجوان و کھیل کود ڈاکٹر شاہد اِقبال چودھری،وائس چانسلر سکاسٹ کشمیر پروفیسر نذیر احمد گنائی، صوبائی کمشنر کشمیرانشل گرگ، آئی جی پی کشمیر سوجیت کمار، ضلع ترقیاتی کمشنر سری نگر اَکشے لابرو، ڈائریکٹر جنرل اَمورِ نوجوان و کھیل کود انورادھا گپتا، سینئر حکام، ابھینو بندرا فاؤنڈیشن، دانی سپورٹس فاؤنڈیشن اور کامن سروسز سینٹر کے نمائندگان، کھلاڑیوں اور بڑی تعداد میں نوجوانوں نے سکاسٹ کشمیرکے شالیمار کیمپس میں منعقدہ تقریب میں شرکت کی۔










